غزوہ بدر: حق و باطل کا پہلا معرکہ (یومِ فرقان) -ڈاکٹر محمد عمران ملک

ہجرت کے بعد قریش کی معاشی طاقت کو توڑنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان کے تجارتی قافلے کو روکنے کا ارادہ فرمایا۔ جب ابوسفیان کو اس کا علم ہوا تو اس نے مکہ پیغام بھیجا، جس پر ابوجہل ایک ہزار کا لشکر لے کر نکلا۔ راستے میں ابوسفیان کا قافلہ بچ کر نکل گیا اور اس نے مکہ کے لشکر کو واپس لوٹنے کا پیغام بھیجا۔ لیکن ابوجہل نے تکبر سے کہا:
“خدا کی قسم! ہم واپس نہیں جائیں گے جب تک بدر کے مقام پر پہنچ کر تین دن تک قیام نہ کریں، وہاں اونٹ ذبح ہوں گے، شراب پی جائے گی اور لونڈیاں گائیں گی، تاکہ پورے عرب پر ہمارا رعب بیٹھ جائے۔” یہی تکبر اسے اس کی ہلاکت کے مقام تک کھینچ لایا۔
روانگی کے وقت قریش کو اپنے دشمن قبیلے بنو بکر کا خوف تھا، ایسے میں ابلیس بنو کنانہ کے سردار سراقہ بن مالک کی شکل میں نمودار ہوا اور کفار کو تسلی دیتے ہوئے کہا: “آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، میں تمہارا حامی و مددگار ہوں اور تمہارے پیچھے تمہارے گھروں کی حفاظت کروں گا۔” لیکن جب میدانِ جنگ میں غیبی مدد (فرشتے) اتری، تو شیطان بھاگ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: “میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے، مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے۔”
مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی (جن کے پاس 2 گھوڑے اور 70 اونٹ تھے)۔ جنگ سے ایک دن پہلے رسول اللہ ﷺ نے میدان کا معائنہ کیا۔ آپ ﷺ زمین پر ہاتھ کے اشارے سے نشان لگاتے اور فرماتے:
“کل یہاں ابوجہل گرے گا، یہاں عتبہ مارا جائے گا اور یہاں امیہ بن خلف کی لاش ہوگی۔” صحابہ فرماتے ہیں کہ اگلے دن ایک بھی کافر اس نشان سے انچ بھر ادھر ادھر نہیں مرا
جنگ کی رات رسول اللہ ﷺ ایک چھپر (عریش) میں اللہ کے حضور گریہ و زاری کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ پھیلا کر عرض کیا:
“اے اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔” آپ ﷺ اس قدر بے قرار تھے کہ چادر مبارک کندھوں سے گر گئی۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے چادر اٹھا کر آپ ﷺ کے کندھوں پر رکھی اور بڑے حوصلے سے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول ﷺ! بس کیجیے، آپ نے اپنے رب سے بڑی الحاح و زاری کر لی، یقیناً اللہ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا۔”

جنگ کا آغاز روایتی انفرادی مقابلوں سے ہوا۔ حضرت حمزہؓ نے شیبہ کو، حضرت علیؓ نے ولید کو اور حضرت عبیدہ بن الحارثؓ نے عتبہ کا مقابلہ کیا۔ ان تینوں بڑے مشرک سرداروں کی ہلاکت کے بعد عام لڑائی شروع ہوگئی۔ آسمان سے ہزاروں فرشتوں نے اتر کر مسلمانوں کی مدد کی۔
دورانِ جنگ دو انصاری بھائیوں معاذ اور معوذ نے، جنہوں نے ابوجہل کی گستاخیوں کے بارے میں سن رکھا تھا، اس پر عقاب کی طرح جھپٹ کر اسے شدید زخمی کر دیا۔ آخر میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر قلم کیا۔ مرتے وقت بھی ابوجہل کا تکبر یہ تھا کہ کہنے لگا: “کاش مجھے کسی کسان (انصاری) کے بجائے کسی بڑے سردار نے قتل کیا ہوتا۔”
یہ واقعہ سیرت کی کتابوں میں بہت تفصیل سے ملتا ہے۔
جب ابوجہل آخری سانسیں لے رہا تھا، اس نے اپنی فطری تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا:
“میری گردن یہاں (کندھوں کے قریب) سے کاٹنا تاکہ جب اسے نیزے پر چڑھا کر دیکھا جائے تو یہ دوسرے سروں سے بلند اور نمایاں نظر آئے اور معلوم ہو کہ یہ کسی سردار کا سر ہے۔”
نبی کریم ﷺ کا ارشاد
جب حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے یہ پورا ماجرا اور ابوجہل کا یہ آخری جملہ اللہ کے نبی ﷺ کو آ کر سنایا، تو آپ ﷺ نے اس کی فرعونیت اور تکبر پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:
“یہ (ابوجہل) اس امت کا فرعون تھا۔”
آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے دور کا فرعون مرتے دم تک اپنی سرکشی پر قائم رہا، ابوجہل بھی اپنی موت کے وقت تک تکبر اور غرور سے باز نہ آیا۔
غزوہ بدر میں مشرکین کے 70 بڑے سردار مارے گئے اور 70 قید ہوئے۔ مسلمانوں کے صرف 14 صحابہ (6 مہاجر، 8 انصار) شہید ہوئے۔
اس فتح نے اسلام کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر ثابت کر دیا اور مدینہ کی ریاست کی بنیادیں مضبوط کر دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں