ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ نے قیادت سنبھالنے کے پہلے آڈیو پیغام میں مطالبہ کیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے بند کیےجائیں، امریکی اڈے بند نہ ہوئے توحملے جاری رہیں گے، انکا یہ بیان امریکہ اسرائیل کیلئے کسی بڑے سانحے سے کم نہیں کیونکہ انکا خیال تھا کہ آیت اللہ خامنہ کو شہید کرنے کے بعد ایران کمزور ہوجایے گا۔انہوں مزید کہا کہ ہم پڑوسیوں سے دوستانہ روابط پر یقین رکھتے ہیں، ہم صرف ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔ انکا یہ پیغام مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے حوالے ایک اہم روٹ میپ ہے جو خطے میں صیہونیت کے عزائم کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جسکا براہ فائدہ ان ممالک کو بھی ہوگا جو اس وقت امریکہ اسرائیل کی غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ ان وسائل پر امریکہ اسرائیل کا قبضہ ہے لیکن بقاء کی ضمانت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام نے دنیا کو ثابت کردیا کہ ہم عظیم قوم ہیں، یقیناً یہ سب کچھ عوام کی حمایت کی وجہ سے اور میری اپنی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنارہےہیں، ہمیں اپنے دشمن کو شکست دینی ہے۔شہدا کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ایرانی عوام کا اتحادہ ہمیشہ قائم رہےگا اور عوام یکجہتی سے دشمن کو شکست دیں گے، انہوں کہا کہ ہم اپنے شہدا خصوصا مناب اسکول کے شہدا کا بدلہ لیے بغیر نہیں رہیں گے، یہ بات بھی بالکل واضح انداز میں کہا کہ آبنائے ہُرمُز دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے بند رہنی چاہیے، دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ ہم نے صرف ایک گھنٹے میں جنگ جیت لی تھی لیکن دوسری طرف اس جنگ کو لیکر بین الاقوامی طور عوامی ردعمل کو دیکھ کو ہوا ساختہ کھو بیٹھا ہے، برٹش تجزیہ نگار جارج گولیو کہتے ہیں کہ۔ مجھے اسرائیل کے اندر سے بتایا جارہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کا وہی حال کیا ہے جو اسرائیل نے غزہ کی تھی۔دوسری طرف ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایران جنگ بندی کیلئے تیار ہے لیکن دنیا ہمیں اس بات کی گارنٹی دے کہ آئندہ ایران پر کسی قسم کی جارحیت نہیں کیا جائے گا۔ اور اس جنگ میں ہونے والی تںاہ کاریوں کا معاوضہ ادا کریں اور ایران کے جائز اور قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔اسی طرح ایرانی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے بجلی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا تو ’آدھے گھنٹے کے اندر پورا خطہ تاریکی میں ڈوب جائے گا اور یہ بھی کہا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے ایران مزید حملے ہوئے تو ان ممالک میں موجود امریکی کمپنیوں بنکوں اور ہوٹلوں کا بھی نشانہ بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ یعنی اس وقت ایران جہاں آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کی معاشی نظام میں اپنے ملک کی اہمیت کو واضح کر رہا ہے وہیں ایران دنیا کو یہ بھی باور کر رہا ہے کہ ایران کی بقاء اور سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے خطے میں امریکی کی موجودگی کو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ اور گریٹر اسرائیل کی تکمیل کا منصوبہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے نو منتخب سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ نے مختصر آڈیو پیغام اپنے شہید والد کی عزم کی تکمیل کا جامع پیغام دیا کہ ایران کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں بلکہ پہلے سے زیادہ سخت گیر اور خطرناک ہوسکتا ہے جو کی بنیادی وجہ عوامی حمایت ہے کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے رجیم چینج کا منصوبہ بری طرح فلاپ ہوگیا۔ اب اگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی جنگوں بیڑوں اور اڈوں کا جائزہ لیں تو پہلے خلیجی ممالک کو سمجھنا ضروری ہے۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک جن میں سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ کی موجودگی ظاہری طور دفاعی معاہدوں کے تحت ہے لیکن پس پردہ عزائم اس وقت کھل آگیا جب امریکہ نے انہی ممالک میں موجود اپنے اڈوں کو ایران کے خلاف جارحیت کیلئے استعمال کیا۔اور ایران شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں براہ راست نشانہ بنایا۔ خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر براہ راست حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس وقت العدید ایئر بیس (قطر) مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً دس ہزار امریکی اہلکار تعینات ہیں۔ یہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا اہم مرکز بھی ہے۔ ایرانی حملوں میں اسے متعدد بار نشانہ بنایا گیا۔دوسرے نمبر پر بحرین میں بھی دو اہم اڈے نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین اور دیگر موجود ہیں،نیول سپورٹ ایکٹیویٹی (NSA) بحرین 1948 سے موجود ہے، 1990 کی دہائی میں توسیع کی گئی۔ یہ امریکی نیوی کی ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر ہے، جو خلیج فارس، بحیرہ احمر اور بحر ہند میں آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ بحری نوعیت کا ہے، جہاں تقریباً نو ہزار سے زیادہ امریکی اہلکار ہیں ایرانی حملوں میں یہاں بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا، تیسرے نمبر پر کویت میں امریکہ کے پانچ اہم اڈے کیمپ عریفجان، علی السالم ایئر بیس، کیمپ بوہرنگ اور دیگر موجود ہیں، اڈوں کو بھی 1991 کی خلیجی جنگ اور 2003 کی عراق جنگ کے دوران قائم۔ کیمپ عریفجان آرمی سینٹرل کا ہیڈکوارٹر ہے، لاجسٹکس اور سپورٹ کی نوعیت کا۔ علی السالم فضائی، بوہرنگ عراق اور شام کے لیے سٹیجنگ پوسٹ ہے۔ یہاں بھی تقریباً ساڑھے تیرہ ہزار سے زیادہ فوجی موجود ہیں۔ ان دونوں اڈوں کو بھی ایران نے حالیہ ہفتوں میں نشانہ بنایا۔
چوتھے نمبر پر متحدہ عرب امارات میں دو اہم اڈے الظفرہ ایئر بیس اور جبل علی پورٹ قائم ہیں اور ان اڈوں کو بھی 1990 کی دہائی قائم کیا گیا اور الظفرہ فضائی آپریشنز اور نگرانی، جبل علی بحری پورٹ کی نوعیت کا ہے جہاں ساڑھے تین ہزار کے قریب امریکن فوجی اہلکار تعینات ہیں۔متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایرانی میڈیا کا یہ بھی الزام ہے کہ یہاں موساد نے باقاعدہ مانیٹرنگ سیل قائم کی ہوئی ہے یہی وجہ ہے دبئی میں ایران نے کئی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بارے جہاں جاتا ہے کہ وہاں اسرائیل اور امریکہ کے انٹلیجنس موجود تھے۔اسی طرح عمان کی بات کریں تو اس ملک میں ایک اہم اڈہ دقم پورٹ اور دیگر تک رسائی حاصل ہے۔ اس اڈے کو بھی 1990 کے دفاعی معاہدے کے تحت رسائی، مستقل اڈے نہیں۔ دقم پورٹ بحری اور لاجسٹکس کی نوعیت کا ہے۔ اس اڈے کو بھی ایران نے نشانہ بنایا۔آخر میں مملکت سعودی عرب جہاں مکہ مدینہ ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان کا دل مملکت کیلئے دھڑکتا ہے اور سعودی عرب کا عالم اسلام کا مرکز سمجھتے ہیں۔ یہاں بھی دو اہم امریکی اڈے پرنس سلطان ایئر بیس اور دیگر معاون تنصیبات ہیں،پرنس سلطان ایئر بیس (PSAB) 1990 کی دہائی میں خلیجی جنگ کے دوران قائم کیا گیا، 2019 میں دوبارہ فعال کیا گیا۔ یہ فضائی اور میزائل ڈیفنس کی نوعیت کا ہے، جہاں امریکی فوجی سعودی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ تقریباً دو ہزار تین سو امریکی فوجی تعینات ہیں۔ جسے بھی ایران نے نشانہ بنایا، اس حملے کے بعد کچھ مذہبی انتہا طبقوں کی جانب سے پاکستان میں یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ایران سعودی عرب پر حملہ کردیا حالانکہ ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ ہدف کسی بھی طور پر اسلامی ممالک نہیں بلکہ امریکی تنصیبات ہیں جہاں سے ایران پر حملہ کیا جاتا ہے۔ یعنی اس وقت مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے تقریباً چالیس اہلکار تقریباً انیس مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ یہ موجودگی 1990-1991 کی خلیجی جنگ سے جاری ہے۔
امریکہ کا ہمیشہ موقف یہ رہا ہے کہ یہ تعیناتیاں علاقائی سلامتی اور اتحادیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم حالیہ واقعات اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اتنی بڑی فوجی موجودگی نے واقعی استحکام پیدا کیا ہے یا اس نے تنازعات کو مزید ہوا دی ہے۔ حالیہ برسوں کے متضاد نتائج اس بحث کو مزید شدت دے رہے ہیں۔یہ حملے علاقائی جنگ کے وسیع ہونے کے خدشات کو بڑھا رہے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ بی بی سی پر حال ہی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ اگر ریاض ایران کے خلاف جنگ میں عملی طور پر شریک ہونے کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکہ کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیوں کرنا چاہیے انہوں نے کہا ہے کہ جب امریکہ خطے میں ایران کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے اور امریکی شہری بھی اس تنازع کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، تو پھر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سعودی عرب، جسے امریکہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، براہِ راست فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے کیوں گریز کر رہا ہے۔اس سب صاف ظاہر ہوگیا کہ خلیج تعاؤن کونسل کا بنیادی مقصد مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو تقیسم کرکے خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا تھا جس کی تکمیل کیلئے اب امریکہ خلیجی ممالک پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔لہذا یہ وقت ہے کہ تمام مسلمان ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہوکر مشرق وسطیٰ سے امریکہ اور اسرائیل کی انخلاء کو یقینی بنائیں ورنہ امریکہ اور اسرائیل کے عزائم صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ وہ پورے عرب ممالک کو گریٹر اسرائیل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں اور اس بات کا اسرائیل میں امریکہ کے سفیر نے گزشتہ ماہ اپنے انٹرویو میں کہا کہ یہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ پورے عرب ممالک پر قبضہ کریں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خلیجی ممالک اس جنگ کو روکنے کیلئے متحد ہو جائیں اور مشرق وسطیٰ کے وسائل پر امریکہ اور اسرائیل کے قبضے کو روکنے اور ممالک کو بچانے کیلئے ایران ساتھ ملکر امن کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔


