مرحوم عبداللہ عزام کے فلسفے سے لے کر آج کے جدید ڈیجیٹل جہاد تک، سرحد کے دونوں اطراف موجود گروہوں نے سوشل میڈیا کو بھی اس مسابقت کا میدان بنا لیا ہے۔ داعش خراسان کا پروپیگنڈا میگزین ”صدائے خراسان” براہِ راست ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو مخاطب کرتا ہے، انہیں یہ طعنہ دیتا ہے کہ وہ قوم پرستی کی جنگ لڑ رہے ہیں نہ کہ عالمی خلافت کی۔ اس نظریاتی حملے کا جواب دینے کے لیے کالعدم ٹی ٹی پی کو زمین پر زیادہ بڑے اور زیادہ اثر انگیز حملے کرنے پڑتے ہیں تاکہ وہ اپنے حامیوں کو یہ دکھا سکیں کہ وہی ”حقیقی قوت” ہیں۔
دوسری طرف، افغان طالبان کے لیے یہ صورتحال ایک ”دو دھاری تلوار” بن چکی ہے۔ وہ ایک طرف ٹی ٹی پی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ انہیں اپنا اثاثہ اور نظریاتی اتحادی سمجھتے ہیں، لیکن دوسری طرف داعش خراسان کی بڑھتی ہوئی طاقت ان کے اپنے کنٹرول کے لیے خطرہ ہے۔ جب افغان طالبان داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہیں، تو داعش اسے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کے ”خفیہ گٹھ جوڑ” کے طور پر پیش کرتی ہے، جس سے سرحد پر موجود چھوٹے گروہوں میں بے چینی پھیلتی ہے اور وہ خود کو زیادہ نمایاں کرنے کے لیے آزادانہ کارروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔
اس سرحدی مسابقت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب یہ گروہ ”ٹیکنالوجی” میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈرون کا استعمال ہو یا جدید ترین امریکی اسلحہ جو خطے میں چھوڑا گیا، ہر گروہ یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسرے سے زیادہ مہلک ہتھیار استعمال کر کے اپنی برتری ثابت کرے۔ باجوڑ سے لے کر شمالی وزیرستان تک، حالیہ حملوں کی فریکوئنسی یہ بتاتی ہے کہ یہ صرف سرحد پار سے آنے والی لہر نہیں ہے، بلکہ یہ ان گروہوں کے درمیان ”مارکیٹ شیئر” کی جنگ ہے، جہاں انسانی جانیں صرف ایک نمبر بن کر رہ گئی ہیں۔شدت پسند گروہوں کے درمیان وسائل کی چھینا جھپٹی اور مالیاتی بالادستی کی جنگ اس پورے کھیل کا وہ پسِ پردہ رخ ہے جسے عام طور پر نظریاتی غلاف میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ دوٹوک انداز میں کہوں تو یہ ”مقدس جنگ” نہیں بلکہ ”خونی کاروبار” ہے، جہاں ڈالر، ریال اور مقامی بھتہ خوری یہ طے کرتی ہے کہ کس گروہ کا پرچم بلند رہے گا۔ پاک افغان سرحد پر وسائل کی تقسیم کا یہ نظام ایک ایسی ”شیڈو اکانومی” (سایہ دار معیشت) تخلیق کر چکا ہے جو ریاست کی رٹ کو مسلسل چیلنج کر رہی ہے۔اس خطے میں شدت پسند گروہوں کے مالیاتی ذرائع کو تین بڑے حصوں بیرونی فنڈنگ، قدرتی وسائل پر قبضہ، اور مقامی مجرمانہ سرگرمیاں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
سب سے پہلے بیرونی فنڈنگ کی بات کی جائے تو یہاں ”آؤٹ بڈنگ” کا اثر سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ عالمی سطح پر موجود نجی عطیہ دہندگان اور ہمدرد ان گروہوں کو ترجیح دیتے ہیں جو زمین پر سب سے زیادہ متحرک اور ”کامیاب” نظر آتے ہیں۔ داعش خراسان نے جب افغانستان میں قدم جمائے تو اس نے مشرقِ وسطیٰ کے مالدار حلقوں کو یہ تاثر دیا کہ القاعدہ اور ٹی ٹی پی اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اس تاثر کو قائم رکھنے کے لیے انہوں نے بڑے فنڈز سمیٹے، جس کے جواب میں کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھانا پڑا تاکہ وہ اپنے روایتی سپانسرز کو یہ یقین دلا سکیں کہ ان کی سرمایہ کاری ضائع نہیں جا رہی۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کارپوریٹ سیکٹر میں کمپنیاں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے اپنی کارکردگی بڑھا کر دکھاتی ہیں۔