چبوترہ پہ بیٹھا دانشور/پاکستانی معاشرہ اپنی مضبوط خاندانی روایات اور سماجی جڑوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں خوشی ہو یا غم، انسان خود کو اپنوں کے درمیان گھرا ہوا پاتا ہے۔ تاہم، اس معاشرے میں ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو خاموشی سے تنہائی کی زندگی گزار رہا ہے اور وہ طبقہ ہے “درمیانی عمر کے تنہا مرد”، یہ وہ مرد ہیں جو یا تو غیر شادی شدہ ہیں، رنڈوے ہیں یا طلاق یافتہ، اور اب اپنی زندگی کے اس موڑ پر ہیں جہاں جوانی کی چہل پہل پیچھے رہ گئی ہے اور بڑھاپے کے سائے گہرے ہونے لگے ہیں۔
پاکستان میں ایک مرد کی شناخت اکثر اس کے خاندان سے جڑی ہوتی ہے۔ چالیس یا پچاس سال کی عمر میں ایک تنہا مرد کو معاشرہ “شک” یا “ترس” کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ “اس نے شادی کیوں نہیں کی؟” یا “اس میں کیا خرابی ہے؟”۔ یہ مسلسل سماجی تفتیش اس شخص کے اندر احساسِ کمتری اور بیگانگی پیدا کر دیتی ہے۔
مردوں کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ وہ جذبات سے عاری یا “سخت جان” ہوتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ درمیانی عمر میں جب دوست احباب اپنی اپنی گھریلو زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں، تو ایک تنہا مرد کے پاس اپنی باتیں بانٹنے، دکھ سکھ کرنے یا دن بھر کی تھکن اتارنے کے لیے کوئی جذباتی سہارا نہیں ہوتا۔ یہ خلا اکثر شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتا ہے۔
اگرچہ تنہا مرد پر بچوں کی پرورش کا بوجھ نہیں ہوتا، لیکن اسے اکثر اپنے خاندان (بہن بھائیوں یا بوڑھے والدین) کی مالی کفالت کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنی تمام کمائی دوسروں پر خرچ کرنے کے باوجود، اسے وہ گھریلو سکون اور توجہ نہیں ملتی جو ایک شادی شدہ مرد کو اپنی بیوی اور بچوں سے ملتی ہے۔ اس کے علاوہ، بڑھاپے کے لیے بچت اور مستقبل کا خوف اسے مستقل بے چینی میں رکھتا ہے۔
مرد عام طور پر گھر کے کاموں (کھانا پکانا، صفائی ستھرائی وغیرہ) کے عادی نہیں ہوتے۔ ایک تنہا مرد کے لیے ہوٹل کا کھانا یا نوکروں کے رحم و کرم پر رہنا صحت کے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ بیماری کی صورت میں اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، جو کہ ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے۔
شادی بیاہ یا خاندانی دعوتوں میں تنہا مرد اکثر خود کو “اجنبی” محسوس کرتا ہے۔ فیملی ہالز یا مخصوص نشستوں پر اسے جگہ نہیں ملتی اور وہ خود کو ایک ایسی محفل میں اکیلا پاتا ہے جہاں ہر کوئی اپنے شریکِ حیات کے ساتھ خوش نظر آتا ہے۔ یہ تنہائی اسے سماجی میل جول سے دور کر دیتی ہے۔
درمیانی عمر کے تنہا مردوں میں خودکشی کے رجحانات یا نشہ آور اشیاء کے استعمال کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ مردانگی کے فرسودہ تصورات (جس میں مرد کا رونا یا کمزوری دکھانا منع ہے) کی وجہ سے اپنا غم کسی سے بیان نہیں کر پاتے۔
ساحر لدھیانوی کا یہ مصرعہ ان کی حالتِ زار پر صادق آتا ہے:
“دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں،
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں”
معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک تنہا مرد بھی توجہ، محبت اور احترام کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کہ کوئی دوسرا فرد۔ ہمیں ان کے لیے ایسے سماجی حلقے (Social Circles) بنانے چاہئیں جہاں وہ بغیر کسی ججمنٹ کے اپنی بات کہہ سکیں۔ تنہائی ایک مرض ہے، اور اس کا علاج صرف ہمدردی اور شمولیت میں پنہاں ہے۔


