کسوٹی/حسان عالمگیر عباسی

وطن پرستی دنیا کے مسائل کا حل نہیں ہے چونکہ یہ عمل سے زیادہ ردعمل ہے البتہ مٹی سے پیار فطرت کا عین تقاضہ ہے اور اس کی عدم موجودگی بھی ایک ردعمل کی کیفیت ہے۔ وطن پرستی دیگر صورتوں میں اونر شپ کی انتہا کا نام ہے اور یہ پرستش ردعمل میں جنم لیتی ہے چونکہ آئیڈیلازم زمینی حقائق کی وجہ سے کمپرومائز ہوتی رہتی ہے اور اگر ان دونوں یعنی آئیڈیل ازم اور ریئلازم میں باہم مطابقت نہ ہو تو ٹھیس یقینی ہے۔ وطن پرستی یا قوم پرستی یا کوئی بھی پرستش ردعمل کی کیفیت ہے البتہ زمینی حقائق کبھی کبھار اس ردعمل کی فطرت کو جگہ دے دیتے ہیں۔۔۔ فی الحقیقت و القیاس زمین اور بنی آدم کا تعلق ہی اصل ہے اور یہ اصل ماورائے تصورات کی نقل ہے۔ انسان کے لیے کائنات مسخر کی گئی ہے تاکہ وہ محضوظ ہو، سیکھے، جمالیات سنوارے، تدبر کرے، تحقیق کے بعد نتائج برآمد کرے اور علم و ادب میں اضافت کا باعث بنے؛ سیروا فی الارض اس کی ایک دلیل بنتی ہے۔۔۔ بدقسمتی سے اب انسانیت معراج کی اس سیڑھی پہ ہے جہاں بندوق اور گولی تو ہے لیکن ضبط و تحمل باقی نہیں ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔۔ نظام تو بن گئے ہیں لیکن انتظام نہیں ہے۔ از سر نو تعمیر و ترقی اور انسانیت کی بقا اور انتقامی کارروائیوں سے اجتناب اور نئے عالمی نظام یا نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل جیسے انتہائی بنیادی نکات درپیش ہیں۔ یہ سب منظر نامہ اور نامرادی ایک طرف البتہ اپنی مٹی سے محبت اور حب الوطنی آئیڈیل صورت میں وطن پرستی کے برعکس بعین ایک فطری جذبہ ہے اور یہ جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے جب زمینی حقائق اس جذبے کے بڑھ چڑھ کر مرادی بن جاتے ہیں۔ یہ سوٹی کے مانند سیدھی سی بات کجی بن گئی ہے کہ ریاست سب سے پہلے ہوتی ہے اور ریاست کی مرکزیت یا دھارے میں یا دیگر الفاظ میں قانون و آئین کو اولیت کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس آئینی و دستوری اہمیت کے پیچھے ریاست کی کوشش و کاوش شامل ہوتی ہے۔۔ ریاست کے فرائض ہوتے ہیں اور اس ریاست کے حقوق بھی ہوتے ہیں۔ اس موٹی لیکن اہم نکتے پہ کم و بیش ہر طبقے اور نقطہ ہائے نظر کا مکمل اتفاق ہے تبھی وہ ریاست کے باسی کہلاتے ہیں اور کسوٹی ہے۔ تمام تر کمیوں کے ہوتے ہوئے بھی مرکز بالخصوص خصوصی حالات میں اس مرکزیت کو چھیڑنا وبالِ جان بن جاتا ہے۔ ہم کسی مکتبہ فکر کے تبھی ہو سکتے ہیں جب مرکزی دھارے میں موجود ہوتے ہیں۔ عام حالات میں مکاتب فکر یا جماعتوں کا نقطہ ریاستی نقطہ نظر سے بہتر ہونا بھی ممکن ہے۔ ایسی صورت میں قومی بیٹھک کے نتیجے میں بہتر قوانین بنتے بھی ہیں ان کا اطلاق بھی ہوتا ہے ، اور عدل بھی قائم ہوتا ہے۔ جمہوریت میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کی یہی ذمہ داری ہے لیکن خصوصی حالات جب جنگ و جنون کا ترازو سفارت کاری اور جمہوری اقدار پہ بھاری ہے، نیا عالمی نظام جنم لے رہا ہے، اور طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے تو ایسے خصوصی حالات میں خصوصی فیصلوں کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور جب تمام سکولز اپنے مفادات پہ ریاست کو نہ صرف ترجیح دیتے ہیں بلکہ دل و جان سے اخلاقی حمایت بھی کرتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا کے اس نازک دور میں یہ ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اس ساری کہانی کی دلیل صرف یہ ہے کہ قومی مفاد پہلا مرتبہ ہے چونکہ قومی سالمیت دستور کی پہلی شق ہوتی ہے۔۔ پاکستان سفارتی محاذ پہ جہاں کامیاب ہے وہیں اصولی موقف کی حمایت بھی کر رہا ہے اور امن کا خواہاں ہے لیکن بد امنی کی صورت میں ذمہ داران پہ کڑی نگہ رکھے ہوئے ہے اور ایسے حالات میں آئیڈیل ازم کو کمپرومائز کرنے کا بھی آئینی حق رکھتا ہے اور یہی وہ ضابطہ ہے جس پہ قومیں کھڑی ہیں چونکہ زنگ آلود نظام ختم جبکہ نیا بہتر نظام ابھر رہا ہے۔۔ مستقبل میں بہتر سفارت کاری کے ذریعے بہتر صورتحال بننے کے نتیجے میں انسانیت مزید ترقی بھی کر سکتی ہے لیکن بد انتظامی سے بچنے کے لیے فی الحال قومیں عافیت پکڑے لکیروں میں تقسیم ہیں اور اسی کنڈکٹ کا فی الحال عالمی رجحان پایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں