حکومت کی جانب سے پٹرولیم ذخائر موجود ہونے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں بھی خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔
پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، پاکستان میں اس وقت پٹرول کی قیمت321روپے17 پیسے فی لٹر ہے۔
اب ہم خطے میں ممالک میں پٹرول کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں یہ ہمیں پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش پاکستانی انڈیا بیک وقت ازاد ہوئے اور بنگلہ دیش 1971 میں وجود میں آیا ہم دیکھتے ہیں پاکستان میں پٹرول کی قیمت اسوقت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ انڈیا میں 94 روپے 77 پیسے انڈیا روپے اس وقت انڈین روپے کی قیمت پاکستان کے تین روپے پانچ پیسے کے برابر ہے اس حساب میں انڈیا میں288 روپے چار پیسے فی لیٹر پٹرول ہے اسی طرح بنگلہ دیش میں 116 ٹکہ کا فی لیٹر پٹرول ہے جو کہ پاکستانی
بنگلہ دیشی ٹکا کی قیمت دو روپے 28 پیسے فی پاکستانی ہے اس حساب سے بنگلہ دیش میں 264 روپے 48 پیسے اسی لیٹر پٹرول اتا ہے اسی طرح ہم اب جائزہ لیتے ہیں -اسی طرح اب ہم جائزہ لیتے ہیں گی فی کس آمدنی تینوں ممالک کی پاکستان میں 1824 یو ایس ڈالر انڈیا کی3050 یو ایس ڈالر اور بنگلہ دیش کی 2670 یو ایس ڈالر اس کو ہم پاکستانی روپوں میں اگر تبدیل کرتے ہیں تو پاکستان کے روپے بنتے ہیں پانچ لاکھ 10 ہزار 720 روپے اور انڈیا کے8 لاکھ 54 ہزار اور بنگلہ دیش کے سات لاکھ47 ہزار 600 روپے اس کو ہم فی کس فی دن کی آمدنی کے حساب سے اگر جائزہ لیں تو پاکستان کی1418.66 روپے جس میں پیٹرول 4.41 لیٹر آسکتا ہے -انڈیا کی فی کس فی دن امدنی پاکستانی رپورٹوں میں 2372 میں 22 پیسے جس میں 8.20 لیٹر پٹرول ا سکتا ہے اسی طرح بنگلہ دیش کی پاکستان میں فی کس فی دن کی آمدن2076.66 پاکستانی روپے ہیں جس میں 7.85 لیٹر پٹرول ا سکتا ہے اب ہم دیکھتے ہیں کہ تمام ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں لیکن ان کی فی کس آمدنی ہم سے زیادہ ہے اس کے باوجود پٹرول کا ریٹ انڈیا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ ہے جبکہ عالمی سطح پر قیمتوں کا اثر تو تمام ممالک پر ہوا ہوگا کیونکہ وہ حکومتیں اس موقع پر منافع نہیں کماتی ٹیکس کی شرح پیٹرول پر کم کر دیتی ہے لیکن پاکستان میں حکومت نے اس موقع پر بجائے ٹیکس کم کرتے یا اس سابقہ سطح پر منجمد کر دیتے الٹا پیٹرول پر لیوی 20 روپے 97 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے بناوٹی اقدامات شروع کر دیے-پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی جبکہ پبلک ٹرانسپورٹرز نے بھی کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے شہریوں کو خوشی غمی میں عزیز و اقارت سے ملنے میں دشواری ہو گی۔
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے سے دوسرے شہروں میں بسلسلہ ملازمت و مزدوری کرنے والوں کے لیے بھی اخراجات بڑھ جائیں گے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا سیلاب بھی آئے گا۔
نیچے تصویر میں تقابلی جائزے کا چارٹ بھی موجود ہے
SOURCE:STATISTICS BUREAU OF PAKISTAN
BUSINESS STANDARD BANGLADESH
GOODRETURNS.IN 6 March 2026 by pooka jaiswar
NEWS 24 ONLINE.COM INDIA


