فاشسٹ وہ احمق ہے جو روشنی اور تیرگی میں تفریق سے عاری ہے/عمران ازفر

امریکہ دنیا میں اپنے وجود اور اپنے مقابل دیگر دنیا کی حیثیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ اس کے لیے مبہم اور غیر حقیقی مقاصد کے حصول میں کوئی عمل مانع نہیں کہ جیسے انسانی حقوق کا تحفظ, معیارِ زندگی کی برتری, جمہوریت سازی, اپنے لوگوں کی آسائش پر تصرف, عیسائی اور یہودی افراد کی جمعیت اور دیگر مذاہب پر واضح برتری اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے بے رحم طاقت کے استعمال وغیرہ بجائے کھوکھلے مثالیت پرست نعروں کا شور و غوغا پھیلا کر وقت ضائع کرنے کے۔
امریکہ جانتا ہے کہ اس کے اصل دشمن مقامی دیسی لوگ ہیں جو ان کے وسائل پر “قابض” ہونے کی سعی کرتے ہیں, وہی قدرتی وسائل جو ان نوآبادیات کے پاس ہوتے ہیں اور جن سے مثالی ضروریات جوں انسانی حقوق, معیار زندگی کی برتری اور جمہوریت پرستی وغیرہ کو پورا کیا جانا ہے اور یہی فطری لوازمات اصلی طاقت اور برتری ہیں۔
یہ احمق نہیں سمجھتے کہ دنیا بھر کے قدرتی انعامات مغرب کی صنعت کی تکمیل اور ان معاشروں میں موجود طاقت ور اشرافیہ کے مفادات کی سرعت بنیاد ارتقاء میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اگر مقامی لوگوں کو بروقت نہ روکا جائے تو وہ “آزادی آزادی اور فلاح انسانیت” ایسا خوفناک جرثومہ پھیلاتے ہیں اور اس سے دیگر کالونیوں میں بھی منفی پیغامات کی ترسیل ہوتی ہے۔ وہ جاہل لٹھ بردار لنگیاں لپیٹ کر یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کو بطور معاشرہ سڑے ہوئے پھل کی مثال بنائیں یا میٹرو پولیٹن سٹی کا کوڑا دان بنا دیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے کبھی کسی کے سامنے ہار نہیں مانی۔ اس نے اپنے مخالفین کو عبرت کا نشان بنا دیا اور ایسا کہ دنیا امریکا کی طاقت, اس کے لوگوں کے اعلیٰ معیار کے گواہی دینے میں پیش پیش ہوتی ہے کہ وہ نہیں چاہتی کہ اس کا انجام بخیر ہو جیسے امریکا نے اپنی طاقت کے اظہار اور وسائل پر بلا شرکت غیرے قبضے کے لیے جرمنی کو دیکھتے ہی دیکھتے قبرستان بنا دیا۔ ریاستہائے متحدہ امریکا نے آن کی آن میں ناگاساکی کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ امریکی طاقت ور پالیسی ساز اشرافیہ نے ہیروشیما کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ ماوں کو بانجھ اور مردوں کو نامرد بنا دیا کہ امریکہ جانتا ہے کہ دنیا بھر کے قدرتی تحائف, زیر زمین ذخائر اسی کے لیے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور, اپنے موقف میں دو ٹوک اور اپنی منصوبہ بندی میں مکمل طور پر واضح ہے۔
آج کا ایران نہیں جانتا کہ یہ بظاہر آبنائے ہرمز کی جنگ دراصل “مذہبی پیشوائیت” اور “مرکزی طاقت” کی شدید ترین خواہش سے جڑی ہے۔ اسی زخم سے جو علی کی تلوار سے مرحب پر وار ہوا, جو خالد بن ولید کے گھوڑوں کے سموں سے مغربی منہ زوری کو روندتا رہا اور یہاں اس بربریت بنیاد گلی محلے میں پھیلی جنگ میں ایران محض ایک مقامی دیسی نشان ہے وگرنہ اطراف کے درجن بھر خطوں کو اسی ہلے میں لپیٹ کر “پاکیزہ” یہود و نصارٰی کا غلام بنا دیا جائے گا۔
اور ہمیں یہاں روز نیا کھلونا, نئی روبوٹ حسین عورت (جو ہر مردانہ دہقانی تقاضا یونانی کلاسیکی اداؤں اور سرگوشیوں کے تار پر پورا کرنے کے فن میں یکتا ہے) اور مشین سے دھڑا دھڑ نکلتی نرم و گداز آئس کریم کا عادی بنا کر چھوڑا ہوا ہے۔ کبوتر آنکھیں بند کرتا ہے مگر آج کے مشرق نے انکھیں تو بند نہیں کیں مگر اس کے دماغ پر دولے شاہ کے چوہے کا کلبوت بہت سلیقے سے چڑھا دیا گیا ہے۔۔۔۔۔ عمران ازفر

اپنا تبصرہ لکھیں