درد نیم شب کا رقیب

درد نیم شب کا رقیب

چبوترے پہ بیٹھا دانشور/یہ جملا آپ نے حال ہی میں چھپنے والی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کی کتاب کے سرورق پر دیکھا ہوگا، اس کتاب کے متن کے بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا اور ناہی یہ جاننا چاہتا ہوں کہ انھوں اپنی “کونسی جدوجھد” کو بیان کرنے کے لیئے اتنے بھاری بھرکم الفاظ کا سہارہ لیا ہے، لیکن آئیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ دور جدید کے درد نیم شب کے رقیبوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے۔

“وہ دردِ نیم شب جس سے کبھی بنتے تھے افسانے
اسے اب گھیر رکھا ہے کئی تازہ حریفوں نے”

’’دردِ نیم شب‘‘ اور ’’رقیب‘‘— یہ دونوں ہی اردو شاعری کے وہ بوجھل کردار ہیں جو عام طور پر آنسو بہانے کے کام آتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں مزاح کے ترازو میں تولنا ہو تو سب سے پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ اصلی رقیب ہے کون؟
بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں ’’دردِ نیم شب‘‘ کا سب سے بڑا رقیب موبائل فون کی بیٹری ہے۔ جوں ہی دردِ دل جاگنے کی کوشش کرتا ہے، بیٹری کا 1% والا نوٹیفکیشن سارے جذبات کا گلا گھونٹ دیتا ہے اور
کبھی کبھار جسے ہم آدھی رات کا درد سمجھ کر سینہ تھام لیتے ہیں، وہ دراصل دل کا نہیں بلکہ معدے کا ارمان ہوتا ہے۔ اس صورت میں ’’دردِ نیم شب‘‘ کا دوسرا رقیب فریج میں رکھا ہوا وہ ٹھنڈا پیزا ہوتا ہے جو آپ کو رونے کے بجائے فریج کھولنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

شاعر کہتے ہیں کہ دردِ نیم شب سونے نہیں دیتا، مگر ہم کہتے ہیں کہ اس درد کا تیسرا سب سے بڑا رقیب وہ صبح آٹھ بجے کے الارم کا خوف بھی ہوسکتا ہے، جو کسی بھی قسم کی ’عاشقانہ آہ‘ کو ’مظلومانہ ہائے‘ میں بدل کر آپ کو بستر سے باہر پھینک دیتا ہے۔

دردِ نیم شب کا چوتھا رقیب کوئی پرایا نہیں، بلکہ اپنی رگوں میں آپ کا ہی خون بھرے وہ مچھر بھی ہوسکتا ہے جو کمبل کے اندر گھس کر فلسفۂ عشق کو ناصرف ہلا کر رکھ دیتا ہے بلکہ اکثر سجا بھی دیتا ہے۔

اکثر ہم مزاج بنائے تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ آدھی رات کو کسی نامراد عشق کی یادِ میں دو آنسو بہائیں گے، مگر کمبخت وائی فائی (Wi-Fi) کے سگنلز پانچویں رقیب کا روپ دھار کر سارا موڈ ہی خراب کر دیتے ہیں۔

اب آخر میں اس عجب کشمکش کا بھی تذکرہ ہوجایے کہ ایک طرف ’دردِ نیم شب‘ سر اٹھاتا ہے، اور دوسری طرف علاقے کے آوارہ کتے قوالی شروع کر کے رقیبِ روایتی کا حق ادا کرنے لگتے ہیں۔

ویسے راوی اس نعمت سے محروم ہے لیکن کچھ خواتین و حضرات کی زندگی میں اباجی اور دادا جی کے خراٹے بھی درد نیم شب کے رقیب کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں۔

چبوترہ پہ بیٹھا دانشور

اپنا تبصرہ لکھیں