گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایک انٹرویو میں باقاعدہ طور پر اعلان کیا کہ وہ مذہبی طور پر یہودی ہیں۔ اس بیان کے چند ہی دن بعد امریکہ کے اسرائیل میں تعینات سفیر مائیک ہکابی نے ایک انٹرویو میں گریٹر اسرائیل کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل مشرق وسطیٰ کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو عطا کی ہے اور پورے خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔ خاص طور پر دریائے نیل سے دریائے فرات تک کے علاقے پر اسرائیلی کنٹرول کو درست قرار دیا۔ ان کے بقول اگر اسرائیل لبنان، شام، اردن اور دیگر ممالک پر بھی کنٹرول قائم کر لے تو یہ بالکل مناسب ہو گا۔ یہ تصور بنیادی طور پر گریٹر اسرائیل کے شدت پسند نظریے سے جڑا ہے، جو لبنان سے سعودی عرب کے صحراؤں، بحیرہ روم سے عراق کے دریائے فرات تک پھیلا ایک وسیع جغرافیائی خطہ ہے۔ اس بیان پر خلیجی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسے غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بادشاہوں کو اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ان ممالک میں موجود امریکی جنگی بیڑے اور فوجی اڈے ان کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کے لیے تعینات ہیں؟ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران اور اس کی حمایت یافتہ مزاحمتی تحریکیں ہیں، جن میں حزب اللہ، حماس اور یمن کی انصار اللہ شامل ہیں۔ بدقسمتی سے خلیجی ممالک انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، حالانکہ اصل خطرہ تو ان کے اندر موجود مکمل جنگی ساز و سامان کے ساتھ امریکی افواج اور بحری بیڑوں سے ہے۔ خلیجی ممالک نے بیان کی مذمت کی مگر امریکہ اور اسرائیل نے کب عالمی قوانین کا احترام کیا؟ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے سے لے کر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت تک، انہوں نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ لیکن بدقسمی کی بات ہے کہ عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد شہید ہو گئے۔ یہ حملے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اعتماد میں لینے کے بعد کیے تھے، جنہوں نے ظاہری طور پر مذمت کی مگر پس پردہ تعاون کیا۔ خلیجی ممالک، اردن اور مصر کے بغیر ایران میں ایسی کارروائی ممکن نہ تھی۔ ان ممالک میں ایران مخالف عناصر اور اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک موجود ہیں جو نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ حملوں کے جواب میں ایران نے فوری طور پر خلیجی ممالک (بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت) میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے صرف امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے، جہاں سویلین آبادی نہیں بلکہ امریکی افواج مقیم تھیں۔ ان حملوں پر ان ممالک کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں موجود امریکی فوجی اڈے اس ملک کی خودمختاری کو مشکوک بناتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ اڈے امریکی علاقہ سمجھے جاتے ہیں جہاں مقامی قوانین نافذ نہیں ہوتے۔ لہٰذا ان پر حملہ امریکہ پر حملہ ہے، نہ کہ میزبان ملک پر۔ اس وقت مشرق وسطیٰ پر مکمل قبضے کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے اور ایران کا کمزور ہونا گریٹر اسرائیل کی بنیاد ہے ۔ لہذا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ کو بطور امت مسلہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس جنگ کے خلاف امریکہ کے اندر سے آوازیں آرہی ہے۔ معروف امریکی امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے حال ہی میں مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی سازش بے نقاب کر دی۔ ویلاگ میں انکا کہنا تھا کہ اس سازش کے تحت اسرائیل خودمسجد اقصیٰ پر حملہ کرینگے اورالزام ایران پر لگا دینگے پھر عرب ممالک ایران پر حملہ کر دینگے۔ اس خطرناک صیہونی سازش بے نقاب ہونے کے بعد مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانا چاہئے اور او ، آئی ، سی کو نوٹس لینا چاہئے لیکن اس تمام صورتحال میں اس تنظیم کا کردار بھی مشکوک نظر آتا ہے۔ اسی طرح ایک امریکی سنیٹر لنڈسے گراہم کا سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق، وہ کہتے ہی کہ یہ ایک مذہبی جنگ ہے، دیکھتے ہیں آخر میں کون جیتے گایہ ایک ایسا لمحہ جو اگلے ہزار سال کے لیے مشرق وسطی کا رخ طے کرے گا۔
اس تمام صورتحال میں یہ بات مزید عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اگر ایران کمزور ہو گیا تو پورے خطے کی بقا داؤ پر لگ جائے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہو سکتا ہے، جہاں سے وہ چین میں مداخلت کی کوشش کریں گے۔ اس لیے امریکہ اور اسرائیل اب پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمان ممالک کو صیہونی سازشوں کو سمجھ کر اتحاد قائم کرنا ہو گا۔ امریکہ کے مقابلے میں روس اور چین کے ساتھ ایک نیا بلاک تشکیل دینا خطے کی ضرورت ہے۔ آخر میں، انقلاب اسلامی ایران کے عظیم رہنما اور مزاحمت کے علمبردار رہبر معظم سید علی خامنہ ای شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی استکبار کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی اور کربلا کے فلسفے کو مزید تقویت بخشی کہ کربلا دراصل ابدی زندگی خریدنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے درمیان اختلافات ختم کر کے وقت کے یزیدوں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اتحاد کی توفیق عطا فرمائے۔


