حالیہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کی کشمکش میں کس کا زیادہ نقصان ہوا — یہ اعداد و شمار کا کھیل ہے، اور اعداد ہمیشہ طاقتور کے ہاتھ میں تسبیح کے دانے بن جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتا، بلکہ یہ ہے کہ انسان کب ہارا؟
آئیں ذرا پیچھے چلیں — اس وقت تک جب نہ سرحدیں تھیں، نہ پرچم، نہ ایٹمی بٹن۔ اس روئے زمین پر پہلی زندگی انسان نہیں تھی۔ ایک بے نام سا خلیہ تھا، پانی کی گود میں پلتا ہوا۔ لاکھوں برس بعد خشکی نے سانس لی، پھر جانور آئے، اور بہت دیر کے بعد ہم انسان نمودار ہوئے اور ہم آئے تو گویا اعلان کیا کہ اب کائنات ہماری جاگیر ہے۔
ہم نے فطرت کے قوانین کو بدلنے کی ٹھانی، جانوروں کو تابع کیا، دریاؤں کو موڑا، پہاڑوں کو کاٹا، اور آسمان کو ناپنے نکل پڑے۔ پھر خود ہی اپنے لیے لقب تراشا “اشرف المخلوقات”۔
کتنی لطیف ستم ظریفی ہے کہ سب سے آخر میں آنے والی مخلوق خود کو سب سے افضل قرار دے دے — اور پھر اپنی افضلیت کا پہلا ثبوت تلوار سے دے۔
ہزاروں برس سے ہم گردنیں اڑاتے آرہے ہیں۔ کبھی سکندر اعظم کی فوجیں دنیا کو روندتی ہیں، کبھی روم کی اینٹ سے اینٹ بجتی ہے، کبھی ہیروشیما اور ناگاساکی پر آگ برستی ہے اور لاکھوں زندہ انسان راکھ میں بدل جاتے ہیں اور ہر بار ہم کہتے ہیں: “یہ آخری جنگ ہوگی۔ اب امن آئے گا۔” لیکن امن شاید ہماری لغت میں ایک خوبصورت جھوٹ ہے۔
ہم نے کیمیائی ہتھیار بنائے، ایٹمی طاقت حاصل کی، میزائلوں کو براعظموں کے پار بھیجا۔ لمحہ بھر میں نیست و نابود کرنے کی صلاحیت کو ہم نے ترقی کا نام دیا۔
فائدہ کیا ہوا؟
کیا موت ختم ہوگئی؟
کیا طاقت نے توازن پیدا کیا؟
یا ہم نے صرف تباہی کو تیز رفتار بنا دیا؟
آج بھی وہی پرانی کہانی نئے عنوان کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے ایران مٹ جائے تو دنیا محفوظ ہوگی، کوئی سمجھتا ہے اسرائیل کے ختم ہونے سے نجات ملے گی، کوئی کابل کو زیر کر کے برصغیر کا نقشہ بدلنے کے خواب دیکھتا ہے۔
ہم تالیاں بجاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، اور لاشوں کی گنتی کو فتح کا پیمانہ سمجھ لیتے ہیں۔
پھر تاریخ کے حاشیے پر لکھا جاتا ہے کہ فلاں رہنما نے اتنے ہزار مارے، فلاں صدر نے اتنے شہر جلا دیے۔ نام بڑے حروف میں، لاشیں چھوٹے اعداد میں۔
کیا ہماری اوقات بس اتنی ہے کہ ہم کسی کے اقتدار کے گراف پر ایک عدد بن کر رہ جائیں؟
ہم سمجھتے ہیں کہ شیطان کوئی غیر مرئی مخلوق ہے، کہیں اندھیرے میں چھپی ہوئی۔ لیکن شاید شیطان ہماری اپنی خواہشِ اقتدار ہے، ہمارا اپنا لالچ، ہمارا اپنا خوف۔ ہم اسے باہر تلاش کرتے ہیں تاکہ اندر جھانکنے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں مذہب، نسل اور نظریات محض ملبوسات ہیں۔ اصل چہرہ مفاد کا ہے۔ جو ہمیں امن کا وعدہ دیتے ہیں، وہی ہمیں جنگ کی ضرورت سمجھاتے ہیں اور ہم،جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں بن کر رہ جاتے ہیں۔
ہزاروں برس کی تہذیب کے بعد بھی اگر ماں کی گود اجڑتی ہے، اگر خواب ادھورے دفن ہوتے ہیں، اگر بچے راکھ میں بدلتے ہیں — تو سوال یہ نہیں کہ کون جیتا۔ سوال یہ ہے کہ انسانیت کب ہاری؟
ہائے ہائے۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے زمین فتح کرلی، چاند پر قدم رکھ دیا، مگر اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے۔
شاید اصل جنگ سرحدوں پر نہیں، انسان کے اندر ہے اور جب تک وہ جنگ ہاریں گے، ہر فتح ایک اور المیہ ہی ہوگی۔ ہماری کیا اوقات ہے وہ تو جیفری اپسٹین نے دیکھا ہی دی ہے اب دیکھنے کو اور رہ کیا جاتا ہے۔ ہم اس کائنات کے سب سے بڑے شیطان ہیں۔


