پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال ایک ایسے بحران کی طرف اشارہ کر رہی ہے جہاں عوام کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی ہوشربا اضافے کے بعد کچھ صحافتی حلقوں میں ایک خبر وائرل ہوئی ہے کہ حکومت نے سٹاک میں 10 لاکھ ٹن پیٹرول اور ڈیزل موجود ہونے کے باوجود، رمضان المبارک کے مقدس مہینے سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے سے پیٹرولیم انڈسٹری کو مبینہ طور پر 72 ارب روپے کا فائدہ پہنچا ہے، جبکہ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر پابندیوں کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ واقعی ناگزیر تھا، یا یہ حکومت کی طرف سے عوام پر انتقام کا ایک طریقہ ہے؟
اس حوالے سے عالمی تنازعات اور پاکستان پر اثرات کی روشنی معاملات کا جائزہ لیں تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران نے آبنائے ہرمز سے صرف امریکہ اور اسرائیل کے بحری جہازوں پر پابندی لگائی ہے، جبکہ دیگر جہازوں کے لیے راستہ کھلا ہے۔ یہ پابندی ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے تناظر میں لگائی گئی ہے، جس نے عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ مارچ 2026 میں عالمی تیل کی قیمتیں 80 سے 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں، جو کہ تنازعات کی وجہ سے 35 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ پاکستان، جو اپنا زیادہ تر تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے، اس راستے پر منحصر ہے۔ اس لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر لگتا ہے، لیکن حکومت کی جانب سے اسے راتوں رات نافذ کرنے کا فیصلہ سوالات اٹھاتا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ حکومت عوام پر مہنگائی کا ایٹم بم گرانے کے لیے ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا اقتدار عوامی ووٹ سے نہیں، بلکہ فارم 47 کی وجہ سے ہے۔ عوام نے جس شخص کو مینڈیٹ دیا تھا، وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے اور اس کی بینائی تک چھین لی گئی ہے۔ ایسے میں مسلط کئے گئے حکمرانوں سے توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ عام آدمی کے خیرخواہ ہوں گے؟ عوام کو اچھی طرح یاد ہے کہ کوویڈ-19 کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم تھیں، لیکن پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔ آج، جب عالمی منڈی میں تیل تقریباً 80 ڈالر فی بیرل ہے، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 322 روپے کر دی گئی ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت عوام سے اسی طرح انتقام لے رہی ہے جیسا کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ روا رکھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہنگائی کا یہ بوجھ کب تک عوام کے کندھوں پر ڈالا جاتا رہے گا؟ حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد، اشیائے خوردونوش سمیت ضروریات زندگی کی تمام چیزوں کی قیمتوں میں دگنا اضافہ ہوگا۔ غریب عوام پہلے ہی بیروزگاری، بدترین معاشی بدحالی اور کنٹرول سے باہر مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور اب وہ مزید پس جائیں گے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 38 کے مطابق، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو بنیادی حقوق اور ریلیف فراہم کرے، لیکن یہاں ایسا لگتا ہے کہ ریلیف صرف حکمرانوں کا حق ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد، اصولی اور اخلاقی طور پر حکومت کا فرض تھا کہ وہ حکومتی وزراء اور بیوروکریسی کی عیاشیوں پر کنٹرول کرتی۔ تمام سرکاری عہدیداروں کو ملنے والے مفت پیٹرول کی سہولت ختم کر کے انہی پیسوں سے عوام کو سبسڈی دی جاتی۔ لیکن بدقسمتی سے، کاغذوں میں پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، لیکن حقیقت میں یہ ملک صرف چند خاندانوں کا ہے۔ وہی چند خاندان ملک کے حکمران بھی ہیں اور لوٹ مار میں برابر کے شریک بھی۔ یہی خاندان مل کر آئی ایم ایف سے قرضے لیتے ہیں، عیاشیاں کرتے ہیں اور ان قرضوں کا بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں نہ میڈیا آزاد ہے، نہ عدالتی نظام میں عوام کے لیے کوئی جگہ باقی ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کا کوئی عنصر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی جیسے شہر میں بجلی، گیس، پانی ناپید اور سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ پولیس عوام کا تحفظ کرنے کے بجائے لوٹ مار کرنے والوں کی پشت پناہی کرتی نظر آتی ہے، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ حکمران اس قدر بے شرم اور بے حس ہو گئے ہیں کہ وہ غریب عوام پر ماہ مبارک رمضان میں مہنگائی کا ایٹم بم گرا کر میڈیا کے سامنے ڈھٹائی سے مہنگائی کے جن کو بوتل سے باہر نکالنے کی ترجمانی کرتے ہیں۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں حکمرانی کے لیے کس قسم کے سنگ دل طبقے کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جو غریب عوام پر مہنگائی کا بم گرا کر مسکرا کر جواب دیتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بیدار ہو اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بحران مزید گہرا ہوتا چلا جائے گا، اور ملک کے غریب طبقے کی حالت مزید ابتر ہو جائے گی۔


