عالمی تنازعات میں پاکستان کا خاموش کردار/سیّد مہدی بخاری

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس اور پاکستان کے کردار کا ذکر کیا ہے اور پبلک میں تین تجاویز رکھی ہیں۔
۔ ایران کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں
– تعمیر نو کے لیے رقم ادا کی جائے
۔ مستقبل میں کسی بھی جارحیت (اسرائیل امریکا کی جانب سے) سے بچنے کے لئے عالمی ضمانت دی جائے
ایرانی صدر کے یہ مطالبات کتنے قابل عمل ہیں یا نہیں وہ الگ بحث ہے۔ مدعا یہ ہے کہ روس کے ساتھ پاکستان بھی اس جنگ کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں یہاں پاکستان کے کردار کا ذکر کروں گا۔ عالمی سفارتی اسٹیج پر پاکستان ایک طاقت بن کر ابھرا ہے اور گزشتہ دو ڈھائی سال میں بالخصوص پاک بھارت جنگ کے بعد اس نے اپنی اہمیت کو منوایا ہے۔
ایک جانب ٹرمپ جیسے کارٹون اور اڑیل بھینسے کو کھونٹے پر باندھ کر رکھا ہے اور دوسری جانب روس کے ساتھ بھی تعلقات کو معمول کی سطح پر لا رہا ہے۔ پوٹن کا طویل المدت مفاد ایران میں امن سے جڑا ہے۔ گوکہ موجودہ صورتحال پوٹن کو معاشی طور پر سوٹ کر رہی ہے۔ اس کا تیل زیادہ بک سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کئی ممالک کو روس سے تیل خریدنے پر ایک ماہ سے دو ماہ کی اجازت دے دی ہے یعنی روس پر عائد پابندیاں وقتی طور پر ہٹائی ہیں۔ لیکن پوٹن کا طویل مدتی مفاد ایران میں امن سے جڑا ہے۔ نہ اسے خانہ جنگی سوٹ کرتی ہے اور نہ ہی نظام کی تبدیلی۔ یہی مفاد چین کا بھی ہے۔ جس پر میں پہلے مفصل لکھ چکا ہوں۔
پاکستان کے لیے بھی ایران میں استحکام ایک اسٹریٹیجک ضرورت ہے۔ اگر ایران عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر پاکستان کے صوبہ بلوچستان پر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کا مفاد واضح ہے۔ ایران میں امن اور موجودہ نظام کا استحکام۔آج کی دنیا میں سفارتی محاذ پر پاکستان اپنا کردار رکھتا ہے اور اسے بخوبی نبھا رہا ہے۔ آج کی نسل کو شاید یہ معلوم بھی نہ ہو کہ پاکستان کبھی سفارتکاری کے میدان میں اتنا اہم تھا کہ اس نے امریکا اور چین کے سفارتی تعلقات بحال کرائے تھے۔
دنیا کی سیاست میں بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جنہیں اسٹیج پر کم اور پردے کے پیچھے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان بھی کئی مواقع پر ایسا ہی کردار ادا کرتا رہا ہے۔اس نے دو طاقتوں کے درمیان وہ دروازہ کھولا جسے برسوں سے بند سمجھا جا رہا تھا۔یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا۔ ایک طرف سرمایہ دار دنیا کی طاقت امریکا تھا اور دوسری طرف کمیونسٹ بلاک کی ایک بڑی قوت چین۔ دونوں کے درمیان بداعتمادی اتنی گہری تھی کہ براہ راست بات چیت کا تصور بھی مشکل تھا۔یہی وہ موقع تھا جب پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا۔
اس وقت پاکستان میں ایوب خان کا دور تھا۔ پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات تھے اور چین کے ساتھ بھی غیر معمولی دوستی۔ یہی دوستی اور اعتماد پاکستان کو ایک ایسے مقام پر لے آئے جہاں وہ دونوں طاقتوں کے درمیان پیغام رساں بن سکتا تھا۔امریکی صدر نکسن چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتے تھے مگر مسئلہ یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی براہ راست سفارتی پل موجود نہیں تھا۔ چنانچہ یہ پل پاکستان نے بنایا۔
پھر سنہ 1971 میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر پاکستان کے دورے پر آئے۔ سرکاری بیان یہ جاری ہوا کہ وہ اسلام آباد سے مری جا رہے ہیں کیونکہ طبیعت ناساز ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ایک خفیہ سفارتی مشن پر تھے۔اسی دوران پاکستان کے ذریعے وہ خاموشی سے چین پہنچے جہاں ان کی ملاقات چینی وزیر اعظم چو این لائی سے ہوئی۔ یہی وہ ملاقات تھی جس نے عالمی سیاست کی بساط بدل دی۔
اس خفیہ رابطے کے بعد اگلے سال 1972 میں صدر نکسن نے چین کا تاریخی دورہ کیا۔ یہ صرف ایک سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ سرد جنگ کی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔ امریکا اور چین کے درمیان دہائیوں کی دشمنی بتدریج ختم ہونے لگی اور عالمی طاقتوں کا توازن نئی شکل اختیار کرنے لگا۔ اگر اس وقت پاکستان یہ خاموش سفارتکاری نہ کرتا تو شاید امریکا اور چین کے درمیان رابطہ اتنی جلدی ممکن نہ ہوتا۔
وقت کے لمبے چکر کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان دوبارہ اسی سفارتی کردار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عالمی سیاست میں اس کی آواز دوبارہ سنائی دینے لگی ہے اگرچہ ابھی یہ سفر مکمل نہیں ہوا۔اصل امتحان اب بھی معاشی میدان میں ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان صنعتی ترقی کے ایک نمایاں مرحلے سے گزر رہا تھا اور اس کی معیشت کو ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ آج سفارتی محاذ پر اچھی خاصی پیش رفت ضرور دکھائی دیتی ہے مگر معاشی محاذ کا سفر ابھی خاصا طویل نظر آتا ہے۔
بہرحال دعا یہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان نہ صرف سفارتی میدان میں بلکہ معاشی میدان میں بھی وہ مقام دوبارہ حاصل کر لے جو کبھی اس کا تعارف ہوا کرتا تھا۔ کیونکہ عالمی اسٹیج پر عزت صرف سفارتی کردار سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت سے بھی ملتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں