رمضان کریم کا دوسرا عشرہ ہمارے درمیان ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہیں جنہیں عشرۂ مغفرت کہا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت کا تھا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانیوں کے دروازے کھول دیے اور اب دوسرا عشرہ ہمیں یہ خوشخبری دیتا ہے کہ جو شخص سچے دل سے توبہ کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ مغفرت کا مطلب ہے معافی، ڈھانپ دینا اور خطاؤں کو مٹا دینا۔ جب اللہ کسی بندے کو معاف کرتا ہے تو اس کے گناہوں کو چھپا بھی لیتا ہے اور اس کے دل کو سکون بھی عطا کرتا ہے۔ یہی اس عشرے کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ بندہ اپنے رب کے قریب ہو جاتا ہے اور امید کا چراغ اس کے دل میں روشن ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں قرآنِ مجید کی سورۂ الزمر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو جو اپنی جانوں پر زیادتی کر بیٹھے ہو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یہ پیغام ہر اس انسان کے لیے ہے جو اپنے ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہے۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ ان کے گناہ بہت زیادہ ہیں شاید اب معافی نہ ملے، لیکن رمضان کا یہ عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ توبہ سچی ہو اور دل میں پکا ارادہ ہو کہ آئندہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کا پہلا حصہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ اس خوبصورت ترتیب میں ہمارے لیے آسانی رکھی گئی ہے۔ پہلے دس دنوں میں دل نرم ہوتا ہے، عبادت کی عادت بنتی ہے اور پھر دوسرے عشرے میں انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔ گویا یہ عشرہ ایک موقع ہے کہ ہم رک کر اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ ہم سوچیں کہ ہم نے کہاں غلطی کی، کس کا دل دکھایا، کہاں حق تلفی کی۔ جب انسان اپنے آپ کا احتساب کرتا ہے تو وہ بہتر انسان بننے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔
استغفار اس عشرے کا سب سے اہم عمل ہے۔ استغفار کا مطلب ہے اللہ سے معافی مانگنا۔ جب ہم دل سے “اَسْتَغْفِرُاللّٰہ” کہتے ہیں تو گویا ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی اور ہم اللہ کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ استغفار دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ جیسے بوجھ اٹھائے ہوئے مسافر کو منزل پر پہنچ کر سکون ملتا ہے، ویسے ہی گناہوں کا بوجھ اترنے سے دل کو سکون نصیب ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سحری کے وقت، افطار سے پہلے اور نماز کے بعد خاص طور پر استغفار کریں۔ یہ وہ اوقات ہیں جب دعا قبول ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔
یہ عشرہ ہمیں عملی زندگی میں بھی تبدیلی کا پیغام دیتا ہے۔ صرف زبان سے معافی مانگ لینا کافی نہیں بلکہ اپنے رویے بدلنا بھی ضروری ہے۔ اگر ہم جھوٹ بولتے تھے تو سچ بولنے کا عزم کریں۔ اگر ہم غیبت کرتے تھے تو زبان کی حفاظت کریں۔ اگر ہم نے کسی کا حق مارا ہے تو اسے واپس کریں۔ یہی سچی توبہ ہے۔ رمضان ہمیں خود پر قابو پانا سکھاتا ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ آنکھ، کان اور زبان کے روزے کا بھی نام ہے۔ جب ہم خود کو برائی سے روکتے ہیں تو ہمارے اندر مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔
معاشرتی طور پر بھی عشرۂ مغفرت بہت اہم ہے۔ آج ہمارے گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بھائی بھائی سے بات نہیں کرتا، بہنیں ایک دوسرے سے خفا رہتی ہیں، پڑوسیوں میں دوری آ جاتی ہے۔ یہ عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک دوسرے کو معاف کر دیں۔ اگر اللہ ہمیں معاف کرتا ہے تو ہمیں بھی دوسروں کو معاف کرنا چاہیے۔ معافی دینے سے دل صاف ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب ایک گھر میں محبت پیدا ہوتی ہے تو پورا معاشرہ سکون کی طرف بڑھتا ہے۔
صدقہ بھی مغفرت کا اہم ذریعہ ہے۔ اگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب کی مدد کریں، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں یا کسی ضرورت مند کو افطار کرائیں تو یہ عمل ہمارے گناہوں کی معافی کا سبب بن سکتا ہے۔ صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں بلکہ مسکرا کر بات کرنا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی صدقہ ہے۔ رمضان میں نیکی کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اس لیے اس عشرے میں نیکیوں کی رفتار تیز کر دینی چاہیے۔
خواتین جو گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں، وہ بھی اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ ذکر و دعا کریں۔ کھانا بناتے ہوئے، بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے اللہ کو یاد رکھیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ رمضان صرف روزہ رکھنے کا نام نہیں بلکہ اپنے کردار کو بہتر بنانے کا مہینہ ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ فضول مشغولیات سے بچیں اور اپنے وقت کو قیمتی بنائیں۔ قرآن کی تلاوت کریں، دینی کتابیں پڑھیں،سمجھیں اور اپنے مستقبل کے لیے اچھی نیت کریں۔ بزرگ افراد اپنی دعاؤں میں پوری امت کو یاد رکھیںکیونکہ ان کی دعائیں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
عشرۂ مغفرت ہمیں امید، اصلاح اور محبت کا پیغام دیتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر نئی شروعات کر سکتے ہیں۔ اگر ہم سچے دل سے توبہ کریں تو اللہ ہمیں معاف فرما دیتا ہے اور ہمیں ایک نیا موقع دیتا ہے۔ یہی رمضان کا حسن ہے کہ یہ ہمیں ٹوٹنے نہیں دیتا بلکہ سنبھال لیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس موقع کو ضائع نہ کریں۔ ہر دن کو قیمتی سمجھیں، ہر لمحے کو عبادت میں گزارنے کی کوشش کریں، اور اپنے دل کو صاف کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عشرۂ مغفرت میں ہمارے تمام گناہ معاف فرما دے، ہمارے دلوں کو پاک کر دے، ہمارے گھروں میں محبت اور سکون پیدا کر دے اور ہمیں ایسا انسان بنا دے جو رمضان کے بعد بھی نیکی کے راستے پر قائم رہے ۔ رمضان کریم کا یہ مبارک عشرہ ہم سب کے لیے بخشش اور رحمت کا سبب بنے۔( آمین)


