محبتِ قرآن اور فہم کی ضرورت/علی عباس کاظمی

ہماری  مذہبی زندگی میں ایک عجیب سا تضاد موجود ہے۔ ایک طرف قرآن مجید کے احترام اور محبت کا اظہار بے مثال ہے اور دوسری طرف اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہے۔ گھروں میں، مسجدوں میںاور بڑی بڑی محفلوں میں قرآن کی تلاوت گونجتی رہتی ہے۔ لوگ ادب سے بیٹھ کر سنتے ہیں، آنکھوں میں عقیدت کی چمک ہوتی ہے اور دل میں ثواب کی امید۔ لیکن جب محفل ختم ہوتی ہے اور کوئی پوچھ لے کہ ابھی جو آیات تلاوت ہوئیں ان کا مفہوم کیا تھا تو اکثر چہروں پر خاموشی چھا جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے ایک مقدس آواز تو سنی۔۔۔ مگر اس آواز میں چھپا پیغام ہم تک پہنچ ہی نہیں سکا۔

یہ کیفیت صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک اجتماعی رویہ بن چکی ہے۔ رمضان کے مہینے میں مساجد میں قرآن سننے کے لیے لوگوں کا ہجوم امڈ آتا ہے۔ کئی کئی گھنٹے کھڑے ہو کر تراویح میں پورا قرآن سن لیا جاتا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر خبریں آتی ہیں کہ فلاں مسجد میں ہزاروں افراد نے قرآن سنا۔ یہ منظر یقیناً روح کو خوشی دیتا ہے کہ لوگ کتابِ الٰہی کے ساتھ تعلق قائم کیے ہوئے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تعلق کی بنیاد صرف سننے تک محدود رہنی چاہیےیا اس کے ساتھ سمجھنے کی کوشش بھی ضروری ہے؟

قرآن مجید کو اگر ہم صرف ایک مقدس تلاوت کی حد تک محدود کر دیں تو گویا ہم اس کے اصل مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ کتاب صرف پڑھی یا سنی جانے کے لیے نہیں نازل ہوئی بلکہ زندگی کو سمجھانے، راستہ دکھانے اور انسان کے دل و دماغ کو روشن کرنے کے لیے آئی ہے۔ قرآن بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں سوالات ہیں، مثالیں ہیں، قصے ہیں اور وہ پیغام ہے جو انسان کو اپنے آپ کو پہچاننے کا موقع دیتا ہے۔ مگر جب ہم اس کو سمجھے بغیر دہراتے چلے جائیں تو گویا ہم ایک دروازے کے سامنے کھڑے ہیں مگر اسے کھولنے کی زحمت نہیں کرتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی کوئی اور کتاب ہم اس طرح نہیں پڑھتے۔ اگر کوئی شخص ہمیں ایک خط بھی دے دے تو ہم اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی دوست کا پیغام ہو تو ہم اس کے ہر لفظ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جب بات قرآن کی آتی ہے تو ہم اکثر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ صرف پڑھ لینا یا سن لینا ہی کافی ہے۔ یہ رویہ دراصل ایک عادت بن چکا ہے اور ۔۔۔عادتیں اکثر سوچے سمجھے بغیر چلتی رہتی ہیں۔

اس معاملے میں تنقید کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ لوگوں کی نیت یا عقیدت پر سوال اٹھایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں قرآن سے محبت بے مثال ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں اسے سب سے اونچی جگہ پر رکھتے ہیں، وضو کے بغیر ہاتھ لگانے سے گریز کرتے ہیں اور اس کی تلاوت کو باعثِ برکت سمجھتے ہیں۔ یہ سب خوبصورت باتیں ہیں اور ایمان کی علامت بھی۔ لیکن شاید ہمیں اس محبت کو ایک قدم آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ احترام کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی شامل ہو جائے۔

اسلام کی تاریخ میں ہمیں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جہاں قرآن کو صرف پڑھا نہیں جاتا تھا بلکہ سمجھا بھی جاتا تھا۔ ابتدائی مسلمان جب قرآن کی آیات سنتے تھے تو ان کے دل میں سوال پیدا ہوتے تھے۔ وہ آپس میں گفتگو کرتے تھے، معنی پر غور کرتے تھے اور پھر اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ چند آیات بھی ان کی زندگیوں میں انقلاب لے آتی تھیں۔ آج ہم سینکڑوں بار آیات سن لیتے ہیں مگر ہمارے اندر وہ تبدیلی پیدا نہیں ہوتی جس کی توقع کی جاتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عربی زبان ہر ایک کی زبان نہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے قرآن کا مفہوم سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر یہ رکاوٹ ناقابلِ عبور بھی نہیں۔ آج ترجمے موجود ہیں، تفاسیر موجود ہیں اور ایسے علما بھی موجود ہیں جو قرآن کو آسان انداز میں سمجھاتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑی سی کوشش کریں تو قرآن کا پیغام ہمارے لیے اجنبی نہیں رہے گا بلکہ وہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔

اصل نکتہ یہ نہیں کہ ہم قرآن کی تلاوت سے واقف ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کس نیت اور انداز سے سنتے ہیں۔ اگر ہم صرف ثواب کے تصور کے ساتھ سنیں گے تو شاید ہمارا تعلق رسمی ہی رہے گا۔ لیکن اگر ہم اس ارادے سے سنیں کہ ہمیں اس میں اپنے لیے کوئی رہنمائی تلاش کرنی ہے تو یہی تلاوت دل و دماغ میں ایک تازہ اور زندہ احساس جگا سکتی ہے۔ ایک آیت بھی اگر سمجھ میں آ جائے تو وہ انسان کی سوچ بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

قرآن دراصل اللہ کا وہ پیغام ہے جو انسان کے دل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اس کا ہر لفظ معنی سے بھرا ہوا ہے، ہر آیت میں ایک روشنی ہے۔ اگر ہم صرف آواز سن کر واپس آ جائیں تو گویا ہم اس روشنی کو دور سے دیکھ کر لوٹ جاتے ہیں۔ مگر اگر ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یہی روشنی ہمارے اندر اتر سکتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک خوبصورت روایت یہ بھی بن سکتی ہے کہ قرآن سننے کے بعد تھوڑی سی گفتگو بھی ہو۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ آج کی آیات کا مفہوم کیا تھا۔ کوئی عالم یا جاننے والا مختصر انداز میں وضاحت کر دے۔ اس طرح نہ صرف علم بڑھے گا بلکہ قرآن کے ساتھ تعلق بھی گہرا ہو جائے گا۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں، صرف ایک چھوٹا سا قدم ہے جو بڑے فائدے کا سبب بن سکتا ہے۔

ہمیں اپنی ترجیحات کو تھوڑا سا متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ تلاوت یقیناً ایک عظیم عبادت ہے، اس میں شک نہیں۔ مگر اگر اس کے ساتھ سمجھ اور غور و فکر بھی شامل ہو جائے تو اس عبادت کی تاثیر کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ یوں قرآن صرف ایک مقدس آواز نہیں رہے گا بلکہ ایک زندہ رہنمائی بن جائے گا۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق محبت کا بھی ہے اور ذمہ داری کا بھی۔ محبت ہمیں اس کے قریب لاتی ہے اور ذمہ داری ہمیں اس کے پیغام کو سمجھنے کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر ہم ان دونوں کو ساتھ لے کر چلیں تو شاید ہماری مذہبی محفلیں صرف روحانی تسکین کا ذریعہ نہیں رہیں گی بلکہ فکری بیداری کا بھی سبب بنیں گی۔

شاید اسی لمحے سے وہ تبدیلی شروع ہو سکتی ہے جس کی ہمیں عرصے سے تلاش ہے۔ جب قرآن صرف سنائی دینے والی آواز نہیں بلکہ سمجھ میں آنے والا پیغام بن جائے گا، تب ہماری محفلیں بھی بدل جائیں گی ۔۔۔اور شاید ہمارے حالات بھی۔ کیونکہ جس کتاب کو سمجھ لیا جائے وہ انسان کو اندر سے بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں