فتویٰ، عقیدت اور جنگی بیانیہ/محمد عامر حسینی

ایک زمانہ تھا جب جماعت اسلامی اپنے سوا کسی کو نہ تو اسلام کی حقیقی ترجمان تسلیم کرتی تھی اور نہ اپنے ممبران کے علاوہ کسی اور نیک ، صالح اور دیندار قرار دیتی تھی ۔ اس کے نزدیک سوشلسٹ ، سیکولر ، لبرل ہونے کا مطلب لادین ہونا اور مذھب کا دشمن ہونا قرار پاتا تھا ۔
ستر کی دہائی میں جب پاکستان میں پہلی بار بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات ہونے جا رہے تھے تو جماعت اسلامی نے پاکستان پیپلز پارٹی ، نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ کو کافر ، لادین اور اسلام دشمن سیاسی جماعتیں قرار دے ڈالا ۔ یہاں تک کہ اس نے اسلامی سوشلزم کو اپنا منشور بنانے پر جمعیت علمائے اسلام کے صدر مفتی محمود اور سینئر نائب صدر مولانا غلام غوث ہزاروی پر کامریڈ مفتی محمود اور کامریڈ ہزاروی پھبتی کسی ۔ ان پر مارکس اور لینن کی کتابوں سے اسلامی سوشلزم گھڑنے کا الزام عائد کیا ۔ پیپلزپارٹی کے خلاف 113 مولویوں کے دستخط سے کفر کے فتوے کا پمفلٹ بھی جماعت اسلامی کے مرکز سے پورے ملک میں پھیلا ۔ یہ ان دنوں زرعی اصلاحات ، صنعتوں کی نیشنلائزیشن ، مزدور دوست لیبر پالیسی کے مقابلے میں جاگیرداری ، سرمایہ داری کو اسلام قرار دیتے تھے ۔ ان کے نزدیک محنت کشوں کا اپنے مطالبات کے لیے ہڑتال کرنے کا حق کفر تھا ۔ ان کے نزدیک سماج میں طبقاتی تقسیم اور ملک کی دولت پر ایوب خان کے بنائے 21 خاندانوں کی اجارہ داری ، غربت و امارت دونوں خدا کی قائم کردہ تقسیم تھے اور معاشی و سماجی مساوات قائم کرنے کی سیاست کرنا خدا کے بنائے نظام کو تبدیل کرنے کی جرات کافرانہ تھی ۔ یہ لغت ہائے حجازی کے قارون بنے بیٹھے تھے اور اپنے سوا کسی اور کو اسلام کی تعبیر کرنے کا حق نہیں دیتے تھے ۔ آج پاکستان میں ایک بار پھر اسی طرح کی انتہاپسندی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔
پاکستان کے مذہبی منظرنامے میں آج ایک عجیب تماشا برپا ہے۔ ایک طرف ایرانی مذہبی رجیم کی قیادت کے گرد عقیدت کا ایسا ہالہ کھینچا جا رہا ہے جیسے ایمان کی تکمیل اسی سے مشروط ہو۔ کچھ حضرات اس حد تک آگے بڑھ گئے ہیں کہ ہر شیعہ ، غیر شیعہ سے یہ تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی حکومت کو “مثالی اسلامی ریاست” مانے، خمینی اور خامنہ ای کو نائبِ امام مہدی تسلیم کرے اور ان کی قیادت کو معصوم عن الخطا قرار دے۔
گویا اختلاف رائے کوئی فکری حق نہیں بلکہ جرم ہے۔ جو شخص اس تقدیس کے اسیر بیانیے کو قبول نہیں کرتا، چاہے وہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت کا کتنا ہی شدید مخالف کیوں نہ ہو، فوراً صہیونی یا سامراجی ایجنٹ ٹھہرا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف اسلامی دائیں بازو کا وہ ہجوم ہے جو ہر سیاسی تنازع کو اسلام اور کفر کی ابدی جنگ میں بدل دینے پر مصر ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ، سیاست، معیشت اور طاقت کی عالمی کشمکش سب کچھ ایک ہی نعرے میں سمٹ جاتا ہے۔ اگر آپ اس جنگی بیانیے سے اختلاف کریں تو آپ بھی فوراً امریکی یا صہیونی ایجنٹ قرار پاتے ہیں۔
ایک اور گروہ بھی ہے جو اپنے آپ کو سیکولر ، لبرل ، روشن خیال ، عقلیت پسند قرار دیتا ہے لیکن اس مطالبہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے حکمران طبقے کی صیہونیت اور امریکہ کی سامراجی مداخلتوں کو عین ٹھیک تصور کیا جائے ۔ یہ ہر ایک سے ملحد ہونے اور مذھب کے خلاف جنگ کرنے ک مطالبہ کرتا ہے تبھی کوئی شخص ان کے نزدیک روشن خیال ، عقلیت پسند کہلائے گا۔ ان کے خیال میں ایران پر قابض مذھبی پیشوائیت کے سبب یہ جائز ہے کہ اسرائیل اور امریکہ ایران کو آتش و آہن سے تباہ کردیں اور ایرانی عوام اپنی خودمختاری و آزادی کو ان کے آقا و مولا ڈونلڈ ٹرمپ اور صہیونی قصائی نیتن یاہو کے پاس رہن رکھ دیں ۔
یوں یہ دونوں انتہائیں، بظاہر ایک دوسرے کی مخالف ہوتے ہوئے بھی، دراصل ایک ہی طرزِ فکر کی دو صورتیں بن جاتی ہیں: تقدیس کا مطالبہ، سوال پر پابندی اور اختلاف پر فتوے۔
نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سماج ایک بار پھر پراکسی بیانیوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ایرانی عقیدت کا شور ہے اور دوسری طرف تکفیری ردِعمل کا طوفان۔ اس شور میں وہ بنیادی حقیقت گم ہو جاتی ہے کہ اس ملک کے شیعہ اور سنی عوام پہلے ہی ایران اور سعودی عرب کی مذہبی پراکسی کشمکش میں ہزاروں جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان کی قبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ یہ جنگ کسی کے ایمان کی نہیں بلکہ طاقت اور اثر و رسوخ کی سیاست کی جنگ تھی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب مذہب کو سیاسی وفاداری کے امتحان میں بدل دیا جائے تو ایمان بھی تقسیم کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ پھر ہر گروہ اپنے امام، اپنے مرشد اور اپنے بیانیے کو مطلق سچ قرار دیتا ہے اور باقی سب کو گمراہ یا دشمن ٹھہراتا ہے۔ اسی لمحے مذہب اخلاقی قوت کے بجائے سیاسی طاقت کی ڈھال بن جاتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ عقیدت کے نئے بت تراشنے کی نہیں بلکہ عقل اور برداشت کی ہے۔ نہ ایران کی شخصیت پرستی اس معاشرے کو بچا سکتی ہے اور نہ تکفیری جنگی نعرے۔ اگر اس خطے کے عوام کو واقعی سامراجی جنگوں سے بچانا ہے تو پہلے اپنے اندر کے ان بتوں کو توڑنا ہوگا جو اختلاف کو کفر اور سوال کو بغاوت سمجھتے ہیں۔ ورنہ ہر نیا تنازع ایک اور فتوے، ایک اور الزام اور ایک اور تقسیم کو جنم دیتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں