اسلامو فوبیا : مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیانیہ/ماریہ بتول

“اسلاموفوبیا دراصل خوف نہیں بلکہ تعصب کی ایک شکل ہے ۔یہ ایک لفظ نہیں بلکہ بیانیہ ہے جو خوف کو جنم دیتا ہے.”
آج کی تیز رفتار تبدیلیوں کی دنیا میں، جہاں معلومات کی ترسیل نے پوری انسانیت کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے، وہیں نفرت، تعصب اور منافرت نے بھی نئی راہیں تلاش کر لی ہیں۔ انہی سنگین مسائل میں سے ایک انتہائی خطرناک رجحان اسلاموفوبیا یعنی اسلام سے نفرت کا مرض ہے۔ یہ محض ایک مذہب کے خلاف نفرت نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ایک چیلنج ہے۔
اگر ہم خوف اور نفرت کے اس تصور کو دیکھیں تو اس کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں۔ اسلام کا وجود میں آتے ہی اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہی قریش مکہ نے آپ کے خلاف اور آپ کے پیغام کے خلاف وہی کچھ کیا جو آج اسلاموفوبیا کہلاتا ہے: لوگوں کو آپ سے ملنے سے روکنا، آپ پر جھوٹے الزام لگانا (کاہن، شاعر)، اور آپ کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا۔
تاہم، مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف منظم نفرت کا آغاز صلیبی جنگوں (Crusades) سے ہوا، جب اسلام کو مسیحی دنیا کا بڑا دشمن قرار دیا گیا۔ بعد ازاں، اندلس (اسپین) سے مسلمانوں کے اخراج اور عثمانی سلطنت کے یورپ میں داخلے نے بھی اس خوف کو ہوا دی۔ مستشرقین (Orientalists) نے صدیوں تک اسلام کی غلط اور مسخ شدہ تصویر پیش کی، اسے تلوار کا مذہب، تشدد اور جہاد کا علمبردار قرار دیا، جو آج تک مغربی ذہنوں میں پیوست ہے۔
لفظ “اسلاموفوبیا” (Islamophobia) نسبتاً نیا ہے۔ یہ دو الفاظ “اسلام” اور یونانی لفظ “فوبیا” (خوف) کا مجموعہ ہے، جس کے معنی ہیں اسلام اور مسلمانوں سے غیر معقول خوف اور نفرت ۔
ماہرین کے مطابق اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے فرانسیسی زبان میں 1910ء اور پھر انگریزی زبان میں 1923ء میں دیکھا گیا ۔ بعض محققین کا کہنا ہے کہ فرانس میں یہ اصطلاح 1925ء میں بھی استعمال ہوئی، لیکن اس وقت اس کے معنی آج کے تناظر میں نہیں تھے ۔
بیسویں صدی کے آخر تک یہ لفظ زیادہ رائج نہیں تھا۔ 1997ء میں ایک برطانوی تحقیقی ادارے دی رونی میڈ ٹرسٹ (The Runnymede Trust) نے “Islamophobia: A Challenge for Us All” کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں پہلی بار اس لفظ کی جامع تعریف پیش کی گئی اور اس کے آٹھ نکات گنوائے گئے ۔ اس رپورٹ نے واضح کیا کہ اسلاموفوبیا سے مراد اسلام کو ایک جامد، غیر معقول، اور مغربی تہذیب سے کمتر مذہب کے طور پر پیش کرنا ہے۔
عالمی سطح پر 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد لفظ اسلاموفوبیا دنیا بھر میں عام ہو گیا ۔ ان حملوں کے بعد دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر پیش کیا گیا، جس کی وجہ سے مغربی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ میڈیا اور بعض سیاستدانوں نے اس خوف کو ہوا دے کر اسلاموفوبیا کو ایک عالمی مسئلہ بنا دیا۔
اقوام متحدہ نے 2022 میں 57 رکنی ممالک پر مشتمل تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کی کوششوں سے، خصوصاً پاکستان کی سفارتی قیادت میں، 15 مارچ کو “یومِ بین الاقوامی برائے مقابلہ اسلاموفوبیا” قرار دیا ۔ اس قرارداد کا مقصد دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی اسلام مخالف نفرت، امتیازی سلوک اور تشدد کے رجحان کو روکنا اور رواداری، برداشت اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں اسلاموفوبیا صرف مذہبی منافرت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک منظم تعصب ہے جو مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس میں مساجد پر حملے، خواتین پر ان کے لباس (حجاب) کی وجہ سے تشدد، اور میڈیا میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر پیش کرنا شامل ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے حال ہی میں 2026 کے اس دن کے پیغام میں کہا کہ دنیا کے 2 ارب مسلمان، جو انسانیت کا تنوع ہیں، اکثر امتیازی پالیسیوں، معاشی پسماندگی اور غیر ضروری نگرانی کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کو نفرت انگیز تقاریر کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں اور مذہبی آزادی کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا ۔
