بحران سے نظام سازی تک:فوکو،کلائن اور ہاروی کی روشنی میں پاکستان/سائرہ رباب

آج کل پاکستان میں کئی تشویشناک رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں افطار پارٹی کے موقع پر طلبہ پر لاتھیاں چلائی گئیں، خواتین کے مارچ پر سختی کی گئی، اور اسکول، کالج اور بعض دفاتر آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بند کر کے آن لائن کام کی طرف منتقل کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ پاکستان کسی ممکنہ جنگی صورتحال میں سعودی عرب اور امریکہ کے اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔ بظاہر یہ سب الگ الگ واقعات محسوس ہوتے ہیں اور ان کے درمیان تعلق فوراً واضح نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ہم انہیں میشیل فوکو (Biopolitics)، نومی کلائن (Shock Doctrine)، اور ڈیوڈ ہاروی (Neoliberalism & Social Fragmentation) کے نظریات کی روشنی میں دیکھیں تو یہ واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
فوکو کے مطابق جدید ریاستیں صرف قوانین کے ذریعے نہیں بلکہ لوگوں کے جسم، حرکت اور روزمرہ زندگی کو منظم کر کے طاقت حاصل کرتی ہیں۔ تاریخ میں جب بھی بڑی وبائیں پھیلیں تو ریاست نے لوگوں کی نقل و حرکت، میل جول اور رہن سہن کو کنٹرول کرنے کے طریقے اختیار کیے۔ کووڈ وبا کے دوران ہم نے اسی ماڈل کو دوبارہ دیکھا: لاک ڈاؤن، قرنطینہ، ویکسینیشن ٹریکنگ، نقل و حرکت پر پابندیاں اور ڈیجیٹل نگرانی (surveillance)۔ ان اقدامات کا مقصد صرف صحت کا تحفظ نہیں بلکہ آبادی کو منظم کرنا، لوگوں کی mobility کو کنٹرول کرنا اور بڑے اجتماعات کو محدود کرنا بھی ہوتا ہے تاکہ احتجاج یا مشترکہ کارروائی (collective action) کے امکانات کم ہو جائیں۔کچھ دانشوروں کے مطابق کووڈ کے دوران دراصل معیشت کو تیزی سے ڈیجیٹل نظام اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم سرمایہ داری (digital platform capitalism) کی طرف منتقل کیا گیا۔
نومی کلائن کے مطابق (Shock Doctrine) بحرانوں کو اکثر اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ ہنگامی حالات میں ایسے فیصلے نافذ کر دیے جائیں جو عام حالات میں قبول کرنا مشکل ہوتے ہیں۔ ابتدا میں یہ اقدامات لوگوں کے لیے مشکل اور غیر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ لوگ ان کے عادی ہو جاتے ہیں اور وہی ہنگامی اقدامات آہستہ آہستہ مستقل نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کووڈ (Covid) کے دوران دور دراز کام، آن لائن تعلیم، گگ اکانومی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیز رفتار توسیع نے بڑی ٹیک کمپنیوں کو غیر معمولی طاقت دی۔ ملازمین کی کارکردگی، وقت اور آن لائن سرگرمیوں کا ڈیٹا مسلسل جمع ہونے لگا جس سے کمپنیوں کو نگرانی، کنٹرول اور فیصلوں میں مزید طاقت ملی، جبکہ ملازمین کے حقوق اور اجتماعی طاقت کمزور ہوتی گئی۔مثال کے طور پر سرکاری ملازمتوں میں کمی اور نجکاری سے لاکھوں لوگوں کا روزگار غیر یقینی ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ غیر محفوظ اور لچکدار لیبر مارکیٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ڈیوڈ ہاروی کے مطابق نیولیبرل نظام میں بحران صرف معیشت ہی نہیں بلکہ سماجی ڈھانچے کو بھی بدل دیتے ہیں۔ جب کام، تعلیم اور رابطے زیادہ تر آن لائن ہو جائیں تو لوگ جسمانی طور پر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس سے کمیونٹیز کمزور پڑتی ہیں، مقامی یکجہتی گھٹتی ہے، اور یونین سازی یا اجتماعی مطالبات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی عمل کو سماجی fragmentation کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ حالات میں خواتین کے مارچ پر سختی، یونیورسٹیوں کی آن لائن کلاسز، اور اداروں کے ممکنہ ریموٹ نظام کی طرف جانے کے رجحان کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جب لوگ الگ الگ گھروں میں محدود ہو جائیں تو نہ صرف سماجی رابطے کمزور ہوتے ہیں بلکہ ریاست اور کارپوریشنز کے لیے نگرانی (surveillance)، نقل و حرکت کی نگرانی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے کنٹرول کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔.
یوں دیکھا جائے تو بحران، چاہے وہ وبا ہو یا جغرافیائی سیاسی کشیدگی، صرف طبی یا اقتصادی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ اکثر معاشی نظام کی ازسرنو ترتیب، ڈیجیٹل پلیٹ فارم معیشت کے پھیلاؤ اور سماجی ربط کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ نتیجتاً کمیونٹیز بکھر جاتی ہیں، اجتماعی مزاحمت کمزور پڑتی ہے اور ریاست و کارپوریشنز کی طاقت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں