رمضان ٹرانسمیشنز اور حالیہ تنازع: اصلاح کی ضرورت/ماریہ بتول

رمضان المبارک برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے میں ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رمضان ٹرانسمیشنز کا مقصد بھی بظاہر یہی ہوتا ہے کہ ناظرین کو دینی معلومات، روحانی سکون اور اصلاحی پیغام فراہم کیا جائے۔ مگر افسوس کہ حالیہ دنوں ایک نجی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں پیش آنے والے واقعے نے اس پورے تصور پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے.
پاکستان میں رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز سرکاری چینل پاکستان ٹیلی وژن (PTV) سے ہوا۔1980 اور 1990 کی دہائی میں رمضان کے دوران خصوصی نشریات پیش کی جاتی تھیں جن میں تلاوتِ قرآن، نعت خوانی، علما کے بیانات اور سحر و افطار ٹائم کی معلومات شامل ہوتی تھیں۔ یہ پروگرام سادہ مگر روحانیت سے بھرپور ہوتے تھے۔2000 کے بعد نجی چینلز کے آنے سے رمضان ٹرانسمیشن کا انداز بدل گیا۔خاص طور پر جیو ٹی وی، اے آر وائی ڈیجیٹل اور دیگر چینلز نے طویل دورانیے کی لائیو رمضان ٹرانسمیشن شروع کیں۔اے آر وائی کی مشہور نشریات شانِ رمضان نے رمضان پروگرامز کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان پروگرامز میں:مذہبی سوال و جواب, قرآنی مقابلے,سماجی موضوعات,مستحق افراد کی مدداور بعض اوقات گیم سیگمنٹس بھی شامل کیے گئے.یوں رمضان ٹرانسمیشن محض مذہبی پروگرام سے بڑھ کر ایک مکمل فیملی شو کی صورت اختیار کر گئی۔
اگر رمضان ٹرانسمیشن کی اہمیت کی بات کی جائے تو
رمضان ٹرانسمیشن لوگوں کو قرآن، حدیث اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ علما کرام کے بیانات عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔گھروں میں رمضان کا ماحول مزید پرنور اور بابرکت محسوس ہوتا ہے۔ سحر و افطار کے وقت اجتماعی دعا اور ذکر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت سے پروگرامز میں غریب اور مستحق افراد کی مالی مدد کی جاتی ہے، جہیز، گھر، علاج یا روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔ اس سے معاشرے میں ہمدردی اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔رمضان ٹرانسمیشن نے مذہبی پروگرامز کو دلچسپ انداز میں پیش کیا، جس سے بچے اور نوجوان بھی دینی موضوعات کی طرف راغب ہوئے۔
تاہم کچھ حلقے اس بات پر تنقید بھی کرتے ہیں کہ بعض پروگرامز میں ضرورت سے زیادہ تفریح یا مقابلے شامل کر دیے جاتے ہیں، جس سے اصل روحانیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو اور اندازِ بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ ویڈیوز وائرل ہوئیں، کلپس کاٹ کر شیئر کیے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک مذہبی پروگرام تنازع کی زد میں آ گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں بھی عوام الناس ریٹنگ، شہرت اور سنسنی کو ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
اگرچہ یہ پہلا موقع نہیں کہ رمضان ٹرانسمیشن کسی تنازع کا شکار ہوئی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف چینلز پر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن پر عوام نے شدید ردِعمل دیا۔ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جو مقدس مہینے کو بھی تفریحی مقابلے میں بدل دیتی ہے۔ کبھی غیر سنجیدہ مذاق، کبھی غیر محتاط گفتگو اور کبھی غیر مناسب موضوعات — یہ سب اس تقدس کو مجروح کرتے ہیں جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ لائیو نشریات میں الفاظ کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایک جملہ، ایک تاثر، ایک انداز لاکھوں گھروں تک پہنچتا ہے۔ ایسے میں اینکرز، مہمانوں اور پروڈیوسرز سب پر لازم ہے کہ وہ اپنی حدود اور ذمہ داری کو پہچانیں۔
مزید برآں عوام کا ردِعمل بھی قابلِ غور ہے۔ سوشل میڈیا پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر کردار کشی اور ذاتی حملے کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا مواد دیکھنا اور فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اگر ناظرین سنجیدہ اور باوقار مواد کو ترجیح دیں گے تو یقیناً چینلز بھی اسی سمت میں جائیں گے۔
رمضان ٹرانسمیشن محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک امانت ہے۔ یہ مہینہ ہمیں برداشت، حکمت اور احتساب کا درس دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مقدس موقع کو وقتی شہرت یا ریٹنگ کی دوڑ کی نذر کرنے کے بجائے اس کے اصل مقصد کو سامنے رکھیں۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ تنازعات آتے جاتے رہتے ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ان سے کیا سیکھتے ہیں۔ اگر ہم نے اس واقعے کو اصلاح کا موقع بنا لیا تو شاید آئندہ رمضان ٹرانسمیشن واقعی روحانیت کا ذریعہ بن سکیں گی، نہ کہ سوشل میڈیا کی ایک اور سرخی۔اللہ تعالیٰ سب کو نیک راستے پر چلنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

اپنا تبصرہ لکھیں