شہادت کا سفر جاری ہے /اقتدار جاوید

آج سے نصف صدی پہلے یعنی سن تریسٹھ میں آیت اللہ خمینی نے شاہ ایران کو یزید قرار دیا تھا۔شاہ ایران بھی یوں تو شیعہ ہی تھا اور اپنے آپ کو حسین کا پیروکار ہی کہتا تھا۔شاہ نے عرب شیوخ سے الگ راہ اختیار کی ہوئی تھی۔اس نے اسرائیل سے باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے تھے۔تب شیوخ کی مملکتیں ایک ساتھ تھیں اور اسرائیل کے خلاف تھیں۔اب تاریخ نے کیسا پلٹا کھایا ہے کہ ساری شیخڈومز اسرائیل کے ساتھ ہیں اور ایران اسرائیل کے خلاف تنہا کھڑا ہے۔اسرائیل کے کئی وزرائے اعظم شاہ کے دوران میں ایران کا سرکاری دورہ کرتے رہے ہیں۔ایک اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریون تھے اس نے سن اکسٹھ میں ایران کا دورہ کیا تھا۔ لیوی ایشکول نے بھی ساٹھ کے عشرے میں ایران آیا تھا۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ایک وزیر اعظم یتزحاق رابن نے اسلامی انقلاب سے دو سال قبل بھی دورہ کیا تھا۔بلکہ گولڈا مئر دو بار ایران آئی تھی۔اسی پر بس نہیں شاہ ایران نے بھی اسرائیل کے خفیے دورے کیے تھے۔یہ سارا سلسلہ یہ ظاہر کرتا ہے تب ایران امریکا کی گود میں بیٹھا تھا اور عرب شیوخ اس کے خلاف تھے۔اب عرب شیوخ امریکی ہاں کے بندے ہیں اور ایران دوسری طرف کھڑا ہے۔اب اسی پر بس نہیں یو اے ای کا ولی عہد خود اسرائیل کا دورہ کر آیا ہے۔بحرین اور مراکش کے شاہی خاندانوں کے شہزادے بھی وہاں جاتے رہے ہیں۔محمد بن سلمان کے بارے میں بھی افواہ ہے کہ انہوں نے دو ہزار سترہ میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔یہ سارے سرکاری دورے پچھلے پچاس میں عرب ممالک کی ذہنی تقلیب کا نمونہ ہیں۔نیتن یاہو نے انہی چند سالوں میں سعودی عرب اردن عمان کے عرب ممالک کے دورے کیے ہیں۔یہ تاریخ کا یو ٹرن بہت تکلیف دہ ہے اور بہت ساروں کے نقاب اندر نقاب چھپے چہرے ظاہر کرتا ہے۔
ہم نے پچھلے کالم ”ایران ایک مثال“ میں عرض کیا تھا کہ نبی پاکؐ کے تربیت یافتہ خلافت راشدہ کو تیس سال ہی برقرار رکھ پائے تھے اس کے بعد حکومت ہماری طرح کے حکمرانوں ہاتھ آ گئی تھی۔ایرانی قیادت نے خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی میں یہ مدت نصف صدی تک بڑھا دی۔دوئم خلافائے راشدین میں ابو بکر صدیقؓ کے سوا سبھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ایران کی موجودہ قیادت نے یہ رسم بھی پوری کر دی۔علی خامنہ ای سے پہلے اسی لیول کے کئی ایرانی رہنما اس راہ پر قربان ہوتے رہے ہیں۔انقلاب کے تین سال بعد ہی ایران کے صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد بہونر شہید ہوئے۔سن اکیاسی میں اسلامی ریپبلکن پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں دھماکے میں چوہتر لوگ مارے گئے تھے۔اس میں امام خمینی کے بعد دوسری بڑی شخصیت محمد حسین بہشتی، جو اس وقت چیف جسٹس تھے مارے گئے تھے۔سن اکیاسی میں ابوذر مسجد میں تقریر کے دوران بم پھٹا تھا جس میں خامنہ ای شہید کا ایک ہاتھ ضائع ہوا اور سانس لینے تکلیف در آئی تھی اور اسی موقع پر انہوں نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ “اگر میرا دماغ اور زبان کام کر رہے ہیں تو مجھے ہاتھ کی ضرورت نہیں۔ دماغ اور زبان ہی کافی ہیں۔” اس کے بعد انہوں نے بائیں ہاتھ سے لکھنا شروع کر دیا۔
