آج کے دور میں نیکی کا تصور عجیب دو راہے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ ایک طرف خیرات، صدقات اور عطیات کی وہ روایت ہے جو صدیوں سے انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھتی آئی ہے اور دوسری طرف ایک نیا چلن جنم لے چکا ہے جہاں نیکی کا خلوص ماند پڑ گیا ہے اور اس کا اظہار، نمائش اور تشہیر آگے نکل آئے ہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہم پہلے سے زیادہ سخی ہو گئے ہیں، زیادہ امداد دے رہے ہیں، زیادہ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں، مگر اگر ذرا گہرائی میں جھانکا جائے تو ایک تکلیف دہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہی نیک اعمال اب بہت سے مستحق افراد کے لیے آزمائش بن چکے ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی خاموشی سے دوسروں کی مدد کرتے تھے، آج کیمرہ آن کیے بغیر جیسے بے چین ہو جاتے ہیں۔ کسی غریب کو راشن دینا ہو، کسی ضرورت مند کو پیسے دینے ہوں، یا کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا ہو، پہلے موبائل نکالا جاتا ہے، ویڈیو بنائی جاتی ہے اور پھر اس عمل کو سوشل میڈیا پر ڈال کر داد سمیٹی جاتی ہے۔ اس عمل میں شاید دینے والے کو تسکین ملتی ہو، اسے لگتا ہو کہ وہ دوسروں کے لیے مثال قائم کر رہا ہے، مگر لینے والے کے دل پر جو گزرتی ہے وہ شاید ہی کوئی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک سفید پوش انسان، جو اپنی عزت نفس کو سب سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، جب مجبوری میں کسی سے مدد لینے پر آمادہ ہوتا ہے، تو وہ اپنے دل پر ایک بوجھ لے کر آتا ہے۔ اس کے لیے مانگنا ہی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، مگر جب اسے یہ خدشہ لاحق ہو کہ اس کی تصویر یا ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دی جائے گی، تو یہ بوجھ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کل کو اس کے بچے، اس کے رشتہ دار، اس کے جاننے والے یہ سب دیکھیں گے اور اس کی خودداری کا کیا بنے گا؟ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے مستحق لوگ ضرورت کے باوجود مدد لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ بھوک برداشت کر لیتے ہیں، اپنے بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے دیتے، مگر اپنی عزت کو مجروح ہونے سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہماری نیکی واقعی نیکی رہ گئی ہے یا وہ محض ایک نمائش بن کر رہ گئی ہے؟
ہم نیکی کیوں کرتے ہیں؟ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں، تو پھر اس میں دکھاوے کی گنجائش کہاں سے آ گئی؟ اللہ تو دلوں کے حال جانتا ہے، اسے نہ تصاویر کی ضرورت ہے، نہ ویڈیوز کی، نہ ہی سوشل میڈیا کی پوسٹس کی۔ پھر ہم کس کو دکھانے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں؟ کیا یہ ہماری اپنی تسکین ہے یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش؟ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کیا ہے اور نیکی بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ اب ہر عمل ایک “کنٹینٹ” بن چکا ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات، اپنی خیرات اور اپنی مدد کے کاموں کو بھی اسی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ یہ سب شیئر نہیں کریں گے تو شاید ان کی نیکی ادھوری رہ جائے گی یا لوگوں کو ان کے اچھے کاموں کا علم نہیں ہو سکے گا۔
نیکی کی اصل خوبصورتی اس کی خاموشی میں ہے۔ وہ نیکی جو صرف اللہ کے لیے کی جائے، جس میں کسی تعریف کی خواہش نہ ہو، جس میں کسی کو شرمندہ نہ کیا جائے، وہی اصل نیکی ہے۔ اگر ہماری مدد کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچا رہی ہے، تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم واقعی مدد کر رہے ہیں یا کسی کو مزید تکلیف دے رہے ہیں۔ہمیں اپنے معاشرے میں اس سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ مدد کرنا ایک ذمہ داری ہے۔۔۔نہ کہ ایک نمائش۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ کسی کی مدد کرتے وقت اس کی عزت کا خیال رکھنا سب سے اہم ہے۔ اگر ہم واقعی کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی مشکلات کو کم کرنا ہوگا نہ کہ اسے دنیا کے سامنے لا کر مزید مشکل میں ڈالنا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مخیر حضرات خود احتسابی کریں۔ وہ اپنے دل میں جھانک کر دیکھیں کہ ان کے اعمال کا مقصد کیا ہے۔ اگر وہ واقعی اللہ کی رضا چاہتے ہیں، تو انہیں اپنی نیکی کو خاموشی سے انجام دینا چاہیے۔ اگر وہ دوسروں کو ترغیب دینا چاہتے ہیں تو اس کے اور بھی طریقے ہو سکتے ہیں، جیسے عمومی پیغامات دینا، لوگوں کو شعور دینا، بغیر کسی کی شناخت ظاہر کیے مثالیں پیش کرنا۔ہر انسان کی عزت نفس ہوتی ہے، چاہے وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو۔ غربت کسی کو کمتر نہیں بناتی اور نہ ہی یہ کسی کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اس کی مجبوری کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنائے۔ ایک معاشرہ اسی وقت مہذب کہلاتا ہے جب وہ اپنے کمزور طبقے کا خیال رکھے، ان کی عزت کو محفوظ رکھے اور انہیں اس احساس سے بچائے کہ وہ کسی پر بوجھ ہیں۔
آج ہمیں ایک اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں نیکی بھی ایک مقابلہ بن جائے، جہاں ہر کوئی دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرے یا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں نیکی ایک خاموش دریا کی طرح بہتی رہےجو بغیر شور کیے پیاسے دلوں کو سیراب کرتی رہے؟یہ فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو اپنی نیکی کو ایک خوبصورت عبادت بنا سکتے ہیں یا ہم چاہیں تو اسے ایک نمائش میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہمیں بس یہ یاد رکھنا ہے کہ اللہ کے ہاں وہی عمل قبول ہوتا ہے جو خالص نیت سے کیا جائے، جس میں ریاکاری نہ ہو، جس میں دکھاوا نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اپنی نیتوں کو خالص کرنے کی توفیق دے اور ہمیں ایسا بنانے کی ہدایت دے کہ ہم کسی کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزت نفس کو مجروح نہ کریں۔ ہماری نیکی واقعی نیکی بنے۔۔۔نہ کہ کسی کے لیے آزمائش۔ آمین یارب العالمین۔


