ہادی متوسط گھرانے کا فرد تھا تین بیٹیوں ایک بیٹے اور بیوی پر مشتمل کنبے کی کفالت اس کے ذمے تھی گذر بسر مشکل سے ہورہی تھی بچوں کی عام تعلیم ہی جیب پر بھاری تھی جب کہ وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلانا چاہتا تھا موجودہ حالات میں تو یہ دیوانے کا خواب ہی لگتا تھا سرتوڑ محنت کے باوجود ہادی کی آمدنی سے بمشکل گھر کے اخراجات ہی پورے ہوتے تھے عمیر اس کا بیٹا پہلوٹھی کی اولاد تھا اس کے لئے ہادی کے دل میں بڑے ارمان تھے وہ اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا لیکن محدود وسائل میں یہ ممکن نہیں لگتا تھا اس نے موٹر مکینک کی تربیت حاصل کر رکھی تھی اور ایک چھوٹی سی ورکشاپ چلاتا تھا جس کی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے ایک دن ورکشاپ پر آنے والے ایک صاحب ہادی کی مہارت سے بہت متاثر ہوئے اور اسے مشورہ دیا کہ وہ جاپان کیوں نہیں چلا جاتا اس کی مہارت تو اسے کسی کار کمپنی میں کام دلا سکتی ہے اور وہاں تو معاوضہ بھی ٹھیک ٹھاک ملتا ہے ہادی نے کہا مجھے تو معلوم ہی نہیں باہر کیسے جاتے ہیں نہ ہی میرے پاس ویزہ فیس دینے کے لئے پیسے ہیں اس لئے میں نے تو کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں باسط نامی اس شخص نے کہا کہ میرا ایک دوست جاپان رہتا ہے میں اس سے معلوم کرتا ہوں کہ وہ کیسے تمہاری مدد کر سکتا ہے اس نے اپنا وزیٹنگ کارڈ ہادی کو دیا اور اس کا فون نمبر لے لیا کہ اگر تمہارا ارادہ بن جائے اور میرا دوست بھی مدد کر سکے تو رابطہ کر لیں گے اس دن ہادی ورکشاپ سے لوٹا تو ایک نئی سوچ اس کے دماغ میں تھی گھر آکر اس نے ساری بات بیوی کو بتائی فطری بات تو یہی تھی کہ بیوی پریشان ہوگئی چار بچوں کے ساتھ اکیلا رہنے کے تصور نے ہی اسے گھبرا دیا اندرون شہر کے چھوٹے سے گھر میں ہادی اپنے والدین اور دو بھائیوں اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا کہنے کو گھر میں کئی افراد اور ان کی رونق تھی لیکن بڑے بھائیوں کی جوان ہوتی اولاد اور اپنے بچوں کے مستقبل کو دونوں میاں بیوی مل کر تو محفوظ رکھ سکتے تھے سر پر باپ کی عدم موجودگی سے اس کی بیوی عائشہ اپنی بچیوں کو محفوظ نہیں سمجھتی تھی یہ ساری اونچ نیچ ہادی کو بھی سمجھ میں آتی تھی لیکن مستقبل میں آنے والی خوش حالی کا خیال بھی بڑا خوش کن تھا موجودہ حالات میں تو اس کی اتنی حیثیت ہی نہیں تھی کہ وہ کوئی چھوٹا موٹا مکان کرائے پر لے کر بیوی بچوں کو لے کر الگ رہ لیتا باہر جانے کی صورت میں وہ اپنا الگ ذاتی گھر لے سکتا تھا بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکتا تھا اور اپنے کئی خواب پورے کر سکتا تھا کچھ دن لگے دونوں میاں بیوی کو اپنا ذہن بنانے میں عائشہ کے گھر والے گوجرانوالہ کے پوش علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتے تھے ان سے بھی دونوں نے مشورہ کیا تو ادھر سے بھی حوصلہ افزائی ہوئی بھائیوں نے کہا ہم خود بھی بچوں کی دیکھ بھال کر لیں گے آپ ضرور جائیں ایسے موقعے زندگی میں کبھی کبھار ہی ملتے ہیں
ہر طرح سے اپنا اطمینان کرنے کے بعد ہادی نے باسط صاحب سے رابطہ کیا اس دوران وہ اپنے دوست سے بات کر چکے تھے اس نے بتایا کہ یہاں کا ویزہ مل تو جائے گا جس کی مدت پہلے دو سال ہوگی اور وہاں جاب مل جانے کی صورت میں ویزے میں توسیع بھی ہوجائے گی مگر اس دوران وہ پاکستان نہیں جا سکیں گے چلے گئے تو واپس نہیں آسکیں گے یہ شرط بہت کڑی تھی ایک غیر معینہ مدت تک بچے اپنے باپ سے اور باپ اپنی فیملی سے کیسے دور رہ سکیں گے لیکن یہ شرط مانے بغیر جا نہیں سکتے تھے ہادی کبھی سوچتا نہ جائے تنگی ترشی میں یہاں ہی گذارہ کرتے رہیں پھر خیال آتا کہ وہاں ذیادہ نہیں رکوں گا کچھ کمائی کرکے رقم جمع کرکے واپس آجاؤں گا کچھ عائشہ نے حوصلہ نکالا کچھ اس کے گھر والوں نے تسلی دی اور ہادی نے باسط صاحب کو گرین سگنل دے دیا اور جانے کی تیاری شروع کردی اپنی ورکشاپ بیچ دی کچھ رقم گھر کے اخراجات کے لئے عائشہ کے حوالے کی کچھ سفر کے اخراجات کے لئے رکھی ویزے کی آدھی فیس باسط صاحب کے دوست نے ادا کرنے کا وعدہ کیا جو ہادی وہاں کما کر ادا کردے گا باقی آدھی فیس ہادی نے ادا کی اور پھر وہ دن آگیا جب ہادی کو اپنا وطن بچے بیوی اور باقی فیملی سے جدا ہو کر پردیس سدھارنا تھا اپنے بچوں سے ملتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں
ان دنوں بیرون ملک فلائٹس کراچی سے چلا کرتی تھیں لاہور ائرپورٹ تک سب ہادی کو چھوڑنے گئے
جاپان میں باسط صاحب کے دوست عقیل صاحب نے ہادی کو خوش آمدید کہا اور ملازمت ملنے تک اس کی میزبانی کی اس کی قسمت سے اسے جلد ہی ایک کار کمپنی میں بڑی اچھی تنخواہ پر ملازمت مل گئی اور زندگی معمول پر آتے ہی اس نے اپنے رہنے کا الگ بندوبست کرلیا
دن تو کام کاج میں گذر جاتا مگر رات کی تنہائی میں اسے اپنے گھر اور وطن کی یاد بے طرح ستاتی بچوں کے چہرے نگاہوں میں پھرتے اکلوتے بیٹے کا خیال ستاتا بیوی کا اداس چہرہ تصور میں آتا تو ہادی بے چین ہو جاتا
شروع کا وقت تو بہت مشکل کٹا پھر کچھ صبر آگیا کچھ عادت سی ہوگئی کچھ وقت لگا عقیل صاحب کا قرض اتارنے اور یہاں سیٹ ہونے میں اس دوران وہ گھر پیسے نہ بھیج سکا جب سب معاملات درست ہوگئے تو اس نے ایک معقول رقم پاکستان بھیجنے کے ساتھ کچھ رقم بچت کے کھاتے میں جمع کرنی شروع کردی تاکہ جب واپس جائے تو کچھ پیسہ لے کر جائے
عمیر اس کا بیٹا میٹرک کرکے ایف ایس سی پری میڈیکل میں داخلہ لے چکا تھا بچیاں بھی سکول میں پڑھ رہی تھیں آہستہ آہستہ گھر کے حالات بہتر ہورہے تھے ہادی کے کہنے پر عائشہ نے اپنے والدین کی گلی میں سیٹلائٹ ٹاؤن میں کرایے پر گھر لے لیا اور وہاں شفٹ ہوگئی اگرچہ اس کے سسرال والوں نے بہت برا منایا لیکن اسے اپنی بچیوں کی فکر اور میاں کی اجازت تھی سو اس نے کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہ کی اگلے سال اس کی بڑی بیٹی کو کالج جانا تھا جو بالکل قریب تھا
عمیر جانتا تھا کہ ہادی اسے ڈاکٹر بنانا چاہتا ہے اور اپنا یہ خواب پورا کرنے کے لئے پردیس کاٹ رہا ہے اس لئے وہ دل لگا کر محنت کر رہا تھا تاکہ میڈیکل میں داخلہ لے سکے
ہادی کو گئے تین سال ہوچکے تھے دو ہفتے میں ایک بار اس کا فون آتا مختصر سی بات ہوتی ان دنوں سمارٹ فون فیس ٹائم وغیرہ کی سہولت تو نہیں تھی تفصیل سے بات خط کے ذریعے ہوتی تھی پروگرام یہ تھا کہ عمیر کا داخلہ میڈیکل میں ہوجائے گا تو ہادی واپس آجائے گا اتنے پیسے تو کما ہی چکا تھا کہ اس کی میڈیکل کی فیس دے سکتا دوسال مزید گذر گئے عمیر کے ایف ایس سی کے امتحان کے دوران بد قسمتی سے اسے ٹائیفائڈ ہوگیا اور اس کے پیپر بہت اچھے نہ ہو سکے جس کے نتیجے میں اس کے کم نمبروں کی وجہ سے میڈیکل کے داخلے کا میرٹ نہ بن سکا جس کا دکھ پورے گھر کو تو تھا ہی عمیر کو بہت صدمہ لگا بیماری سے وہ پہلے ہی کمزور ہوگیا تھا مایوسی نے اسے چپ لگا دی اس کا کھانا پینا کم ہوگیا ہنسنا بولنا بہنوں سے شرارتیں کرنا بھی بھول گیا سب اس کی حالت سے پریشان تھے ہادی کو خود بھی بہت جھٹکا لگا تھا مگر بیٹے کو تسلی بھرے خط لکھتا حوصلہ دینے کو فون کرتا اور اس کی ہمت بندھاتا کہ کوئی بات نہیں اگلی بار دوبارہ امتحان دے لینا مگر اس کا مطلب تھا کہ باپ سے ایک سال کی اور دوری جو پہلے ہی بہت ہو چکی تھی
ایک دن عمیر کا ایک کلاس فیلو آیا جس کا میڈیکل میں داخلے کا میرٹ بھی نہیں بن سکا تھا اس نے بتایا کہ کچھ اور لڑکوں نے ارادہ کیا ہے کہ سال ضائع کرنے کی بجائے روس میں ماسکو میڈیکل سکول میں ایڈمشن لیا جائے ان لڑکوں کو اخراجات کی کوئی فکر نہیں تھی کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے وہ عمیر کو بھی مشورہ دینے آیا تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ چلے لیکن عمیر جانتا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اس کے باپ کو مزید قربانی دینا پڑے گی اس کی واپسی اور مؤخر ہو جائے گی اس نے دوست کو کوئی جواب نہ دیا لیکن اس کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا عائشہ نے اس کی کیفیت بھانپ کر بڑے اصرار سے اس سے اس کی بے چینی کا سبب اگلوا لیا اور پھر سارا ماجرا ہادی کو خط میں لکھ بھیجا ہادی جو سوچ رہا تھا کہ واپس وطن چلا جائے اپنی بچت کی رقم سے کوئی کاروبار کرلے بیٹے کی ہمت افزائی کرکے اسے دوبارہ قسمت آزمائی پر آمادہ کرے گا اگر راضی نہ ہوا تو کسی اور پڑھائی کی طرف راغب کرے گا بہت رہ لیا پردیس میں اب بس اور نہیں
