رمضان کریم: تیسرا عشرہ نجات/علی عباس کاظمی

 رمضان کریم کا تیسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے۔ یہ وہ قیمتی دن ہیں جنہیں نجات کا عشرہ کہا جاتا ہے۔ پہلے عشرے میں ہم نے اللہ کی رحمت کو محسوس کیا، دوسرے عشرے میں مغفرت کی امید باندھی اور اب آخری دس دن ہمیں ایک بڑے مقصد کی طرف بلاتے ہیں۔۔۔ جہنم کی آگ سے نجات۔ رسولِ اکرم ﷺ نے رمضان کے بارے میں خوشخبری سنائی کہ اس کا آغاز رحمت، درمیان مغفرت اور انجام نجات ہے۔ گویا رمضان ایک تربیتی سفر ہے جو ہمیں آہستہ آہستہ اللہ کے قریب لاتا ہے اور آخری منزل نجات کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔

نجات کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انسان جہنم سے بچ جائے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا دل صاف ہو جائے، اس کی نیت درست ہو جائے اور وہ اللہ کی رضا کے راستے پر چلنے لگے۔ نجات دراصل ایک اندرونی انقلاب کا نام ہے۔ جب انسان گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے، اپنے رویے بدلتا ہے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے تو وہ نجات کے راستے پر آ جاتا ہے۔ قرآن ہمیں بار بار تقویٰ کی طرف بلاتا ہے اور تقویٰ ہی نجات کی کنجی ہے۔ تیسرا عشرہ اسی تقویٰ کو مضبوط کرنے کا آخری اور سنہری موقع ہے۔

اس عشرے کی سب سے بڑی نعمت لیلۃ القدر ہے۔ یہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ سوچئے، ایک رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ آخری عشرے میں عبادت کا خاص اہتمام فرماتے، راتوں کو جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نجات محض خواہش سے نہیں ملتی۔۔۔ اس کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے، نیند قربان کرنی پڑتی ہے اور دل کو اللہ کے سامنے جھکانا پڑتا ہے۔

آج ہمارا معاشرہ مختلف قسم کی آگ میں جل رہا ہے۔ کہیں دولت کی دوڑ ہے، کہیں حسد اور نفرت کا زہر ہے، کہیں مایوسی اور بے راہ روی ہے۔ رمضان کا تیسرا عشرہ ہمیں ان سب آگوں سے بچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب ہم صدقہ دیتے ہیں تو دل کی سختی نرم ہو جاتی ہے۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو نفرت کی آگ بجھ جاتی ہے۔ جب ہم سچی توبہ کرتے ہیں تو گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ یوں نجات صرف آخرت کی نہیں بلکہ دنیا کی پریشانیوں سے بھی ملتی ہے۔

یہ عشرہ ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم خود سے پوچھیں کہ کیا ہمارا روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام تھا یا اس نے ہمارے اخلاق بھی بدلے؟ کیا ہم نے اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت اور سخت الفاظ سے بچایا؟ اگر ابھی تک کمی رہ گئی ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کی رحمت ابھی بھی ہمارے دروازے پر ہے۔ توبہ کا در کھلا ہے۔۔۔ بس سچے دل سے پلٹ آئیں۔

عملی طور پر ہمیں چاہیے کہ ان دنوں میں قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔ روزانہ تھوڑا سا ترجمہ کے ساتھ پڑھیں تاکہ پیغام سمجھ میں آئے اور دل کی گہرائی سے دعا کریں کہ اے اللہ! ہمیں آگ سے بچا لے۔ یہ سادہ دعا بہت قیمتی ہے۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں، استغفار کریں اور دوسروں کے لیے بھی دعا کریں۔ جو اپنے لیے مانگتا ہے وہ محدود رہتا ہے، جو سب کے لیے مانگتا ہے وہ وسیع دل والا بن جاتا ہے۔

صدقہ اس عشرے کا اہم عمل ہے۔ اگر زیادہ نہیں دے سکتے تو تھوڑا ہی سہی، لیکن اخلاص کے ساتھ دیں۔ کسی غریب کے گھر راشن پہنچا دیں، کسی یتیم کی مدد کر دیں، کسی بیمار کی عیادت کر لیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیں۔۔۔ نجات صرف مسجد میں عبادت سے نہیں بلکہ بندوں کی خدمت سے بھی ملتی ہے۔

اگر ممکن ہو تو اعتکاف کریں اور اگر مسجد میں اعتکاف نہ ہو سکے تو گھر میں ہی کچھ وقت تنہائی میں بیٹھ کر ذکر و دعا کریں۔ موبائل اور سوشل میڈیا سے فاصلہ کم از کم ان چند دنوں کے لیے بڑھا دیں۔ یہ وقت اللہ سے تعلق جوڑنے کا ہے۔ دنیا کی مصروفیات تو سارا سال رہتی ہیں لیکن یہ بابرکت دن بار بار نہیں آتے۔

نجات کا پیغام صرف فرد تک محدود نہیں۔ اگر گھر کا ایک فرد بدل جائے تو پورا گھر بدل سکتا ہے۔ افطار کے وقت سب مل کر دعا کریں۔ بچوں کو بتائیں کہ رمضان صرف کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا مہینہ ہے۔ محلے میں اگر کوئی ضرورت مند ہو تو اس کا خیال رکھیں۔ یوں نجات کا یہ پیغام ایک دل سے دوسرے دل تک پہنچتا جائے گا۔

رمضان کا اختتام قریب ہے۔ پتہ نہیں اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ اس لیے ان آخری دنوں کو قیمتی سمجھیں۔ دل کی سچائی کے ساتھ اللہ سے مانگیں، اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کریں، دوسروں کو معاف کریں اور نیکی کا ارادہ مضبوط کریں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عشرے کی برکت سے جہنم کی آگ سے آزاد فرما دے گا اور اپنی رضا سے نواز دے گا۔

اللہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے، لیلۃ القدر کی برکتیں عطا کرے، ہمارے دلوں کو صاف کرے، ہمارے گھروں میں سکون پیدا کرے اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے، رمضان کریم مبارک ہو، اور یہ تیسرا عشرہ واقعی ہمارے لیے نجات کا سبب بن جائے۔( آمین)

اپنا تبصرہ لکھیں