دوسرا بڑا ذریعہ معدنیات اور قدرتی وسائل ہیں۔ پاک افغان سرحدی پٹی، خاص طور پر ننگرہار اور کنڑ کے علاقے، قیمتی پتھروں اور کرومائٹ جیسی معدنیات سے مالا مال ہیں۔ یہاں داعش خراساں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان کئی بار براہِ راست جھڑپیں ان کانوں پر قبضے کے لیے ہوئی ہیں۔ جو گروہ ان کانوں پر قابض ہوتا ہے، وہ نہ صرف جدید اسلحہ خریدنے کی پوزیشن میں آ جاتا ہے بلکہ دوسرے گروہ کے جنگجوؤں کو ”زیادہ تنخواہ” کی پیشکش کر کے اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔ یہ معاشی کشش آؤٹ بڈنگ کو مزید مہلک بنا دیتی ہے، کیونکہ اب جنگجو صرف نظریے کے لیے نہیں بلکہ بہتر ”پیکج” کے لیے وفاداریاں بدلتے ہیں۔
تیسرا اور سب سے تشویشناک پہلو مقامی سطح پر بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہروں سے لے کر خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اضلاع تک، کالعدم ٹی ٹی پی نے ”ٹیکس وصولی” کا ایک باقاعدہ نظام وضع کر رکھا ہے۔ جب داعش خراسان نے اسی علاقے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کی، تو انہوں نے بھی مقامی تاجروں اور بااثر افراد کو دھمکانا شروع کیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی تاجر کو دو مختلف گروہوں کی جانب سے پرچیاں موصول ہوتی ہیں۔ اس مسابقت میں جو گروہ زیادہ سفاکانہ کارروائی کرتا ہے، تاجر خوف زدہ ہو کر اسے پہلے ادائیگی کر دیتے ہیں۔ یوں تشدد یہاں ایک ”ریکوری ٹول” کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔سمگلنگ کی نیٹ ورکس، چاہے وہ منشیات کی ہوں یا غیر قانونی لکڑی کی، ان گروہوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ افغان طالبان کی حکومت کے بعد جہاں افیون کی کاشت پر پابندی کی باتیں کی گئیں، وہیں انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ شدت پسند گروہوں نے متبادل راستے تلاش کر لیے کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے درمیان ان سمگلنگ روٹس پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ نے سرحدی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ ”برانڈنگ” کا ہے۔ جب ایک گروہ کسی بڑی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنی ”مارکیٹ ویلیو” بڑھا رہا ہوتا ہے۔ اس سے اسے نہ صرف نئے رنگروٹ ملتے ہیں بلکہ انسانی سمگلنگ اور اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں ملوث گروہ بھی اس کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جہاں پیسہ تشدد کو جنم دیتا ہے اور تشدد مزید پیسے کے راستے کھولتا ہے۔ریاستِ پاکستان کے لیے مالیاتی نیٹ ورکس کی یہ جنگ ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ جب تک ان گروہوں کی ”فنانشل لائف لائن” موجود ہے، ان کی افرادی قوت میں کمی لانا ناممکن ہے۔ سیکیورٹی اداروں کو اب صرف سرحدوں پر پہرہ نہیں دینا، بلکہ ان ڈیجیٹل اور زمینی راستوں کو بھی بلاک کرنا ہے جہاں سے یہ خونی پیسہ منتقل ہو رہا ہے۔ریاستِ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس ”آؤٹ بڈنگ” کے عمل کو کیسے روکے، کیونکہ جب تک یہ گروہ ایک دوسرے سے بہتر ثابت ہونے کی دوڑ میں لگے رہیں گے، سرحدیں لہو رنگ ہی رہیں گی۔


