کیا پیغمبر اسلام نے ایک چھ سالہ بچی سے شادی کی تھی؟-محمود اصغر چوہدری

میلانیا بتانے لگی کچھ سال پہلے ہماری ایک وزیرنےایک ٹی وی ٹاک شو میں پیغمبر اسلام پر یہ اعتراض لگادیا تھا کہ انہوں نے ایک چھ سال کی بچی عائشہ سے نکاح کرلیا تھا اور جب وہ بچی نو سال کی ہوئی تو رخصتی ہوئی ۔پھر وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ،”محمود! کیا یہ سچ ہے؟ یہ تو سننے میں ہی بڑا عجیب لگتا ہے۔”

میں نے جواب دیا ۔ میلانیا کچھ دن پہلے میں اپنی بارہ سالہ بیٹی کو سمجھا رہا تھا کہ شکسپئیر انگریزی ادب میں ایک اتھارٹی ہے اسے پڑھا کرو ۔میری ترغیب پر اس نے شکسپئیر کا شہرہ آفاق ڈرامہ ”رومیو جیولٹ ”پڑھ لیا تو کہنے لگی کہ پاپا آپ اس رائٹر پر تو کیس ہونا چاہئے ۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگی اس کہانی میں رومیو ایک تیرہ سالہ بچی” جیولیٹ” کو ورغلا رہا ہے ۔ اس کہانی کے لکھاری پرتو چائلڈ ابیوز کا مقدمہ ہونا چاہئے اور آپ اسی کو گلیمرائز کر رہے ہیں ۔ سب نے قہقہہ لگایا ۔ پوچھنے لگے تو تم نے پھر اسے کیا جواب دیا ؟
میں نے اسے سمجھایا کہ بیٹا انیسویں صدی میں بننے والے قوانین کو پانچ صدیاں پیچھے جا کر لاگونہیں کروایاجا سکتا ہے۔ اسی ڈرامے میں جیولیٹ کی ماں اپنی بیٹی کو یہ تک کہہ رہی ہے کہ میں تمہاری عمر میں
ماں بن چکی تھی ۔

پروفیسر صاحب کی بیوی ایک دفعہ پھر غصے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو خالصتاًاطالوی انداز میں فضا ء میں اوپر نیچے بلند کرتے ہوئے کہنے لگی کہ رمیو جیولٹ ایک فرضی کہانی ہے ایک ڈرامہ ہے ۔ ادب یا فکشن کا حقیقت سے کیا تعلق ہے ؟

میں نے کہا تو چلئے حقیقی واقعات بیان کر دیتے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ یہ 18 سال کی عمر والا قانون کون سی صدی میں شروع ہوا ہے؟ اٹلی کی شہزادی کیتیرینا سفورسا کی شادی 10سال کی عمر میں ہوئی ۔ برطانیہ کی شہزادی ازابیلا آف ویلوا کی شادی انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ دوم سے اس وقت ہوئی جب اس کی عمر 7 سال تھی ۔ انسان صدیوں سے جنسی رضا مندی کی عمر بلوغت کی نشانیوں سے ہی لگاتا رہا ہے۔ جانتے ہیں کیوں ؟کیونکہ ان معاشروں کا تمدن رہن سہن اور انسانی صحت کا معیار مختلف تھا۔ انسان کی کل أوسط عمر 30سال تھی وہ 30سال میں ساری گرہستی کرکے فوت ہوجاتا تھا ۔

ماریہ بولی محمود اب تم بادشاہوں کی شادیوں کی مثال ایک مذہبی پیشوا کی شادی سے تو نہیں دے سکتے ؟

میں نے کہا او کے اب مذہب کی بات کرلیتے ہیں تم بتاؤ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت مریم علیہ السلام کی عمر کتنی تھی ۔ مسیحی روایات میں ہے کہ ان کی عمر 12سال تھی۔

ہندووں کی مذہبی کتب کے مطابق جب شری رام نے سیتا سے شادی کی تو اس وقت سیتا کی عمر صرف 6 سال تھی ۔

مسیحی روایات کے مطابق جب حضرت مریم نے جوزف سے شادی کی تو اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی ۔

یہودیوں کی بعض کتب میں حضرت إسحاق نے جب 40 سال کی عمر میں ربقہ سے شادی کی تو ان کی عمر 3 سال تھی

ماریہ بولی لیکن یہ سب تاریخی روایات ہیں اس کے بارے کسی کی بھی حتمی رائے نہیں ہے ۔

میں نے زور کا قہقہہ لگایا اور تالی بجاتے ہوئے کہا کہ۔تو پھر سنو حضرت عائشہ رض کی عمر بھی کسی الہامی کتاب میں نہیں بیاں ہوئی۔ یہ بھی ایک متنازعہ روایت ہے جس پر علمائے اسلام کا شدید اختلا ف ہے جمہورعلمائے کرام کا اتفاق ہے کہ حضرت عائشہ رض کی رخصتی کے وقت عمر انیس سال تھی

وہ کہنے لگی چھوڑو کتب کو تم بتاؤ تم کس کی تشریح مانتے ہو
۔
میں نے کہا میں کوئی مورخ تو نہیں ہوں لیکن بڑا ہی مشہور چینی محاورہ ہے کہ “سچائی کو فیکٹس یعنی حقائق میں تلاش کرو ” ۔ تو فیکٹس یہ بتاتے ہیں کہ شادی کے وقت حضرت عائشہ رض کی عمر چھ سال یا نو سال ہوہی نہیں سکتی ۔

پہلی دلیل یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے آپ کی زندگی میں جس شدت سے آپ پر اعتراضات کیے، اگر یہ شادی اُس معاشرے میں کوئی غیر معمولی یا معیوب امر ہوتی تو دشمنانِ مکہ اسے سب سے بڑا ہتھیار بناتے، مگر تاریخ میں مخالفین کا ایسا کوئی اعتراض موجود نہیں ہے

دوسری بات یہ کہ حضرت عائشہؓ خود بعد میں ایک عظیم عالمہ، فقیہہ اور ہزاروں احادیث کی راوی بنیں۔ اگر ان کی ازدواجی زندگی میں کوئی جبر یا ناانصافی ہوتی تو وہ نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ بعد از وصالِ نبوی بھی اس پر اعتراض اٹھا سکتی تھیں۔

اور تیسر ا اور سب سے اہم نکتہ ان یورپی شہریوں کے لئے بہت اہم ہے جو کسی سرکاری دفتر میں کام کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کوباخوبی جانتے ہیں اور ہم سے سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ امیگرنٹس کے پاسپورٹس پر ان کی اکثریت کی تاریخ پیدائش یکم جنوری کی لکھی ہوتی ہے ؟ کبھی آپ نے غور کیا ہے ایسا کیوں ہے ؟یہ سب کے سب یکم جنوری کو ہی پیدا کیسے ہوگئے
تو سنو وہ ا سلئے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی ترقی پذیر ممالک میں برتھ سرٹیفیکیٹ رجسٹر کرنے کا نظام موجود نہیں ہے ۔ یعنی ابھی بھی دنیا میں ایسے بیشترممالک موجود ہیں کہ وہ تاریخ پیدائش کا اندازہ اس وقت لگانے کی کوشش کرتے ہیں جب انہیں پاسپورٹ بنوانا ہوتاہے ۔ ورنہ عام زندگی میں وہ بچوں کی عمروں کا اندازہ صرف ان کی بلوغت کی نشانیو ں سے ہی کرتے ہیں ۔
اگر ہم اس اکیسیویں صدی میں دنیا بھر کے ممالک میں رجسٹر کا معیار نہیں بنا سکے تو ساتویں صدی کے ایک واقعہ پر تنقید کرنے کے لئے اتنی حتمی رائے کیسے دے سکتے ہیں

اب آتا ہوں اصل نکتے کی طرف۔ علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عائشہ کی رخصتی ہجرت مدینہ کے بعد ہوئی ۔ دوسری جانب حضرت عائشہ کے بارے میں علمائے کرام کا ماننا ہے کہ وہ اعلان نبوت کے بعد بچو ں میں اسلام قبول کرنے والی پہلی شخصیات میں سے تھیں ۔

اس حساب سے اگر 610ء میں پیغمبر اسلام نے اعلان نبوت کیا اور ہجرت 622 عیسوی میں کی تو ان میں 12 سال کا وقت بنتا ہے ۔ تو پھر وہ شادی کے وقت چھ سال کی کیسے ہوسکتی ہیں؟ اگر وہ بچوں میں اسلام قبول کرنے والی تھیں تو یقینا وہ اعلان نبوت کے وقت شعوری عمر میں ہوں گی ۔

تو یقینی طور پر شادی کے وقت ان کی عمر 19 سال ہونی چاہئے

حقیقت تو یہ ہے کہ جس نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک صحابیہ کا نکاح صرف اس بات پر ختم کرا دیا تھا کہ اسے اپنا خاوند پسند نہیں تھا۔ ان کے بارے میں ہم یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ وہ خود کسی ایسی خاتون سے شادی کر لیتے جس میں
اس کی رضا کی شعوری عمر شامل نہ ہو تی

صلی اللہ علیہ وسلم

اپنا تبصرہ لکھیں