رویت ہلال میں شہادت کے اصول:فقہی و سائنسی تجزیہ/ڈاکٹر محمد عمران ملک

اسلامی فقہ کی روشنی میں چاند کی رویت (دیکھنے) کے حوالے سے گواہی (شہادت) کے معتبر ہونے کے لیے چند بنیادی شرائط اور اصول فقہاء نے بیان کیے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
گواہ کی بنیادی شرائط
کسی بھی شخص کی گواہی تبھی قابلِ قبول ہوتی ہے جب وہ ان صفات کا حامل ہو:
مسلمان ہونا: غیر مسلم کی گواہی رویتِ ہلال کے معاملے میں معتبر نہیں ہوتی۔
عاقل و بالغ ہونا: بچے یا ذہنی طور پر غیر مستحکم شخص کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔
عادل ہونا: گواہ کا “عادل” ہونا ضروری ہے، یعنی وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو اور معاشرے میں ایک بااعتماد اور نیک نام شخص سمجھا جاتا ہو۔
بینائی کا درست ہونا: گواہی دینے والے کی نظر اتنی کمزور نہ ہو کہ اس کے دیکھنے پر شک کیا جا سکے۔
مختلف مہینوں کے لیے گواہی کے احکام
فقہی نقطہ نظر سے رمضان اور عیدین (شوال) کے چاند کی گواہی میں تھوڑا فرق ہے:
رمضان المبارک کا چاند:
اگر مطلع صاف نہ ہو (بادل یا غبار ہو)، تو اکثر فقہاء کے نزدیک ایک معتبر اور عادل مسلمان (مرد یا عورت) کی گواہی کافی ہے تاکہ عبادت (روزہ) میں احتیاط رہے۔
شوال اور دیگر مہینوں کا چاند:
عید الفطر، عید الاضحیٰ اور دیگر مہینوں کے لیے احتیاطاً دو عادل مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری قرار دی گئی ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کے حقوق اور اہم سماجی معاملات وابستہ ہوتے ہیں۔
مطلع کی صورتحال کا اثر
اگر مطلع بالکل صاف ہو: اگر آسمان پر بادل یا غبار نہ ہو اور پھر بھی صرف ایک یا دو لوگ چاند دیکھنے کا دعویٰ کریں، تو عام طور پر قاضی یا رویتِ ہلال کمیٹی ایسی گواہی کو شبہ کی بنیاد پر رد کر سکتی ہے، کیونکہ اتنے صاف آسمان پر چاند سب کو نظر آنا چاہیے تھا۔ ایسی صورت میں “جمِ غفیر” (بڑی تعداد میں لوگوں) کی گواہی طلب کی جاتی ہے۔
اگر مطلع ابر آلود ہو: ایسی صورت میں اوپر بیان کردہ (ایک یا دو گواہوں والے) اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے۔
موجودہ دور کا طریقہ کار
پاکستان میں سرکاری طور پر مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کس کی شہادت قابلِ اعتبار ہے۔ وہ شرعی اصولوں کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات اور سائنسی ڈیٹا کو بھی شہادت کی تصدیق کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔
مزید برآں
عام طور پر شہادت (گواہی) کے معاملے میں چاروں بڑے ائمہ کے ہاں کچھ جزوی فرق پایا جاتا ہے:
امام ابو حنیفہؒ: ان کے نزدیک اگر مطلع صاف ہو تو چاند کی گواہی کے لیے “جمِ غفیر” (بہت بڑی تعداد) ضروری ہے تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو رمضان کے لیے ایک عادل شخص اور شوال کے لیے دو عادل مردوں کی گواہی کافی ہے۔
امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ: ان کے نزدیک رمضان کے چاند کے لیے ایک عادل شخص کی گواہی ہر حال میں کافی ہے، خواہ مطلع صاف ہو یا نہ ہو۔
امام مالکؒ: ان کے مشہور قول کے مطابق رمضان ہو یا شوال، دونوں صورتوں میں کم از کم دو عادل مردوں کی گواہی ضروری ہے تاکہ شہادت کا نصاب پورا ہو۔
ایک وضاحت کہ تیس کا چاند بڑا کیوں نظر آتا ہے؟
عوامی طور پر یہ مشہور ہے کہ اگر چاند بڑا اور دیر تک افق پر رہے تو وہ “تیس کا چاند” ہے (یعنی ایک دن پہلے کا چاند ہے جو نظر نہیں آیا تھا)۔ لیکن سائنسی اور شرعی اعتبار سے اس کی حقیقت درج ذیل ہے:
1. فلکیاتی (Scentific) وجہ
چاند کی پیدائش (Birth of New Moon) اور اس کے انسانی آنکھ سے نظر آنے کے درمیان وقت کا فرق اس کے سائز پر اثر انداز ہوتا ہے۔
عمر کا فرق: اگر چاند کی پیدائش (Conjunction) کے بعد اسے 15 یا 18 گھنٹے بعد دیکھا جائے تو وہ بہت باریک ہوگا۔ لیکن اگر بادلوں یا کسی اور وجہ سے وہ نظر نہ آئے اور اگلے دن جب اسے دیکھا جائے تو اس کی عمر 40 گھنٹے سے زائد ہو چکی ہوتی ہے۔
فاصلہ اور بلندی: چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد چاند افق سے کافی بلند ہو جاتا ہے اور اس کا روشن حصہ (Crescent) زیادہ واضح اور چوڑا ہو جاتا ہے، اسی لیے وہ بڑا محسوس ہوتا ہے۔
2. شرعی اصول
حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق چاند کے چھوٹا یا بڑا ہونے سے پچھلی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے چاند کو دیکھنے کے لیے مقرر فرمایا ہے، لہٰذا وہ اسی رات کا ہے جس رات وہ دیکھا گیا۔” (صحیح مسلم)
چاند کا بڑا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ دوسرے دن کا ہے، کیونکہ مطلع کی تبدیلی اور چاند کی گردش کے اوقات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے شرعی اعتبار سے جس رات چاند نظر آئے، وہی پہلی تاریخ شمار ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ “شہادت کا اعتبار محض گواہ کی بصارت پر نہیں بلکہ اس کی عدالت (کردار) پر ہے، اور چاند کا حجم (Size) محض فلکیاتی گردش کا نتیجہ ہے، اسے بنیاد بنا کر گزشتہ مہینے کی گنتی میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔”

اپنا تبصرہ لکھیں