ایران نے تصدیق کر دی ہے۔ سیکورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ بیٹا مرتضیٰ بھی ساتھ مارا گیا۔ دفتر کا سربراہ بھی۔ اسرائیلی فضائی حملہ۔ رات کی تاریکی میں۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل نے بیان جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ “عمر بھر ایران اور اسلامی انقلاب کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والے نے آخرکار حق کی پکار پر لبیک کہا اور شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوا۔”
نتن یاہو نے کا اسرائیلی ٹی وی پر ایرانی عوام کے لیے بیان نشر ہوا”آج صبح ہم نے علی لاریجانی کو ختم کیا جو انقلابی گارڈز کا باس تھا۔” پھر ایرانی عوام سے مخاطب ہوا اور کہا: “چہارشنبہ منائیں۔ آتش بازی کریں۔” یعنی جشن منائیں کہ ہم نے تمہارا نظام توڑ دیا ہے۔
مگر نتن یاہو نے جو توڑا ہے وہ نظام نہیں۔ جو توڑا ہے وہ پل ہے۔ وہ واحد پل جو ایران کے اندر سے مغرب تک جاتا تھا۔ اور اب وہ پل ملبے میں ہے۔ اور ملبے پر سے گزرنے کا راستہ کسی کے پاس نہیں۔
بلومبرگ نے آج سرخی لگائی ہے: “لاریجانی کے قتل کے بعد امریکہ تہران میں بات کس سے کرے گا؟” سی این این نے لکھا ہے: “لاریجانی کا قتل جنگ ختم کرنے کی ہر کوشش کو پیچیدہ بنا دے گا۔” مڈل ایسٹ آئی نے لکھا ہے: “اسرائیل ہر اس شخص کو مارتا رہے گا جو مغرب سے بات کر سکتا ہو؟” اور گلف نیوز نے لکھا ہے: “لاریجانی کی موت ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں زلزلہ لا سکتی ہے۔”
سوال یہ نہیں کہ لاریجانی کون تھا۔ یہ میں پچھلے مضمون میں لکھ چکا ہوں۔ کانٹ کا شاگرد۔ فلسفی۔ مذاکرات کار۔ بارہ سال اسپیکر۔ جوہری معاہدے کا معمار۔ وہ آدمی جو سپاہ سے بھی بات کر سکتا تھا اور یورپی سفارتکاروں سے بھی۔
آج کا سوال یہ ہے: اس کے قتل نے کیا حاصل کیا؟ اور جواب اسرائیل اور امریکہ کے لیے تباہ کن ہے۔
سمجھیں۔
لاریجانی ایران کے نظام میں وہ واحد شخص تھا جو تین دنیاؤں میں بیک وقت چل سکتا تھا۔ پہلی دنیا سپاہ پاسداران کی تھی جہاں اس کی جڑیں تھیں۔ آئی آر جی سی میں خدمات انجام دیں۔ فوجی پس منظر تھا۔ سپاہ کے کمانڈروں سے ذاتی تعلقات تھے۔ دوسری دنیا مذہبی حلقے کی تھی۔ سسر مرتضیٰ مطہری تھا جو خمینی کا ساتھی تھا۔ بھائی صادق عدلیہ کا سربراہ رہا۔ خاندان قم اور نجف دونوں سے جڑا ہوا تھا۔ تیسری دنیا مغرب کی تھی۔ تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی۔ کانٹ، کرپکی، لوئس پر کتابیں لکھیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی بیٹی فاطمہ ایموری یونیورسٹی امریکہ میں تھوریسک آنکولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر رہی۔
سی این این نے ایک اہم بات لکھی ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ستمبر دو ہزار پچیس میں لاریجانی امریکہ اور اسرائیل دونوں کا “سب سے پسندیدہ عبوری امیدوار” تھا۔ یعنی مغرب خود سمجھتا تھا کہ اگر ایران میں تبدیلی آئے تو لاریجانی وہ آدمی ہے جس سے بات ہو سکتی ہے۔ مگر پھر لاریجانی نے جنوری کے مظاہروں میں سخت کارروائی کی، جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت بیانات دیے، اور فوجی حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تو اسرائیل نے فروری میں اسے نشانے پر لے لیا۔
مگر یہاں ایک بنیادی سوال ہے جو اسرائیل کے فیصلہ سازوں نے نہیں پوچھا یا پوچھا اور نظرانداز کیا: اگر تم اس آدمی کو مار دو گے تو جنگ ختم ہونے کا راستہ کہاں سے آئے گا؟
علی واعظ جو انٹرنیشنل کرائسس گروپ میں ایران پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے بلومبرگ کو بتایا: “تہران نے ان چند اندرونی لوگوں میں سے ایک کھو دیا ہے جو میدان جنگ کو سیاست سے جوڑ سکتا تھا۔”
دنیا کے نامور تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کی صنم وکیل نے کہا: “لاریجانی ایک ایسا کلیدی مقام تھا جو مذاکرات کا انتظام کر سکتا تھا۔ اس کے خلیجی ممالک میں تعلقات تھے۔ برطانوی اور یورپی رہنماؤں سے رابطے تھے۔”
یورپین کاؤنسل آن فارن ریلیشنز کی ایلی گرانمائیح نے خبردار کیا: “جیسے علی خامنہ ای کے قتل نے سب سے سخت گیر اور سیکیورٹی عناصر کو طاقتور بنایا ویسے ہی لاریجانی کی موت شدت پسندوں کا راستہ ہموار کرسکتی ہے جو بات چیت کی بجائے صرف بندوق کا راستہ اختیار کریں گے۔”
اب دیکھیں کیا ہونے والا ہے۔
میری محدود معلومات کے مطابق لاریجانی کا ممکنہ جانشین سعید جلیلی ہے۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل کا نائب سربراہ۔ جلیلی کا آنا حکومت کے مزید سخت ہونے کی ایک اور سیڑھی ہوگا. جلیلی وہ آدمی ہے جو دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخاب میں انتہائی سخت گیر امیدوار تھا۔ جو جے سی پی او اے کا مخالف رہا ہے۔ جو مغرب سے کسی بھی مذاکرات کو کمزوری سمجھتا ہے۔
لاریجانی اور جلیلی میں فرق سمجھیں۔ لاریجانی کانٹ پڑھتا تھا۔ جلیلی فتویٰ پڑھتا ہے۔ لاریجانی مذاکرات کو “عقلی راستہ” کہتا تھا۔ جلیلی مذاکرات کو “تسلیم” کہتا ہے۔ لاریجانی کی بیٹی امریکہ میں پڑھاتی تھی۔ جلیلی کی دنیا قم سے آگے نہیں جاتی۔
یہ فرق صرف شخصیت کا نہیں ہے۔ یہ فرق پالیسی کا ہے۔ اور یہ پالیسی کا فرق اسرائیل اور امریکہ کے لیے تباہ کن ہے۔
اب ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں کون بچا ہے؟
مجتبیٰ خامنہ ای ولی فقیہ ہے جو اپنے باپ کی موت کے بعد سے عوامی طور پر شاذ و نادر ہی نظر آیا ہے۔ محمد باقر قالیباف سابق میئر تہران ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے مجتبیٰ کو ولی فقیہ بنوانے میں کردار ادا کیا اور جو سپاہ اور انتہائی سخت گیر مذہبی حلقوں سے قریب ہے۔ عدلیہ کا سربراہ غلام حسین محسنی ایجہ ای ہے جو سخت گیروں میں سے ہے۔
بلومبرگ نے واضح لکھا ہے: “لاریجانی واحد شخص تھا جو حسن روحانی کے دور کی سیاست سے تعلق رکھتا تھا اور عباس عراقچی سے بھی ربط رکھتا تھا۔” روحانی کے دور میں جوہری معاہدہ ہوا تھا۔ عراقچی وزیر خارجہ ہے جو اب تک سب سے تجربہ کار سفارتکار ہے۔ مگر عراقچی کو بھی سخت گیر مخالفین کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اگر یورپ یا چین عراقچی یا روحانی یا ظریف سے بات کرنے کی کوشش کریں تو سخت گیر دھڑا انہیں مزید دھکیل سکتا ہے۔
یعنی جو بھی ایران میں مغرب سے بات کرنے کو تیار ہے وہ اب اندرونی طور پر بھی خطرے میں ہے۔ باہر سے اسرائیل مارتا ہے۔ اندر سے سخت گیر کونے میں دھکیلتے ہیں۔
اب جوہری مسئلے پر آئیں۔
لاریجانی وہ آدمی تھا جس نے دو ہزار پندرہ کا جوہری معاہدہ پارلیمنٹ سے منظور کروایا تھا۔ سخت گیروں کی مخالفت کے باوجود۔ سپاہ کی ناپسندیدگی کے باوجود۔ وہ سمجھتا تھا کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات سے ایران کو فائدہ ہے کیونکہ پابندیاں ملک کو تباہ کر رہی ہیں۔ مگر وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ مذاکرات طاقت کی پوزیشن سے ہونے چاہیے۔ یعنی اتنے مضبوط ہو کہ مقابل کو مجبوراً میز پر آنا پڑے۔
اب لاریجانی نہیں رہا۔ وہ آدمی جو مذاکرات کا حامی تھا، جو مغرب کی زبان سمجھتا تھا، جو کانٹ کے کیٹیگوریکل امپریٹو کو بھی جانتا تھا اور سپاہ کی فوجی حکمت عملی کو بھی، وہ ختم ہو گیا۔ اب باقی کون ہے؟ وہ لوگ جو کہتے ہیں: اگر حملے ہوتے رہیں گے تو جوہری بم بنانا واحد راستہ ہے۔
خامنہ ای کا فتویٰ تھا جو جوہری ہتھیاروں سے روکتا تھا۔ خامنہ ای مارا جا چکا ہے۔ مجتبیٰ نے ابھی تک ایسا کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا۔ عراقچی نے سی بی ایس کو بتایا کہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ “ملبے تلے ہے” اور مستقبل میں مذاکرات کا حصہ بن سکتا ہے۔ مگر اگر مذاکرات کرنے والے ہی مارے جاتے رہیں تو مذاکرات کون کرے گا؟
مڈل ایسٹ آئی نے ایلن آئر کا ایک جملہ نقل کیا جو سب سے اہم ہے: “اسرائیل مبینہ طور پر کلیدی رہنماؤں کو مارتا رہے گا مگر ان کی جگہ نوجوان اور سخت گیر لوگ آئیں گے۔”
نوجوان اور سخت گیر۔
یہ وہ نسل ہے جس نے مذاکرات نہیں دیکھے۔ جس نے جے سی پی او اے نہیں دیکھا۔ جس نے ٹرمپ کو معاہدے سے نکلتے دیکھا ہے۔ جس نے اسرائیل کو دو بار حملہ کرتے دیکھا ہے۔ جس نے اپنے سپریم لیڈر کو قتل ہوتے دیکھا ہے اور اب اپنے سیکیورٹی چیف کو بھی۔ یہ نسل مذاکرات میں نہیں، بدلے میں یقین رکھتی ہے۔
ایران نے لاریجانی کی موت کے چند گھنٹوں بعد جوابی حملے شروع کر دیے ہیں۔ لاریجانی کی موت نے ایران کو کمزور نہیں کیا۔ لاریجانی کی موت نے ایران کو غصے میں لایا ہے۔ اور غصے میں آئی ہوئی حکومت جو اب سخت گیروں کے ہاتھ میں ہے وہ مذاکرات کی بات نہیں کرے گی۔ وہ بدلے کی بات کرے گی۔
اسرائیل کی حکمت عملی واضح ہے: سر کو مارو، دھڑ ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ حکمت عملی تین مفروضوں پر کھڑی ہے اور تینوں غلط ہیں۔
پہلا مفروضہ: رہنما مارنے سے نظام گرتا ہے۔ ایران کا نظام مرکزی نہیں ہے. خامنہ ای کے جانے کے بعد مجتبیٰ آیا۔ قاسم سلیمانی گیا تو قاآنی آیا۔ رئیسی رخصت ہوا تو پزشکیان آیا۔ اب لاریجانی کی شہادت کے بعد جلیلی آئے گا۔ نظام نہیں گرا۔ واشنگٹن پوسٹ نے یورپی اور مشرق وسطیٰ کے حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایرانی حکومت کی گرفت مضبوط ہے۔
دوسرا مفروضہ: عوام اٹھیں گے۔ نتن یاہو ایرانی عوام سے مخاطب ہو کر کہتا ہے آتش بازی کرو، جشن مناؤ۔ مگر جب باہر سے بم گر رہے ہوں تو اندر کی مخالفت ختم ہو جاتی ہے۔ جنگ قوم کو جوڑتی ہے۔ سی این این نے خود لکھا ہے کہ حملے “الٹا قوم پرستانہ حمایت بڑھا رہے ہیں۔”
تیسرا مفروضہ: مذاکرات کسی اور سے ہو جائیں گے۔ بلومبرگ نے صاف لکھا: نہیں ہوں گے۔ لاریجانی کے بعد ایران کی جنگی قیادت سخت گیروں کے ہاتھ میں ہے جو سفارتی راستے کم تلاش کریں گے۔ پزشکیان جو معتدل ہے وہ اکیلا اتحاد نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے لاریجانی کا قد چاہیے تھا جو اب نہیں ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل نے وہ شاخ کاٹ دی ہے جس پر خود بیٹھا تھا۔
اسرائیل کا اپنا سفیر روئیون اَزر کل ہی نئی دہلی میں کہہ رہا تھا: “ہم جنگ بندی کو تیار ہیں اگر ایران رویہ بدلے۔” مگر ایران میں رویہ بدلنے والا آدمی اسرائیل نے خود مار دیا۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی فون کر کے کہے بات کرنی ہے اور جب سامنے والا فون اٹھائے تو گولی مار دے۔
لاریجانی ایران کا فون اٹھانے والا آدمی تھا۔ وہ نہیں رہا۔ اب فون کون اٹھائے گا؟
جلیلی؟ جلیلی فون توڑ دے گا۔
اور اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا تو اس فیصلے کی ذمہ داری اسرائیل اور امریکہ پر ہوگی۔ کیونکہ جس آدمی نے مذاکرات سے جوہری پروگرام محدود کروایا تھا اسے مار دیا۔ جس آدمی کی بیٹی امریکہ میں پڑھاتی تھی اور جو مغرب کو سمجھتا تھا اسے ختم کر دیا۔ جو آدمی “مذاکرات عقلی راستہ ہے” کہتا تھا اسے خاموش کر دیا۔
اب باقی آوازیں کیا کہیں گی؟ وہی جو ہمیشہ کہتی ہیں جب معتدل مارا جاتا ہے: مذاکرات دھوکا ہے۔ مغرب پر بھروسا نہیں ہو سکتا۔ جو ہمارے مذاکرات کار مارے وہ ہم سے امن کی بات کیسے کر سکتا ہے؟ بم بنانا ہی واحد ضمانت ہے۔
شمالی کوریا نے بم بنایا تو کسی نے حملہ نہیں کیا۔ پاکستان نے بم بنا لیا تو کسی کو حملے کی جرات نہیں ہوئی. ایران نے مذاکرات کیے تو دو بار حملہ ہوا۔ یہ سبق ہر ایرانی سمجھتا ہے۔ ہر سخت گیر یہ سبق دہراتا ہے۔ اور اب لاریجانی کی لاش اس سبق کا تازہ ترین ثبوت ہے۔
جنگیں جیتنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک: دشمن کو اتنا مارو کہ لڑنے کے قابل نہ رہے۔ دو: دشمن کو اتنا مارو کہ بات کرنے کے قابل نہ رہے۔ اسرائیل دوسرا طریقہ اختیار کر رہا ہے۔ اور یہ طریقہ جنگ نہیں جیتتا۔ یہ جنگ لمبی کرتا ہے۔
لاریجانی کا قتل اسرائیل کی فتح نہیں ہے۔ لاریجانی کا قتل مذاکرات کی موت ہے۔ اور جہاں مذاکرات مر جائیں وہاں جنگ ابدی ہو جاتی ہے۔
کانٹ نے لکھا تھا: “ابدی امن قبرستان میں ملتا ہے۔”
لاریجانی نے کانٹ پڑھا تھا۔ شاید اس جملے پر بھی غور کیا ہو۔ شاید اسے معلوم تھا کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ مگر قدس ڈے کے جلوس میں تہران کی سڑکوں پر نکلا۔ جانتا تھا نشانے پر ہے۔ پھر بھی نکلا۔
اور اب وہ اسی قبرستان میں ہے جہاں کانٹ کے مطابق ابدی امن ملتا ہے۔
مگر باقی دنیا کے لیے امن اور دور ہو گیا ہے۔ کیونکہ جس آدمی کے پاس امن کا نقشہ تھا وہ ملبے تلے ہے۔ اور ملبے سے نقشے نہیں نکلتے۔ ملبے سے صرف آگ اور راکھ نکلتی ہے.


