پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ اور علاقائی کشمکش ایک ساتھ جمع ہو چکی ہیں۔ ایک طرف سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور ان کی رہائی کا مسئلہ قومی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکا ہے، جبکہ دوسری طرف پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ بڑا اضافہ، عالمی توانائی بحران اور خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے ملک کے سیاسی و معاشی ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کی سیاست بنیادی طور پر ان کی رہائی کے مطالبے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق پارٹی کی قیادت اس مقصد کے لیے کوئی منظم اور مسلسل تحریک کھڑی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ کبھی پارلیمنٹ کے باہر احتجاج، کبھی کے پی ہاوس کے سامنے دھرنے، اور کبھی “عمران خان رہائی فورس” جیسے نعروں کا اعلان کیا گیا، مگر ان اقدامات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اسی وجہ سے کارکنان اور عوام کے ایک حصے میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ پارٹی کے پاس ایک مربوط حکمت عملی موجود نہیں۔ عمران خان کی رہائی کبھی سیاسی حالات، کبھی سفارتی سرگرمیوں اور کبھی موسمی وجوہات کے باعث مؤخر ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال نے تحریک انصاف کی قیادت کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
حال ہی میں وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ اس اضافے نے نہ صرف عوامی غصے کو بڑھایا بلکہ مہنگائی کے ایک نئے طوفان کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں ٹرانسپورٹ اور ایندھن کا کردار بہت اہم ہے۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، ٹرانسپورٹ کرایے بڑھ جاتے ہیں، صنعتی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور عام شہری کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔
ایسی صورتحال میں اپوزیشن کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا ایک نیا سیاسی موقع پیدا ہوتا ہے، لیکن اس موقع کو مؤثر تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے واضح قیادت اور منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان کی توانائی پالیسی ہمیشہ سے عالمی سیاست سے متاثر رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے دوران روس سے سستے تیل کے معاہدے کی باتیں سامنے آئی تھیں۔ بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسی تناظر میں پاکستان میں سیاسی تبدیلی آئی۔
اسی طرح ایران سے آنے والے مبینہ اسمگل شدہ تیل کے بارے میں بھی مختلف دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سرحدی علاقوں کے ذریعے کم قیمت ایرانی تیل پاکستان آتا رہا، لیکن عوام کو وہی تیل سرکاری نرخوں پر فروخت کیا جاتا رہا۔ اگر یہ حقیقت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے فائدہ کس کو پہنچتا رہا۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات نے پاکستان کی سلامتی اور معیشت دونوں کو متاثر کیا ہے۔ اگر خطے میں جنگی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست پاکستان کی توانائی سپلائی، تجارت اور داخلی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔
اسی لیے بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا پاکستان کو ممکنہ علاقائی جنگی ماحول کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، اور کیا اس پر پارلیمنٹ یا کابینہ میں مناسب بحث ہوئی ہے۔
عمران خان کے خلاف مختلف مقدمات بھی تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ قانونی ٹیم کی تیاری اور حکمت عملی کمزور ہے۔ بعض اوقات عدالتوں میں مقدمات کی مؤثر پیروی نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔
اگر یہ صورتحال درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کے پاس ایک مضبوط اور منظم لیگل پینل موجود نہیں جو قانونی محاذ پر پارٹی کا مؤثر دفاع کر سکے۔
پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات پہلے ہی عوام کو پریشان کر رہی ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور سیاسی غیر یقینی صورتحال اس بے چینی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
اگر تحریک انصاف اپنی حکمت عملی کو منظم نہیں کرتی تو عوامی حمایت کے باوجود اس کی سیاسی تحریک کمزور پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر حکومت مہنگائی اور معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی تو اپوزیشن کے لیے سیاسی میدان کھل سکتا ہے۔
بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر تحریک انصاف واقعی عمران خان کی رہائی کو اپنی مرکزی ترجیح سمجھتی ہے تو پارٹی کی قیادت کو خود آگے آ کر مسلسل اور منظم سیاسی جدوجہد کرنی ہوگی۔ صرف کارکنوں پر انحصار کرنے کے بجائے قیادت کو بھی عملی قربانی دینا ہوگی۔
اسی طرح حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی مشکلات کے حل کے لیے واضح اور قابلِ اعتماد پالیسی پیش کرے۔ کیونکہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ متاثر عام پاکستانی شہری ہو رہا ہے۔
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور علاقائی چیلنجز کے ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے۔ عمران خان کی رہائی کا مسئلہ، تحریک انصاف کی حکمت عملی، توانائی بحران اور عالمی کشیدگی، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں غیر یقینی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اگر سیاسی قیادت نے سنجیدگی اور حکمت سے کام نہ لیا تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس صورتحال کو دانشمندی سے سنبھالا گیا تو یہی بحران اصلاحات اور بہتری کا موقع بھی بن سکتا ہے۔


