لاکھوں کروڑوں درود پاک نبی کریمﷺ اور ان کی اہل بیتؑ پر۔ جب جب اسلام میں انتشار اور فساد نے جگہ بنانے کی کوشش کی ہے، اہل بیتؑ نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ انتشار صرف بیمار ذہنیت کا خاصہ ہے، جبکہ حق پر قائم رہنا مومن کا شیوہ۔
حسینیت صرف کربلا کے ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ حسینؑ اور اہل بیتِ حسینؑ ایک ابدی نظام کا نام ہے جو قیامت تک دین کی حفاظت کرے گا۔ یہ نظام ہر دور کے انتشار اور ہر عہد کی “کربلا” کا مقابلہ اپنی جان کے نذرانے سے کر کے دین کے ہر حصے کو زندگی بخشتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای، جو کہ حسینی سید ہیں اور جن کا شجرہ مبارک حضرت زین العابدینؑ سے ملتا ہے، ان کی شہادت نے ایک بار پھر تاریخ دہرا دی ہے۔
جب ایک اسلامی ریاست داخلی و خارجی دشمنوں کی تاک میں ہو، بین الاقوامی طاقتیں متحد ہو کر جھپٹنے کو تیار ہوں اور منافقین موقع کی تلاش میں ہوں، تب “نظمِ ریاست” اور “قیادت” کا تسلسل سب سے اہم ہوتا ہے۔ یہ اہل بیتؑ کے پیروکاروں کی بصیرت کا اعجاز ہے کہ نہ صرف 24 گھنٹے کے اندر نئے رہبر کا چناؤ کیا گیا بلکہ اس اہم عمل کو سپریم لیڈر کی تدفین سے بھی پہلے مکمل کیا گیا تاکہ دشمن کو مسلم قوت میں رتی برابر بھی کمزوری یا قیادت کا خلا نظر نہ آئے۔
تاریخی طور پر یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو وصالِ نبویﷺ کے فوراً بعد سقیفہ کے مقام پر اپنائی گئی تھی۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ انتخاب میں چند اہم لیڈران کے درمیان جو علمی و فکری اختلافِ رائے ہوا اور جس کی وجہ سے حتمی اعلان میں کچھ تاخیر ہوئی، اسے کسی منفی سیاست کے بجائے اسی پیرائے میں دیکھنا چاہیے جیسا مقام اس دن سقیفہ میں بھی رہا ہوگا۔ چونکہ تمام صحابہ کرامؓ عادل تھے اور اسلام کے سچے جانثار تھے، اس لیے ان میں سے کسی کو بھی سیاست یا خلافت کا اشتیاق نہ تھا، بلکہ ہر ایک کی تڑپ صرف اسلام کی سربلندی تھی۔ قدرت نے آج تہران میں اسی منظر کو دہرا کر گویا ان لوگوں کو جواب دے دیا ہے جو سقیفہ کے اختلاف کو بنیاد بنا کر امت میں دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ ثابت ہو گیا کہ جب بقائے اسلام کا معاملہ ہو، تو کبارِ امت کا اختلاف رائے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ بہترین نتیجے تک پہنچنے کے لیے ہوتا ہے۔
آج تہران میں بھی اسی محبت بھرے شورائی عمل کی جھلک نظر آئی کہ تدفین سے قبل ہی دوسرے سپریم لیڈر کا چناؤ کر کے دشمنوں کے ارادوں پر پانی پھیر دیا گیا۔ اہل بیتِ رسول کریمﷺ کی قربانیوں نے آج پوری امت کو وہی منظر دکھا کر تفرقے کی راہیں بند کر دی ہیں۔ یہ تقابل ان عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو مسلمانوں میں انتشار چاہتے ہیں۔
خدا ایران اور تمام بلادِ اسلامیہ کا حامی و مددگار ہو، اور حضرت علی خامنہ ای کے درجات کو اللہ کریم بلند سے بلند فرمائے۔ آمین۔


