ایران کے خلاف جنگ: نیو امپیریلزم، توانائی کی سیاست اور عالمی عدم استحکام /فاروق نُتکانی

ایران کے خلاف جنگ: نیو امپیریلزم، توانائی کی سیاست اور عالمی عدم استحکام
فاروق نُتکانی
عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال، معاشی مفادات اور جغرافیائی بالادستی کی کشمکش کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم اکیسویں صدی میں طاقت کے اظہار کا انداز بدل چکا ہے۔ روایتی سامراجیت کی جگہ اب ایک نیا رجحان ابھرا ہے جسے سیاسی مفکرین “نیو امپیریلزم” سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
روایتی سامراجی طاقتیں براہِ راست قبضے اور نوآبادیاتی نظام کے ذریعے وسائل پر کنٹرول حاصل کرتی تھیں۔ اس کے برعکس جدید دور میں معاشی دباؤ، پابندیاں، سیاسی تنہائی، پراکسی جنگیں اور سفارتی دباؤ جیسے ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں یہ رجحان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
توانائی کے ذخائر عالمی سیاست کا مرکزی عنصر بن چکے ہیں۔ ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک جیسے Saudi Arabia، United Arab Emirates، Qatar اور Kuwait بھی عالمی توانائی منڈی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔
Israel اور Iran کے درمیان گزشتہ چار دہائیوں سے کشیدگی جاری ہے۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے وجودی خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ ایران اسرائیلی پالیسیوں کو جارحانہ سمجھتا ہے۔ اس باہمی بداعتمادی نے پورے خطے کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
امریکہ بطور عالمی طاقت اکثر اسرائیل کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، تاہم امریکی عوام اور حکومت کے اندر بھی ایران کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال کو محض سادہ بیانیے میں سمیٹنا مشکل ہے۔
ایران کی جغرافیائی اہمیت کا ایک بڑا سبب Strait of Hormuz ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہو تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔
خصوصاً China جیسے ممالک، جو اپنی توانائی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، ایسی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اس لیے عالمی طاقتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی طرف قدم بڑھائیں۔
موجودہ عالمی حالات پہلے ہی غیر مستحکم ہیں۔ Ukraine کی جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگر مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ چھڑتی ہے تو توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، تجارتی عدم توازن اور ممکنہ عالمی مالیاتی بحران جنم لے سکتا ہے۔
تاریخی طور پر 1914 میں پہلی جنگ عظیم سے قبل بھی عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی، اتحادوں کی سیاست اور علاقائی تنازعات موجود تھے۔ آج کا منظرنامہ کئی حوالوں سے اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور خطرناک دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جنگی صلاحیتوں کو مزید مہلک بنا رہی ہیں۔
ایران کے خلاف جاری کشیدگی کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ اس کے پس منظر میں توانائی کی سیاست، جغرافیائی مفادات، علاقائی طاقت کا توازن اور عالمی حکمتِ عملی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ اگر عالمی برادری نے دانشمندی، سفارت کاری اور مکالمے کا راستہ اختیار نہ کیا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام، معاشی بحران اور وسیع تر تنازع کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
عالمی امن کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے تعاون، اور مفادات کے بجائے انسانیت کو ترجیح دی جائے۔ یہی راستہ عالمی تباہی کے خدشات کو کم کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں