عالمی سامراج امریکہ اور اس کے ” بولی ” کی ایران پر مشترکہ جارحیت کو آج پانچواں دن ہے یہ سطور بدھ کی دوپہر میں لکھ رہا ہوں شبِ ہفتہ سے شروع ہوئی اس جارحیت کے اب تک کے نتائج بڑے بھیانک ہیں ایران کے رہبرِ کبیر آیت اللہ سید علی خامنہ ای ان کی اہلیہ بیٹی نواسہ اور پوتی کے علاوہ اعلیٰ سول و ملٹری قیادت سے تعلق رکھنے والے تقریباً دوصد افراد شہید ہوچکے تہران میں ایک اسکول پر ہوئے حملے میں تادم تحریر 168 معصوم طالبات کے علاوہ ایران بھر میں صد ہا لوگ بھی موت کا رزق ہوئے
امریکہ اور اس کے ” بولی ” نے ایران کے 153 چھوٹے بڑے شہروں پر بارود برسایا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں طالبات کے اسکول پر حملہ اور 168 طالبات کی شہادت جنگی جرم ہو سکتا ہے
گزشتہ روز مجلس خبرگان رہبری کے صدر دفتر اور ایرانی صدر کے دفتر پر حملے کئے گئے ایران بھی پچھلے پانچ دنوں سے خطے میں امریکی مفادات ( اڈوں دفاتر اور سفارتخانوں ) کو تاک تاک کر نشانہ بنارہا ہے بحرین میں امریکی فضائی اڈہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے امریکہ کی بحری دہشت کی علامت بحری جنگی بیڑا ابراہم لنکن ایرانی میزائلوں سے زخمی ہوکر میدان جنگ کے سمندری حصے سے ” دور ” چلا گیا ہے پانچ دن سے جاری جنگ میں 13 ہزار سے زائد پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے لاکھوں مسافر رُل گئے
جنگ کے چوتھے دن سے عالمی دفاعی تجزیہ نگار یہ کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ ایران جنگ میں امریکہ نے پہلے دن 779 ملین ڈالر خرچ کئے جبکہ جنگی تیاریوں پر اس کے 630 ملین ڈالر لگے تھے یہ جنگ کب ختم ہوگی اور امریکہ کو مجموعی طورپر کتنے ارب یا کھرب ڈالر میں پڑے گی فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے
البتہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں ایرانی میزائل مار گرانے والے امریکی انٹر سیپٹرز میں کمی سے امریکہ اور اس کے ” بولی ” کیلئے مسائل کو جنم دے گا کیونکہ ایک میزائل گرانے کیلئے دو انٹرسیپٹرز استعمال ہوتے ہیں
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ امریکی انٹرسیپٹرز پہلے ختم ہوتے ہیں یا ایرانی میزائل اس بارے پیشنگوئی کرنا مشکل ہے
ادھر گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے سپین کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایران جنگ میں امریکہ کو اپنے اڈے نہ دیئے تو امریکہ سپین سے تجارت ختم کردے گا
مشرق وسطیٰ میں اپنے عرب اتحادی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش نے امریکہ کو جس صورتحال سے دوچار کیا اس کا اندازہ صدر ٹرمپ کے سپین کیلئے دیئے گئے دھمکی آمیز بیان سے لگایا جاسکتا ہے
دوسری جانب ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب تاریخی اہمیت کے شہر حیفہ اور بعض دوسرے علاقوں میں ایسی ابتری پیدا کردی ہے جس کے کم ہونے میں وقت لگے گا گزشتہ برس کی طرح حالیہ جنگ نے یقیناً ایران کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن امریکی لے پالک اسرائیل نے بھی دن میں تارے دیکھے
ٹرمپ دعویدار ہیں کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے مگر اب دیر ہوچکی ایرانی ٹرمپ کے اس بیان بارے جو کہہ رہے ہیں اس کا سادہ لفظوں میں ترجمہ ” کھسیانی بلی کھمبا نوچے” کیا جاسکتا ہے ایرانی کہتے ہیں
“جنگ سے قبل مذاکرات کے آخری دور میں اگلے دور کی تاریخ طے پاچکنے کے باوجود جس جارحیت کا ارتکاب ہوا اس سے ٹرمپ کرہ ارض کا ناقابل اعتبار شخص بن گیا ہے وہ شخص ( ٹرمپ ) جھوٹ بولتا اور چباتا رہتا ہے ”
حالیہ ایران جنگ کے آغاز پر چار دن میں رجیم چینج کی نوید دینے والا ٹرمپ اب ایرانی عوام کے ترلے کررہا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور رجیم چینج کردیں سابق شاہ ایران کا صاحبزادہ بھی ایران میں اقتدار سنبھالنے کیلئے اتاولہ ہے
وہ ( دربدر شہزادہ ) جب سوشل میڈیا پر ایران کی موجودہ رجیم کے ایران سے باہر مقیم مردوزن کے رقص کرتے اور نعرے لگاتی ٹولیوں کو دیکھتا ہے تو بہت مشکل سے خود کو تہران جانے والے جہاز اور میزائل پر سوار ہونے سے روک پاتا ہے
ایران جنگ نے جس طرح امریکی دعووں اندازوں یاہو کی لن ترانیوں اور جغادری تجزیہ نگاروں کو اب تک دھول چٹوائی ہے اس سے ایک بات بڑی واضع ہے وہ کہ جنگ باز جس ایران کو محض سید علی خامنہ ای کے منظر سے ہٹادیئے جانے کے بعد گاجر کا حلوہ سمجھ رہے تھے وہ لوہے کا چنا ثابت ہوا
مجھے ایسا لگتا ہے کہ جنگ باز زمینی حقائق کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے پیدائشی طور پر محروم ہیں وہ سمجھ نہیں پائے کہ فرد سے لڑنے جارہے ہیں یا نظام سے
ان کے خیال میں ایران وینز ویلا ٹو ثابت ہوگا مگر ہوا اس کے برعکس فی الوقت تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ” ہنوز دلی دور است ” کتنی دور است کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ نظام کی پرتیں کتنی ہیں یہ جاننا مشکل ہے
اس سے اہم بات ایرانیوں کا قومی تعصب ہے ہزاروں سال کی تاریخ سے گندھے یہ قومیتی تفاخر ہرمشکل وقت میں دیوار چین ثابت ہوتا ہے
ایران میں یقیناً ایک طبقہ تبدیلی کا خواہش مند تھا اور ہے لیکن تبدیلی بذریعہ امریکہ و اسرائیل اسے بھی ننگی گالی لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا یہ خواب چکنا چور ہوا کہ ادھر جنگ شروع ہوگی ادھر ایرانی عوام باہر نکل کر ہر چیز کو تہس نہس کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیں گے
اسی لئے ابتداً جنگ چند شہروں تک رکھنے والوں نے اگلے مرحلے میں 153 چھوٹے بڑے شہروں کو میزائلوں اور کارپٹ بمباری کی زد پہ دھر لیا
ایران پر مسلط جنگ اور ایران کی جوابی جنگی حکمت عملی کی دوسری اور اس جنگ کے خلاف دنیا بھر میں آوازیں بلند ہورہی ہیں احتجاجی جلسے جلوس ہورہے ہیں مذمتی قراردادیں اور بیانات آرہے ہیں تو کچھ مذہبی جنونی خبث باطن کے مظاہروں میں بھی جُتے ہوئے ہیں
ایران پر مسلط حالیہ جنگ اور بالخصوص ایران کے رہبرِ کبیر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی ہمارے یہاں بھی کراچی سے گلگت بلتستان اور پشاور سے کوئٹہ تک احتجاج ہوا البتہ کراچی اور سکردو گلگت بلتستان کا احتجاج پرتشدد ہوگیا کراچی میں امریکی قونصل خانے کی طرف جانے والے احتجاجی قیادت سے محروم تھے اس لئے وہ ہائی جیک ہوئے کس نے ہائی جیک کیا اس پہ دو آرا ہیں ایک طبقہ صورتحال کو ایجنسیوں کی کارستانی قرار دے رہا ہے اور دوسرا طبقہ کہہ رہا ہے کہ کراچی میں اینٹی سندھ حکومت والے مختلف الخیال عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے مظاہرین کو پرتشدد کارروائی پر اُکسایا جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین جان سے گئے درجنوں زخمی ہوگئے
لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان میں جو کچھ ہوا وہ مقامی قیادت کی مشتعل کردینے والی تقاریر کا نتیجہ ہے ہردو واقعات میں 26 افراد جان سے گئے سکردو میں جاں بحق ہونے والے چند افراد کا تعلق قانون نافذ کرنے والے محکموں سے تھا یہاں اربوں روپے کی سرکاری و نجی املاک بھی نذر آتش کی گئی
سوال یہ ہے کہ کیا ہردو پرتشدد واقعات کی آزادانہ تحقیقات ہوپائے گی ؟
اصولی طور پر کسی تاخیر کے بغیر تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ متاثرہ خاندان اور عوام اصل مجرموں کے چہرے دیکھ سکیں یہ اس لئے ضروری ہے کہ کہا جارہا ہے کہ پرتشدد مظاہروں اور جلاو گھیراو کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کا مقصد آبادی کے ایک طبقے کو مملکت سے متنفر کرنا تھا اس گھناونے کھیل کے
ذمہ داران کے حوالے سے ٹھوس ثبوت کے بغیر کوئی بات کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مصداق ہوگا ہماری دانست میں اس سے گریز اور آزادانہ تحقیقات پر زور دیا جانا چاہئے اسی میں سب کا بھلا ہے


