” فن ایک ایسا جھوٹ ہے جو ہمیں سچائی کا احساس دلاتا ہے” ( پابلو پیکاسو)
“ٹرٹلز کین فلائی” یہ فلم ایرانی نژاد کرد ہدایت کار بہمن غوبادی نے لکھی اور ڈائریکٹ کی۔ اس فلم نے برلن انٹرنیشنل، سان سیبسٹین انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سمیت دیگر بے شمار ایوارڈز اپنے نام کیے ہیں۔ یہ فلم ایک شاندار، لاجواب اور بے مثال آرٹ ورک ہے، غوبادی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک بہترین کہانی اور اسے سنبھالنے والا ہنرمند دماغ کسی بھی زبان میں ایک شاہکار تخلیق کر سکتا ہے۔
فلم عراق میں کردوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بالخصوص پناہ گزین بچوں کی مشکلات اور حقوق کے بارے میں ہے۔
ایک انٹرویو میں غوبادی نے کہا تھا کہ
“میری فلم کا ستر فیصد حصہ عام لوگوں کی زندگیوں میں رونما ہونے والے واقعات پر ہوتا ہے اور باقی میری زندگی کا عکس ہے جو میں نے دیکھا اور محسوس کیا “۔
اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ”جب میں نے اس فلم کو بنانے کے بارے میں سوچا تو میرے پاس مکمل کہانی/ اسکرپٹ نہیں تھا، میں نے اس کہانی کا صرف بیس فیصد لکھا تھا۔ اداکاروں اور لوکیشن کا انتخاب کرنے اور اسکرپٹ کو مکمل کرنے کے لیے میں نے بے شمار شہروں اور دیہاتوں کا دورا کیا اور ہر جگہ میں نے ہزاروں بچے دیکھے ہر ایک دوسرے سے بہتر تھا۔ میرے پاس انتخاب کے لیے بہت سے اداکار موجود تھے، لیکن میں نے چند کا انتخاب کیا، وہ تمام باصلاحیت اور حیرت انگیز تھے۔ اگر مجھے ایک ایسا بچہ چاہیے ہوتا جس کے ہاتھ نہ ہوں تو اس سرحدی علاقے میں مجھے ایک ہزار ایسے بچے مل سکتے تھے جو بارودی سرنگوں پر چلتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کھو چکے ہیں یہ مرحلہ میرے لیے آسان بھی تھا اور مشکل بھی”۔
غوبادی نے غیر پیشہ ور اداکاروں کی مدد سے حقیقی متاثرین اور ان کی روزمرہ زندگی کی مشکلات کو انسانی روح کے ناقابلِ تسخیر سسکتے گیت کے روپ میں پیش کیا ہے۔ یہ گیت امن کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کے پس پردہ نفسیات اور مقاصد کو بیان کرتا ہے، کہ وقت گزرنے کے ساتھ جغرافیائی سیاسی ایجنڈے کیسے تبدیل ہوتے ہیں اور ایک چنگاری پورے نخلستان کو ویرانے میں بدل دیتی ہے۔ لاکھوں افراد لقمہ اجل بنتے ہیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوتے ہیں، عورتیں بیوہ ہوتی ہیں اور بچے یتیم۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ “جنگ آپ سے سب کچھ چھین لیتی ہے”۔
یہ داستان شمالی عراق اور ترکی کی سرحد پر واقع گاؤں کانیبو کے یتیم پناہ گزین کرد بچوں پر مرکوز ہے یہ فلم ہمیں یتیم بچوں کی ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں روز مرہ زندگی کی بنیادی سہولیات،کھانا، پینے کا صاف پانی، بجلی اور سکول نہیں۔ ان کے خیموں کے اردگرد خاردار تاریں، بارودی سرنگیں اور زنگ آلود ٹینکوں کے گولے موجود ہیں۔ انھیں ہر دم یہ خیال ستاتا ہے کہ اپنے دفاع کے لیے ہتھیاروں کو اکھٹا کرنا ہے، کیمیائی حملےسے بچاؤ کے لیےماسک کے استعمال کا طریقہ سیکھنا ہے اور بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے بچنا ہے۔
مرکزی کردار سوران (عرفی نام سٹلائٹ) ہے، جو پناگزین بچوں کا قدرے سخت لیکن ہمدرد لیڈر ہے۔ روزگار کی خاطر وہ بارودی سرنگوں کے کھیتوں میں کام کرتے ہیں، بچے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بناتے ہیں اور انھیں بیچ کرگزر بسرکرتے ہیں۔ فلم کا آغاز عراق پر امریکی حملے سے چند دن پہلے کے مناظر سے ہوتا ہے جہاں لوگ اینٹینا اٹھائے گھوم رہے ہیں وہ ملکی حالات کو جانے کے لئے بے تاب ہیں اور اس کے لیے وہ سٹلائٹ کو بلاتے ہیں جو انھیں سٹلائٹ ڈش لگا کر دیتا ہے اور غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی کوریج سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے۔
فلم کا دوسرا بنیادی کردار اگرین کا ہے جو بظاہر ایک مضبوط لیکن ماضی کی المناک یادوں کے غم میں گھری ہے، ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے کہ عراقی فوجیوں نے اس کی عصمت دری کی اور شائد ریگا اس کا بچہ ہے جو اس کے ہولناک تجربے کی یاد کی علامت ہے وہ ہر لمحہ اس درد سے نجات کی متلاشی نظر آتی ہے۔
اس کا بھائی ہیگوف ہے جو ہمت و شجاعت کی علامت ہے۔ بارودی سرنگ کے پھٹنے کے باعث بے شمار بچوں نے اپنے ہاتھ اور بازو کھوئے ہیں جس کی مثال ہینگوف ہے جو اسی طرح کسی دھماکے کا شکار ہوا اور اس کے دونوں بازوں کٹ گئے، لیکن اس کے باوجود وہ منہ سے بارودی سرنگوں کونا کارہ کرتے دکھائی دیتا ہے۔ اپنے دونوں بازوں کو کھو دینے کے باوجود وہ زندگی کی ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرتا ہے۔وہ اکثر پیشنگوئیاں کرتا دکھائی دیتا ہے جو کبھی کبھی درست ہوتی ہیں ( شائد مستقبل کو جاننا بھی تکلیف دہ ہوتا ہے کہ آپ سب جاننے کے باوجود بھی اسے بدل نہیں سکتے)۔
غوبادی بچوں پر جنگ کے تباہ کن اثرات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں ایک منظر میں جہاں ایک وسیع و عریض میدان میں ہر سو زنگ آلود گولے بکھرے ہیں تو ان کے درمیان کھڑا ریگا دھاتی سلنڈروں سے جھانک کر “بوکا” ( ڈیڈی) پکارتا ہے تو وہ منظر ناظر کے لیے نہایت تکلیف دہ اور دردناک ہے۔
فلم کا بنیادی خیال:
فلم ” ٹرٹلز کین فلائی” کا عنوان دراصل فلم کا ایک اہم استعارہ ہے۔ کرد متاثرین بالخصوص پناہ گزین بچے کچھوے کی نمائیندگی کرتے ہیں جو مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ہر لمحہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور مشکلات کے سمندر سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح فلم میں اگرین کی عصمت دری کا استعارہ کردستان پر قبضے اور بے جا مداخلت کی طرف اشارہ ہے اس علاقے پر ایران، عراق، شام اور ترکی دعویدار ہیں غوبادی ان کے آپسی تصادم اور کرد میں مداخلت کو عصمت دری کے مترادف گردانتے ہیں۔
اسی طرح ایک سین میں جب سٹلائیٹ ممنوع چینلز لگاتا ہے تو بزرگ منہ موڑ لیتے ہیں۔یہ منظر غوبادی پر لگائی گئی پابندیوں کی علامت ہے، جس کی وجہ سے اسے اپنے ملک کو چھوڑنا پڑا۔
فلم میں دکھائی گئی مچھلی کی علامت ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندھی کرتی ہے جیسے نوروز کا تہوار جو بہار کے موسم کی علامت ہے۔ جسے اس خطے میں ہزاروں سال سے منایا جارہا ہے۔ وادی دجلہ و فرات میں تین موسمی تہوار ( اکی تو، تموز اور تشری ) کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا تھا۔ اکی تو اور تشری نوروز کے طور پر منائے جاتے تھے،جب کہ تموز خشک سالی اور غم کا تہوار تھا۔ سٹلائٹ جب مچھلی کو دیکھتا ہے تو چند لمحوں کے لیے میسر خوشی اسی نوروز کے تہوار اور بہار کی علامت ہے لیکن چند لمحوں بعد ہی وہ خوشی تموز کے تہوار کی چادر اوڑھ لیتی ہے اور ظلمات کی ملکہ کا ظہور ہوتا ہے جو جنگ کی علامت ہے۔
نابینا بچہ ریگا کمیائی ہتھیاروں کے خوف ناک اور مضر اثرات ( تموز) کی علامت ہے جس کی موجودگی اگرین کو ہر لمحہ تکلیف دیتی ہے اسے بے چین رکھتی ہے۔
گاؤں میں موجود تالاب خود شناسی کا ذریعہ ہے یادوں کی جگہ ہے اور انھیں ختم کرنے کا مقام، فلم کے اختتام پر تلخ یادوں کو اسی تالاب کی گہرائیوں میں ڈوبتے دکھایا گیا ہے۔ غوبادی نے اپنی زندگی میں بھی ایسے بے شمار حالات کاسامناکیا، اس نے والدین کی علیحدگی، غربت، جلاوطنی اور جنگی تباہ کاریاں برداشت کیں۔انھیں اپنے ملک ایران سے نکالا گیا تو کرد منتقل ہوگئے۔ جہاں انھوں نے صدام کی حکومت، اقوام متحدہ کی پابندیوں، جنک کی ہولناکیوں اور پناہ گزین بچوں کی مشکلات کو دیکھا۔
غوبادی کی یہ فلم جنگ مخالف ہے جس میں مصنف نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ عقائد، امن، طاقت یا حکمرانی کی خاطر لڑی جانے والی جنگ روایتی ہو یا غیر روایتی انسانی سماج کی تباہی و بربادی کا ذریعہ ہے خاص طور بچے اس کا شکار ہوتے ہیں وہ تاحیات اس ملبے تلے دب جاتے ہیں جو بالغ اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔
—————————————————————
اضافی نوٹ:چند برس قبل یہ فلم دیکھی تو اس پر یہ تبصرہ لکھتے ہوئے اک خیال نے جنم لیا تھا، اور آج کے عالمی حالات کو دیکھ کر وہی خیال در آیا کہ جنگ کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ اس کی زد میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ وہ لوگ آتے ہیں جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
اور جو اس تباہی کے ذمہ دار ہوتے ہیں، وہی ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جنگ ہی امن کا راستہ ہے۔
تحریر و تبصرہ: احسن رسول ہاشمی
حوالہ جات
ماضی کے مزار از سبط حسن
اے بی سی نیوز ( آر نیر، سونیا )


