حق کی فتح کا تصور دنیا کے تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے جن میں ہندوازم، عیسائیت، یہودی عقیدہ اور اسلام نمایاں ہیں لیکن جدید نظام حکومت بھی اس پر پختہ یقین رکھتا ہے اور اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی تاریخ میں بہت سارے عالمی سطح پر ادارے وجود میں آئے جن میں دور حاضر کا اقوام متحدہ کا ادارہ ایک واضح مثال کے طور پر موجودہ ہے۔
اس قول کی تائد میں دنیا میں وقوع پانے والے واقعات کی ایک لمبی تاریخ ہے جن کے اندر حق کی فتح اور باطل کے مٹنے کی مثالیں ہمیں اس پر یقین کو پختہ کرنے کے لئے کافی ہیں اور یہ عمل ہر دور میں اپنے آپ کو دہراتا رہا اور جو حق کی طرف کھڑے رہے انہیں تاریخ نے ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا ہے۔
مذید تمہید میں جائے بغیر موجودہ جنگی منظرنامے کو ہم دیکھیں تو الحاق، نظریات اور اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر ہم دونوں اطراف میں وسائل کے واضح فرق کے باوجود دیکھیں تو چند اشاروں کو ہم حق کا نام دے سکتے ہیں۔
باوجود اس کے کہ معلومات کے زرائع کا جھکاؤ واضح طور پر طاقت کی طرف ہے جیسا کہ پہلے تو کوئی طاقت کے خلاف لب کشائی کرنے کے لئے بھی تیار نہیں اور اگر کوئی کرتا بھی ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔
افواہیں حقائق پر چھائی ہوئی ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہم اگر اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں تو نقصانات کا بھاری پلڑا اور مزاحمت کا اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنے آپ کو قائم رکھنا اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ سب نشانیاں حق ہی کی ہیں۔
گو عالمی سطح پر طاقت کا توازن اپنی مصلحتوں کا شکار دبا دبا ہے مگر اس کے باوجود ان کا موقف کسی سے چھپا ڈھکا نہیں۔
عالمی منظر نامے پر دفاعی سطح پر انگڑائیاں لیتے نئے بنتے اور ٹوٹتے اتحاد بھی اسی اصول کی سچائی کی طرف اشارہ دے رہے ہیں اور بظاہری دنیا کے تمام وسائل جن میں معیشت، ٹیکنالوجی اور زرائع معلومات کی واضح برتری کے با وجود مزاحمت کے سامنے لاچارگی اور حمائت کی درخواست پر ہچکچاہٹ یا صاف انکار بھی حق کی فتح کا نشان سمجھنے سے کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا۔
عالمی سطح پر غالب عوامی رائے کا جنگ کے خلاف ہونا بھی اگر سمجھا جائے تو حق کو واضح کرنے کی ہی ایک دلیل ہے۔ گو تاریخ کا حتمی نتیجہ سامنے آنے میں ابھی وقت باقی ہے مگر اس کے باوجود انسانی عقل و دانش کے پیمانوں پر پورا اترنے والے آثار اپنا فیصلہ سنا رہے ہیں۔
ہم ہار اور جیت کے مفہوم کو جس قدر بھی خلط ملط کر لیں مگر انسانیت پر قیامت ڈھائے جانے کو کبھی بھی انسانیت کی فلاح کا درجہ نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی بچوں کے قتل کو حکمت و دانائی میں کوئی جواز کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کا اپنی بالادستی کو لاحق خطرات کے خوف کی پاداش میں خود مختار ریاست پر حملے کو امن کا عالمی پیغام ہونے کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔


