مایا اینجلو لکھتی ہیں کہ “ایک مضبوط عورت ہر چیز محسوس کرتی ہے، مگر اکثر خاموش رہتی ہے۔ اس کی خاموشی اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی گہرائی ہوتی ہے”
کچھ عورتیں شور نہیں کرتیں، وہ ٹوٹتی بھی ہیں تو خاموشی سے۔وہ چیخ کر اپنے دکھ بیان نہیں کرتیں بلکہ مسکرا کر زندگی کے بوجھ اٹھاتی رہتی ہیں۔ دنیا انہیں “مضبوط عورت” کہہ کر سراہتی ہے، مگر شاید ہی کوئی اس طاقت کے پیچھے چھپے ہوئے جذباتی خلا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہو۔
اگرچہ یومِ خواتین کی شروعات 1909 میں امریکہ میں National Woman’s Day کے طور پر ہوئی، جسے سوشلسٹ پارٹی نے خواتین کے حقِ رائے دہی اور مساوات کے لیے منایا۔ 1910 میں Clara Zetkin نے اسے بین الاقوامی دن بنانے کی تجویز دی، جسے مختلف ممالک نے منظور کیا۔ پہلی عالمی تقریب 1911 میں آسٹریا، جرمنی، ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوئی۔ 8 مارچ کو عالمی دن کے طور پر منانے کا رواج 1917 کے روسی خواتین کے احتجاج کے بعد ہوا، اور 1975 میں اقوام متحدہ نے اسے باقاعدہ عالمی دن قرار دیاگیا ۔اس کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے یورپ سے ایشیا تک مختلف ادارے ،سرکاری و نجی تنظیموں نے اس سلسلے میں کام شروع کیا ۔
تاہم عالمی خواتین کا دن صرف خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا دن نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی فراہم کرنا کہ جذباتی تحفظ کتنا ضروری ہے۔
جذباتی تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر، کام کی جگہ اور معاشرے میں خوف، تذلیل، ذہنی دباؤ یا مسلسل تنقید کے بغیر خود کو محفوظ اور قابلِ احترام محسوس کرے۔ جب ایک عورت کو جذباتی تحفظ ملتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتی ہے، خود اعتمادی کے ساتھ فیصلے کر سکتی ہے اور معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔بدقسمتی سے دنیا کے بہت سے معاشروں میں خواتین کو صرف جسمانی نہیں بلکہ جذباتی عدم تحفظ کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ان کی باتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے،ان کے جذبات کو کم اہم سمجھا جاتا ہےیا انہیں مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ عورت کی حقیقی عزت صرف الفاظ یا نعروں سے نہیں بلکہ اس کے احترام، اعتماد اور جذباتی سکون کو یقینی بنانے سے ہوتی ہے۔
جب معاشرہ خواتین کو جذباتی طور پر محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے تو نہ صرف خواتین بلکہ پورا معاشرہ زیادہ متوازن، پرامن اور ترقی یافتہ بن جاتا ہے۔معاشرے میں مضبوط عورت کی ایک مخصوص تصویر بنا دی گئی ہے۔ وہ عورت جو ہر مشکل کا سامنا کر لے، جو آنسوؤں کو کمزوری نہ بننے دے، جو دوسروں کو سہارا دے مگر خود سہارا نہ مانگے۔ بظاہر یہ تعریف بڑی خوبصورت لگتی ہے، مگر اس کے اندر ایک تلخ حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔یہ توقع دراصل اس عورت کو ایک ایسی دیوار بنا دیتی ہے جس پر سب ٹیک لگا سکتے ہیں، مگر جس کی اپنی تھکن اور دراڑوں کو کوئی نہیں دیکھتا۔
حقیقت یہ ہے کہ مضبوط عورت بھی انسان ہوتی ہے۔ اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں، اس کے دل میں بھی خوف، تنہائی اور تھکن جنم لیتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب معاشرہ کسی عورت کو مضبوط کا لقب دے دیتا ہے تو اس سے یہ حق بھی چھین لیتا ہے کہ وہ کبھی کمزور پڑ سکے۔
بچپن سے ہی بہت سی لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، انہیں صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عادت ایک شخصیت بن جاتی ہے۔ وہ ہر مشکل میں دوسروں کا سہارا بنتی ہیں، خاندان کو سنبھالتی ہیں، رشتوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں، اور ہر بحران میں خود کو پیچھے رکھ دیتی ہیں۔مگر یہی مسلسل مضبوطی ایک ایسا جذباتی خلا پیدا کر دیتی ہے جسے شاید ہی کوئی محسوس کرتا ہو۔
اگرچہ مضبوط عورت کے ساتھ ایک عجیب تضاد جڑا ہوتا ہے۔ لوگ اس کی طاقت کی تعریف تو کرتے ہیں، مگر اس کی تنہائی کو نہیں دیکھتے۔ وہ ہر کسی کی بات سن لیتی ہے، ہر کسی کے دکھ میں شریک ہو جاتی ہے، مگر جب اس کے اپنے دل پر بوجھ بڑھ جاتا ہے تو اکثر اس کے پاس سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔یہ خلا صرف تنہائی کا نہیں بلکہ احساس کی کمی کا خلا ہوتا ہے۔
بعض اوقات مضبوط عورت کے اردگرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں، مگر پھر بھی وہ اپنے اندر ایک عجیب سی خالی جگہ محسوس کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس سے ہمیشہ طاقت کی توقع رکھتے ہیں، مگر اس کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
جدید دور میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید معاشرتی بیانیوں نے “مضبوط عورت” کی ایک ایسی تصویر بنا دی ہے جو ہمیشہ پراعتماد، ہمیشہ کامیاب اور ہمیشہ بے خوف دکھائی دیتی ہے۔
یہ تصویر بظاہر حوصلہ افزا لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ عورت پر ایک اور دباؤ ڈال دیتی ہے۔ اب اسے نہ صرف حقیقی زندگی میں بلکہ مجازی دنیا میں بھی ہمیشہ مضبوط نظر آنا ہوتا ہے۔
اس دباؤ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سی عورتیں اپنے اصل جذبات کو چھپانے لگتی ہیں۔ وہ اپنی تھکن، اداسی اور کمزوری کو ظاہر نہیں کرتیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں ان کی “مضبوط” شناخت متاثر نہ ہو جائے۔
مگر اصل طاقت شاید یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ ٹوٹے۔
اصل طاقت یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوری کو بھی قبول کر سکے۔ایک مضبوط عورت کو بھی کبھی کبھی صرف ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس سے یہ نہ کہے کہ “تم بہت مضبوط ہو”، بلکہ یہ کہے کہ “اگر تم تھک گئی ہو تو کچھ دیر آرام کر لو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔”
معاشرے کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عورت کی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے دل میں درد نہیں ہوتا۔ وہ بھی محبت، توجہ اور سمجھ کی اتنی ہی محتاج ہوتی ہے جتنا کوئی اور انسان۔
درحقیقت جذباتی خلا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو صرف اس کی طاقت کی وجہ سے پہچانا جائے اور اس کے جذبات کو نظر انداز کر دیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ بہت سی مضبوط عورتیں بظاہر کامیاب اور بااعتماد نظر آتی ہیں، مگر اندر سے ایک خاموش تنہائی ان کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔
ہمیں مضبوط عورت کی تعریف ضرور کرنی چاہیے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف طاقت کی علامت نہیں بلکہ ایک حساس انسان بھی ہے۔
اگر ہم واقعی عورت کی طاقت کا احترام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے جذبات کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہوگی۔
کیونکہ کبھی کبھی سب سے مضبوط نظر آنے والے لوگ ہی سب سے زیادہ خاموشی سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔لہذا خواتین کے عالمی دن کا مقصد صرف معاشی ،سماجی،سیاسی اور معاشرتی حقوق کے لیے لڑنا نہیں بلکہ جذباتی تحفظ کو گھر کے اندر اور باہر یقینی بنانا چاہیے ۔کیونکہ ایک جذباتی طور پر مظبوط عورت ہی اپنے حق کے لیے بولنا جانتی ہے ۔اور اس سب کو سمجھنے کے لیے جذباتی ذہانت ہونا بہت ضروری ہے ۔


