برصغیر کے اس خطے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سادہ کہانی نہیں رہے بلکہ تاریخ، جغرافیہ، عالمی سیاست اور داخلی حالات نے مل کر انہیں ایک پیچیدہ صورت دی ہے۔ جب افغانستان میں جنگ و جدل نے شدت اختیار کی تو لاکھوں افراد نے سرحد پار کر کے پاکستان میں پناہ لی۔ پاکستان نے اپنی معاشی تنگ دستی کے باوجود دہائیوں تک ان خاندانوں کو جگہ دی، کیمپ قائم کیے، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کیں اور انہیں روزگار کے مواقع میسر آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کئی خاندان یہیں رچ بس گئے، نئی نسل نے یہیں آنکھ کھولی، بازاروں اور کارخانوں میں کام کیا اور معاشرتی دھارے کا حصہ بنی۔ یہ ایک انسانی داستان بھی ہے اور ریاستی ذمہ داریوں کا امتحان بھی۔
تاہم ہر ریاست کی طرح پاکستان کو بھی اپنی سرحدوں، معیشت اور داخلی سلامتی کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ غیر دستاویزی قیام، بڑھتا ہوا معاشی دباؤ، بے روزگاری اور سکیورٹی کے خدشات ایسے عوامل ہیں جنہوں نے حکومت کو سخت فیصلوں کی طرف مائل کیا۔ مؤقف یہ پیش کیا گیا کہ جو افراد قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے انہیں باقاعدہ طریقے سے واپس جانا چاہیے۔ اس عمل پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ کچھ لوگوں نے اسے ریاستی خودمختاری کا تقاضا کہا جبکہ بعض حلقوں نے انسانی ہمدردی کے پہلو پر زور دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ سادہ نہیں کیونکہ یہاں قانون کی عملداری اور انسانی وقار دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔
دوسری جانب سرحدی کشیدگی نے صورت حال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی اور بعض مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنجز بڑھائے۔ سرحدی باڑ، آمد و رفت کے قواعد اور باہمی الزامات نے فضا کو کشیدہ کیا۔ کبھی کبھار سرحدی جھڑپوں کی خبریں آتی ہیں جن سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے سرحد پار جا ملتے ہیں جبکہ افغان حکام اس معاملے کی الگ وضاحت بیان کرتے ہیں۔ اس اختلاف کے بیچ اصل ضرورت سنجیدہ مکالمے اور عملی تعاون کی ہے کیونکہ بداعتمادی کا ماحول دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور وسائل کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میںحکومت کے لیے ہر اس عنصر پر نظر رکھنا فطری ہے جو داخلی استحکام کو متاثر کر سکتا ہو۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دہائیوں کی مہمان نوازی کو فراموش کر دیا جائے بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ معاملات کو منظم اور قانون کے مطابق کیا جائے تاکہ نہ کسی کی تذلیل ہو اور نہ ریاستی نظم متاثر ہو۔
پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی اور خاندانی روابط موجود ہیں۔ زبان، تجارت اور سماجی میل جول نے ایک دوسرے کے لیے قربت پیدا کی ہے۔ اسی لیے جذباتی نعروں یا اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ حکومتوں کے اختلافات کو عوامی نفرت میں بدل دینا مسئلے کا حل نہیں۔۔۔ بلکہ نئی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ واپسی کے عمل کو شفاف، مرحلہ وار اور باوقار بنایا جائے، سرحدی معاملات پر مستقل رابطہ رکھا جائے اور خطے کے استحکام کے لیے عالمی برادری بھی اپنا کردار ادا کرے۔ اگر افغانستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا تو اس کے اثرات پورے خطے میں مثبت انداز سے محسوس ہوں گے۔ پاکستان کی سلامتی اور اقتصادی مضبوطی خطے کے مجموعی امن کے لیے بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔
پاکستان نے چار دہائیوں تک جس ظرف اور برداشت کا مظاہرہ کیا وہ تاریخ کا اہم باب ہے۔ آج اگر حکومت اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قدم اٹھا رہی ہے تو اس کے پس منظر میں بے شمار قربانیاں ہیں۔ پاکستان افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو خون بہایا، جو جانیں نچھاور کیں، وہ کسی سیاسی بحث کا حصہ نہیں بلکہ قومی بقا کی داستان ہے۔ معاملہ یہ نہیں کہ راستہ کتنا کٹھن ہے، معاملہ یہ ہے کہ کیا ہم اپنی سرزمین کے تحفظ، اپنے بچوں کے اعتماد اور اپنے آنے والے وقت کے استحکام کے لیے سنجیدہ ہیں؟ اگر ہاں۔۔۔ تو پھر ہمیں وقتی جذبات سے نکل کر حقیقت پسندانہ سوچ اپنانی ہوگی کہ ایک مضبوط، پرامن اور باوقار پاکستان ہی خطے کے امن کی ضمانت ہے اور اس مقصد کے لیےحکومت اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا محض جذباتی تقاضا نہیں ۔۔۔بلکہ قومی ذمہ داری بھی ہے۔