دوسری بدیہی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی انقلاب سے لے کر اب تک ایران کی افواج اسرائیل کی ٹاپ قیادت میں کسی ایک کو بھی نشانہ نہیں بنا سکیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔یہ ایک تکلیف دہ امر ہے کہ انقلاب کے ساتھ ہی اس پر پابندیاں لگ گئیں اور وہ اپنا دفاعی ڈھانچہ کھڑا ہی نہیں کر سکا۔ایران کے پاس فضائی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کے پاس ایسے ہی برائے نام فائٹر جہاز ہیں جو اڑنے کے قابل ہی نہیں۔اس کے پاس ستر کی دہائی کے امریکا کے ایف فوٹین اور روس کے مگ 19 طیارے ہیں۔اسرائیل کے پاس F35 ہیں جو ایران کے ازکار رفتہ جہازوں کو پل میں اڑا سکتا ہیں۔پابندیوں نے ایران کی فضائی طاقت کو غیر موثر کر دیا گیا ہے۔اسرائیل ایران کے اندر تک گہرا نفوذ رکھتا ہے جب کہ یہ صلاحیت ایران کے پاس قطعاً نہیں اور وہ کبھی اسرائیل کے اندر ایسی کاروائی نہیں کر سکا۔یہ عدم توازن ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔اسرائیل اور امریکا کو ایران کی ظاہری اور خفیہ ساری اہلیت کی مکمل خبر اور اطلاع ہے۔
انقلاب کے بعد عرب کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا
کہ اسرائیل کے خلاف ان کے ساتھ ایک نئے ملک کا اضافہ ہو گیا تھا۔ مگر عربوں نے اسرائیل سے زیادہ ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھا۔وہ بجائے ایران کے ساتھ کھڑا ہو کر مشترکہ دشمن سے نبٹتے انہیں اپنا مصنوعی اقتدار ہاتھ سے جاتا دکھائی دینے لگا۔سارے عرب ممالک ایک اک کر کے ایران کے خلاف ہی محاذ بنانے میں اپنی بقا سمجھنے لگے۔مصنوعی اقتدار کو ایسے خدشات لاحق ہوتے ہیں۔
امریکا اور مغرب نے خطے میں ایران کی طاقت کو زائل کرنے کے لیے عرب ممالک سے تعلقات بڑھانے کا نیا سلسلہ شروع کیا جو پچھلے چند سالوں معاہدہ ابراہیمی کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔امریکا نے اسرائیل کی بجائے ان ممالک کو اسلحہ ایران کا ڈراوا دے کر ہی دیا ہے۔
عرب ممالک یہ جان ہی نہیں سکے کہ آیا ان کی پالیسی انقلاب ایران سے پہلے والی درست تھی یا اب والی درست ہے۔سچی بات یہ ہے یہ ممالک وقت کی آواز کو پہچان ہی نہیں سکے۔یا ان کی پالیسی انقلاب ایران سے پہلے والی غلط تھی یا اب والی ہلاکت خیز ہے۔ان عرب ممالک کا کوئی مستقبل نہیں۔ان کے دائمی اقتدار کی کوئی ضمانت نہیں۔ عرب شیخ یا کل درست تھے اور آج غلط سائیڈ پر کھڑے ہیں۔دونوں صورتوں میں ان کا کردار منفی رہا ہء۔کوئی مجھ سے پوچھے تو کہوں وہ ہمیشہ غلط سائیڈ پر ہی رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں