مکہ کے کفار نے جب دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت پھیل رہی ہے، تو انہوں نے یمن کے ایک بہت بڑے رئیس اور عالم، حبیب ابن مالک کو مکہ بلایا۔ حبیب ابن مالک تورات اور انجیل کے ماہر تھے اور اپنی حکمت کی وجہ سے پورے عرب میں مانے جاتے تھے۔ قریش کا مقصد یہ تھا کہ ایک پڑھا لکھا اور غیر جانبدار شخص محمد ﷺ سے ایسا سوال کرے جسے وہ پورا نہ کر سکیں اور یوں (معاذ اللہ) ان کی دعوت پر حرف آئے۔
حبیب ابن مالک نے مکہ پہنچ کر ایک بڑے مجمعے میں نبی کریم ﷺ سے مخاطب ہو کر کہا: “اے محمد! ہر نبی کا ایک معجزہ ہوتا ہے، اگر آپ سچے ہیں تو ہمیں کوئی نشانی دکھائیں”۔ آپ ﷺ نے پوچھا: “تم کیا چاہتے ہو؟” حبیب نے آسمان پر چودھویں کے چمکتے چاند کی طرف اشارہ کر کے کہا: “اس چاند کے دو ٹکڑے کر دیں، ایک ٹکڑا مشرق میں جائے اور دوسرا مغرب میں، پھر یہ دونوں دوبارہ مل جائیں”۔
نبی کریم ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اور اپنی انگلی مبارک سے چاند کی طرف اشارہ فرمایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاند دو لخت ہو گیا اور لوگوں نے دیکھا کہ چاند کا ایک حصہ جبلِ ابو قبیس کی طرف اور دوسرا جبلِ قعیقعان کی طرف چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد آپ ﷺ کے اشارے سے وہ دونوں ٹکڑے دوبارہ آپس میں مل گئے۔ یہ دیکھ کر مکہ کے سردار حیرت زدہ رہ گئے، لیکن حبیب کے دل میں ابھی ایک اور بات تھی۔
ابن مالک نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ اپ جانتے ہیں کہ میرے دل میں کیا دکھ ہے؟ مجھے اس دکھ کے بارے میں آگاہ کیجیے۔
بعض روایات میں ہے کہ:
نبی کریم ﷺ نے حبیب ابن مالک کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے فرمایا: “اے حبیب! کیا تم اس معجزے پر ایمان لاتے ہو یا میں تمہیں تمہارے دل کی وہ بات بتاؤں جو تم کسی کو بتا کر نہیں آئے؟” حبیب نے حیرت سے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “تمہاری ایک بیٹی ہے جس کا نام سطیحہ ہے، وہ پیدائشی طور پر معذور ہے اور تم اسے تندرست دیکھنے کی تمنا دل میں لے کر آئے ہو۔ جاؤ! اللہ نے اسے شفا عطا فرما دی ہے”۔
حبیب ابن مالک جب مکہ سے واپس یمن پہنچے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کی معذور بیٹی دوڑتی ہوئی آئی اور کلمہ پڑھ کر ان کا استقبال کیا۔ بیٹی نے بتایا کہ: “جس وقت مکہ میں چاند ٹوٹا، اسی وقت مجھے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہوئی، انہوں نے مجھ پر اپنا دستِ شفقت پھیرا جس سے میں تندرست ہو گئی اور وہیں میں نے اسلام قبول کر لیا”۔ یہ سن کر حبیب ابن مالک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے پکار اٹھا: “اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ”۔
واقعہ شقِ قمر کی عالمی شہادتوں میں مالابار (کیرالہ) کے راجہ چیرامن پیرومل (چکرورتی فارماس) کا قصہ نہایت اہمیت رکھتا ہے؛ روایات کے مطابق جب راجہ نے اپنی چھت سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز منظر دیکھا تو وہ بے چین ہو گئے اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے پہلے اپنے معتمد قاصدوں اور بیٹے پر مشتمل ایک وفد کو تحقیق کے لیے عرب روانہ کیا۔ جب وفد نے وہاں سے معجزے کی تصدیق کی اور لنکا جانے والے عرب تاجروں نے بھی اس عظیم نشانی کی گواہی دی، تو راجہ نے حق کی تلاش میں اپنا تخت و تاج چھوڑا اور خود مکہ کا سفر کیا، جہاں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اپنا نام “تاج الدین” رکھا۔ اگرچہ راجہ واپسی کے سفر میں یمن کے مقام پر انتقال کر گئے، لیکن ان کی وصیت پر ان کے عرب ساتھیوں (مالک بن دینار اور دیگر) نے 629ء میں ہندوستان کے علاقے کوڈنگلور میں “چیرامن جمعہ مسجد” تعمیر کی، جو کہ ہندوستان کی قدیم ترین اور پہلی مسجد مانی جاتی ہے۔ اس مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنی اصل تعمیر میں مقامی کیرالہ طرزِ تعمیر (مندر نما ڈھانچے) پر مبنی تھی اور آج بھی یہ مقام ہندوستان میں اسلام کی آمد اور شقِ قمر کے معجزے کی ایک زندہ جاوید تاریخی یادگار کے طور پر موجود ہے۔
حوالہ جات:
تفسیر الخازن: (زیرِ آیت “اقتربت الساعة وانشق القمر”)۔
حجة اللہ علی العالمین: (علامہ یوسف نبہانی، باب معجزاتِ انشقاقِ قمر)۔
تفسیر روح البیان: (علامہ اسماعیل حقی، سورۃ القمر)۔
تفسیرِ کبیر: (امام فخر الدین رازی، بحث شقِ قمر)۔
سیرتِ حلبیہ: (علامہ علی بن برہان الدین حلبی)۔
تاریخِ فرشتہ: (محمد قاسم فرشتہ، ہندوستان میں اسلام کی آمد کے ذیل میں)۔
تحفۃ المجاہدین: (شیخ زین الدین مخدوم، مالابار کی تاریخ پر مستند کتاب)۔