اگرچہ اس عالمی دن کے قیام میں پاکستان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ پاکستان نے OIC کے پلیٹ فارم پر اس قرارداد کو پیش کیا اور اسے منظور کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ دن اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی یکجہتی کی علامت ہے اور اس کا انعقاد پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔
پاکستان میں ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کے باوجود، ہمارے عوام کو بھی عالمی سطح پر اس منافرت کا سامنا ہے۔ مغربی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اکثر امیگریشن قوانین، ملازمتوں اور سماجی زندگی میں تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے پاکستانی میڈیا اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو اجاگر کریں اور عوام میں شعور پیدا کریں۔
اسلاموفوبیا کے خلاف جنگ صرف قراردادوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں 30 سے زائد مساجد نے اپنے دروازے عوام کے لیے کھول دیے تاکہ لوگ اسلام کو قریب سے سمجھ سکیں ۔ وہاں کے وزیر برائے کثیرالثقافتی امور نے کہا کہ جب ایک امام پر حملہ ہوا تو مساجد نے نفرت کا جواب محبت اور تعارف سے دیا ۔
اسی طرح نیدرلینڈز میں رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں نے عوام کے لیے اجتماعات اور افطار کے پروگرام منعقد کیے، جہاں لوگوں کو قرآن کے تراجم اور اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا گیا ۔ ان اقدامات کا مقصد مغربی معاشروں میں پائے جانے والے غلط تصورات کو دور کرنا اور بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے .
آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ اسلاموفوبیا صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ناکامی ہے ۔ انہوں نے فرانس میں لادینیت کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ہندوستان میں مذہبی قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات پر تشویش کا اظہار کیا، جس سے مسلمانوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے .
مستقبل کے لائحہ عمل کے مطابق اسلاموفوبیا کا خاتمہ صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔حکومتی سطح پر قوانین کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے .
تعلیمی سطح پر نصاب میں رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔میڈیا کا کردارکی اگر بات کی جائے تو میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں متوازن اور حقیقت پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہیے، نہ کہ دقیانوسی تصورات کو فروغ دینا چاہیے .سماجی سطح پر ہمیں اپنے غیر مسلم ہم وطنوں اور پڑوسیوں سے مکالمہ کرنا ہوگا، انہیں اپنے تہواروں میں مدعو کرنا ہوگا اور اسلام کی حقیقی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہوگا جو امن اور محبت کی علمبردار ہیں .
نتیجتاً 15 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نفرت کے اندھیرے کو علم اور مکالمے کی روشنی سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے الفاظ میں، “آئیں ہر ملک اور ہر برادری سے اسلاموفوبیا کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ہر شخص کے وقار اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں، خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو” ۔
پاکستان ہمیشہ امت مسلمہ کا قائد رہا ہے۔ ہمیں اس دن کو صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک عزم بنانا ہوگا کہ ہم دنیا بھر میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ایک پرامن اور برداشت کرنے والی دنیا کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں