ایک بوڑھی ماں آتی ہے۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ آنکھوں میں خوف۔ وہ کہتی ہے، “بیٹا، درد ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا۔”
ڈاکٹر فائل کھولتا ہے۔ ٹیسٹ دیکھتا ہے۔ دوا لکھ دیتا ہے۔ بات ختم۔
ماں واپس جاتی ہے۔ درد وہی۔ دل میں سوال وہی۔
یہ منظر روز دیکھتا ہوں۔ ہسپتال کے کوریڈور میں۔ وارڈ میں۔ او پی ڈی میں۔ ہمارے میڈیکل کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے: ایناٹومی، فزیالوجی، فارماکالوجی، پیتھالوجی۔ بہت کچھ پڑھایا جاتا ہے۔ مگر انسان کو سمجھنا؟ کم ہی۔
کیا ہم ڈاکٹر تیار کر رہے ہیں یا مشینوں جیسے ڈائگنوسٹیشن؟ جو لیبارٹری رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کرے۔ جو سنے تو صرف علامات۔ جو دیکھے تو صرف بیماری۔
مریض آدمی ہے۔ اس کے ڈر ہیں۔ اس کی امیدیں ہیں۔ اس کی کہانی ہے۔ وہ صرف جسم نہیں۔ وہ ایک کہانی ہے جو درد میں لکھی جا رہی ہے۔
میں نے دیکھا ہے ایک نوجوان ڈاکٹر کو۔ وہ مریض کی بات سنتا ہے۔ ہاتھ تھامتا ہے۔ آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہتا ہے، “فکر نہ کرو۔ ہم ساتھ ہیں۔” اس لمحے میں دوا سے زیادہ طاقت ہوتی ہے۔
مگر ہمارا نصاب؟ کتابیں موٹی۔ وقت کم۔ امتحانات سخت۔ ہمدردی سکھانے کا وقت کہاں؟ بیڈ سائیڈ مینرز، سننا، چھونا، یقین دلانا – یہ سب “ایکسٹرا” سمجھا جاتا ہے۔
ایک دن ایک مریض نے مجھ سے کہا، “ڈاکٹر صاحب، آپ نے میری دوا تو بدل دی۔ مگر میرا خوف نہیں گیا۔”
میں خاموش ہو گیا۔ کیونکہ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔
ہماری تربیت میں جہاں بیماری پر زور ہے، وہاں انسان پر کیوں نہیں؟ کیا AI کل تشخیص کر لے گا تو ہم کیا کریں گے؟ صرف دوا لکھیں گے؟ یا پھر وہ کام کریں گے جو مشین کبھی نہیں کر سکتی – دل کو سکون دینا، ہاتھ تھامنا، آنسو پونچھنا۔
سوچئے۔ اگر ڈاکٹر صرف ڈائگنوس کرے تو وہ ٹیکنیشن ہے۔ اگر ڈاکٹر مریض کو سمجھے، اس کے ساتھ کھڑا ہو، تو وہ ڈاکٹر ہے۔
ہمارے ہسپتالوں میں، ہماری کلاس رومز میں، اب وقت ہے اسے بدلنے کا۔ کتاب سے آگے نکلنے کا۔ انسان کی طرف واپس آنے کا۔
کیونکہ شفا صرف دوا سے نہیں آتی۔ شفا تو اس لمس سے آتی ہے جو کہتا ہے: “تم اکیلے نہیں ہو۔”
یہ لمس سیکھائیں۔ یہ لمس بچائیں۔
ورنہ ہم ڈاکٹر نہیں رہیں گے۔ صرف رپورٹ پڑھنے والے مشین بن جائیں گے۔
اور مریض؟ وہ پھر بھی تنہا رہے گا۔ درد کے ساتھ۔ خوف کے ساتھ۔