لیکن بیوی کے خط نے اس پر سوچ کے نئے دروازے کھول دئیے اپنا اور بیٹے کا ہمیشہ کا خواب پورا کرنے کے لئے اسے مزید پیسہ کمانے کے لئے پردیس کی قید تنہائی کاٹنی پڑے گی یہی ایک راستہ تھا بیٹے کا میڈیکل کیریر بنانے کا سوچ سوچ کر اس نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک ضرورت ہو وہ مزید جاپان میں ہی رہے گا یہ فیصلہ کرکے اس نے بیوی کو کہہ دیا کہ بیٹے کو روس جانے کی اجازت دے دو اس کے داخلے اور سفر کے تمام اخراجات وہ بھیج دے گا عائشہ کا دل اکلوتے بیٹے کو اپنے سے اتنا دور بھیجنے کو بالکل راضی نہ تھا مگر بیٹے کی خواہش کی شدت اور شوہر کی حوصلہ افزائی نے اسے یہ مشکل فیصلہ کرنے کا حوصلہ دے ہی دیا عمیر کو جب عائشہ نے ہادی کے فیصلے کا بتایا تو وہ خوشی سے کھل اٹھا فورا اپنے دوستوں کو اطلاع دی کہ اسے بھی ماسکو جانے کی اجازت مل گئی ہے
دوستوں کے ساتھ مل کر ماسکو میڈیکل سکول میں داخلے کے لئے درخواست دینے اور ضروری کاغذات تیار کرنے میں مصروف ہوگیا کافی بھاگ دوڑ کے بعد اپلائی کرنے کا مرحلہ مکمل ہوا اور سب لڑکے وہاں سے آنے والے جواب کا انتظار کرنے لگے اس دوران ہادی نے عمیر کو تیاری کرنے اور ٹکٹ خریدنے کے لئے اچھی خاصی رقم بھیجی عمیر نے ماں اور بہنوں کے ساتھ مل کر اپنے لئے کپڑے اور ضروری سامان کی خریداری کی وہ خوش بھی تھا کہ ڈاکٹر بننے کی اس کی ازلی خواہش پوری ہوگی لیکن اپنے گھر ماں اور بہنوں سے دوری کا خیال اسے اداس بھی کر رہا تھا یہی حال عائشہ اور بیٹیوں کا تھا
کئی مہینوں کے انتظار کے بعد ایک دن سارے لڑکوں کو روسی سفارت خانہ سے انٹرویو کی کال آئی پانچ لڑکوں کا گروپ اسلام آباد گیا انٹرویو میں ایک لڑکا پاس نہ ہوسکا عمیر سمیت چار سلیکٹ ہوگئے فیل ہوجانے والے لڑکے کا سب کو بہت افسوس ہوا ویزہ جاری ہونے اور باقی تیاری مکمل ہونے کے بعد چاروں لڑکے ماسکو روانہ ہوگئے
وہاں ہوسٹل میں چاروں کو دو کمروں میں جگہ ملی کمرے ساتھ ساتھ تھے انہیں ایک دوسرے کا کافی سہارا تھا اس سے اگلے ونگ میں افغانی لڑکوں کے کمرے تھے کچھ ہی دنوں میں سب آپس میں گھل مل گئے اگرچہ عمیر اور اس کے دوست ذیادہ تر آپس میں ہی رہتے تھے لیکن کلاسوں میں ڈائیننگ ہال میں کنٹین میں آتے جاتے افغانی لڑکوں سے بھی سلام دعا ہوتی رہتی اور آپس میں شناسائی ہو گئی ان میں سے ایک لڑکا جس کا نام جہاں زیب تھا وہ عمیر کا دوست بن گیا اس کے پاکستانی دوستوں نے اسے کہا بھی کہ ہم چاروں آپس میں ہی کافی ہیں غیرملکیوں سے دوستی کی ضرورت نہیں لیکن عمیر کا کہنا تھا کہ جہاں زیب نے خود دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اس کو جھٹک دینا مجھے اچھا نہیں لگا پھر افغانستان ہمارا ہمسایہ اور بردار مسلمان ملک ہے وہاں سے آئے کسی شخص سے دوستی میں کیا حرج ہے اس کے دوست اس کی دلیل پر چپ تو ہوگئے مگر مطمئن نہیں ہوئے کیونکہ افغان لڑکوں کے مزاج میں رچی بسی ایک مخصوص سختی انہیں پسند نہ تھی عمیر کو محتاط رہنے کی تلقین کرتے رہتے تھے جسے عمیر سنی ان سنی کردیتا اور کہتا یار وہ بھی ہماری طرح پردیسی طالب علم ہیں کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں
میڈیکل کی سخت اور محنت طلب پڑھائی شروع ہوئی تو سب شدید مصروف ہوگئے جہاں زیب خان اور عمیر کی کم ہی ملاقات ہوتی
عمیر کے پاکستانی دوست کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے ہادی نے بھی عمیر کو پیسوں کی کمی نہیں آنے دی بروقت اس کی فیس ہوسٹل کے اخراجات کے علاوہ بھی کھلا خرچہ بھیجتا تھا عمیر نے اپنا کھانا پینا بھی اچھا رکھا تھا لیکن چونکہ سلجھی ہوئی عادتوں کا مالک تھا بلاوجہ پیسے ضائع نہیں کرتا تھا
ہفتے میں ایک بار ہادی کو اور دوسرے ہفتے گھر میں ماں اور بہنوں سے فون پر مختصر سی بات کر لیتا
سخت محنت والی پڑھائی کرتے وقت گذرنے کا پتا نہیں چلا چونکہ لڑکے محنتی تھے بلا کسی روکاوٹ کے ہر سال کا پروفیشنل امتحان پاس کرتے چوتھے سال تک پہنچ گئے چوتھے سال کی فیس اور ہوسٹل کے اخراجات جمع کرانے کا وقت آیا تو عمیر کے افغانی دوست جہاں زیب خان نے اسے بتایا کہ اس کے گھر سے ابھی اس کے پیسے نہیں آئے چوتھے سال کی فیس کی آخری تاریخ آنے والی ہے اگر عمیر اسے کچھ رقم ادھار دیدے تو وہ فیس ادا کردے جب گھر سے پیسے آئیں گے تو واپس کردے گا عمیر کے پاس اتنے پیسے تو تھے اس نے بڑی خوش دلی سے فیس اور ہوسٹل کے پیسے اس کے حوالے کر دئیے جہاں زیب اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا اس بات کی خبر دوسرے پاکستانی دوستوں کو بھی عمیر نے نہیں ہونے دی چوتھا سال بخیریت گذر گیا جہاں زیب نے اس سے ادھار لئے پیسے ابھی تک واپس نہیں دئیے تھے پروفیشنل امتحان ہوئے اور لڑکے پاس ہوگئے اب پانچویں اور آخری سال کی پڑھائی رہ گئی تھی اس کے بعد وہ واپس اپنے ملک اپنے گھر چلے جائیں گے
اس بار اتفاق سے عمیر کے گھر سے ابھی تک پیسے نہیں آئے تھے لیکن اسے تسلی تھی کہ جہاں زیب نے اس کا ادھار دینا ہے فیس تو ادا ہو جائے گی جس دن فیسوں کی ادائیگی کا نوٹس لگا عمیر نے جہاں زیب کو بتایا کہ میرے گھر سے ابھی سالانہ اخراجات کی رقم نہیں آئی تم میرا ادھار واپس کردینا تاکہ میں پانچویں سال کی فیس وقت پر ادا کر سکوں جہاں زیب نے کوئی تسلی بخش جواب دینے کی بجائے ہوں ہاں میں ٹال دیا یونہی عمیر کے پوچھنے اور جہاں زیب کے ٹالنے میں فیس کی ادائیگی کی آخری تاریخ آ پہنچی تب عمیر نے کچھ سختی سے پیسوں کا تقاضا کیا تو دونوں میں اچھی خاصی تلخ کلامی ہوگئی جہاں زیب بڑی ڈھٹائی سے عمیر کا قرض چکانے سے انکاری ہوگیا اس پر عمیر کو طیش آگیا اور اس نے جہاں زیب کو سخت باتیں سنائیں عمیر کے پاکستانی دوستوں نے بیچ بچاؤ کرایا اور اسے کمرے میں لے گئے وہ تو جانتے ہی نہیں تھے کہ ان دونوں کے درمیان کوئی پیسوں کا لین دین بھی تھا انہوں نے عمیر کو ڈانٹا کہ ہم تمہیں اس لڑکے سے ذیادہ راہ و رسم بڑھانے سے منع کرتے تھے مگر تم نے ہماری بات نہ مانی عمیر سخت پریشان تھا دوستوں میں سے کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ عمیر کی فیس دے سکتے وہ اپنے گھروں سے آنے والے پیسوں سے کھلا خرچ کرتے بچا کر رکھنے کی انہیں نہ عادت تھی نہ ضرورت پردیس میں کوئی اور تھا بھی نہیں جس سے پیسے مانگ لیتے اگلا دن فیس کا آخری دن تھا عمیر اپنے روم میٹ پاکستانی دوست کو سوتا چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا اور دوسرے بلاک میں جہاں زیب کے کمرے میں پہنچ کر اس کی منت کی کہ میرے پیسے دے دو میں نے تمہاری ضرورت کے وقت تمہاری مدد کی تھی اب مجھے ضرورت ہے تو تم میرا احساس کرو یہ پردیس ہے بروقت فیس نہ دی تو مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا جہاں زیب پر اس کی منتوں کا کوئی اثر نہ ہوا الٹا پیسے دینے سے انکار کرنے کے ساتھ عمیر کے ساتھ ہا تھا پائی پر اتر آیا ان دونوں کی تکرار سن کر جہاں زیب کے ہم وطن لڑکے بھی وہاں جمع ہوگئے اور جہاں زیب کو شہہ دینے لگے کہ مارو اس کو بڑا آیا پیسے مانگنے عمیر اس پورے گینگ کے درمیان اکیلا ان کی بکواس بھی سن رہا تھا اور تھپڑ بھی کھا رہا تھا غصے میں تلملا کر اس نے بھی جہاں زیب کو مکا مار دیا یہ مکا آگ پر تیل کا کام کرگیا جہاں زیب نے کہیں سے تیز دھار چاقو نکالا اس کے ساتھیوں نے عمیر کو قابو کیا اور اس نے پے درپے چاقو کے وار اس کے پیٹ پر کئے خون کا فوارہ چھوٹا اور عمیر زمین پر گر کر تڑپنے لگا جہاں زیب اور اس کے ساتھی اسے تڑپتا دیکھ کر ہوسٹل سے نکل کر بھاگ کئے ادھر پاکستانی لڑکوں کو کسی نے جاکر بتایا وہ بھاگے آئے دیکھا تو ان کا دوست خاک و خون میں لت پت تڑپ رہا تھا سب نے مل کر اسے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا مگر علاج شروع ہونے سے پہلے ہی عمیر دم توڑ گیا
والدین کا اکلوتا بیٹا پردیسی میڈیکل سٹوڈنٹ آخری سال میں پہنچ کر اپنے ڈاکٹر بننے کے شوق کو سینے میں لئے دوست کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر گیا ہوسٹل میں سنسنی پھیل گئی انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے معاملہ پولیس میں چلا گیا پاکستانی ساتھیوں نے عمیر کے گھر اطلاع دی تو جو قیامت وہاں برپا ہوئی اسے بیان کرنے کا تو حوصلہ ہی نہیں ہے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے کیا لکھیں کیسے لکھیں
ہوسٹل میں پولیس آئی واردات کی رپورٹ لکھی شہر میں ناکہ بندی کرکے مجرم پکڑے تو گئے مگر جو وہ کر بیٹھے تھے اس کی تو کوئی تلافی نہیں تھی
پاکستانی لڑکوں نے اپنے ملک کے سفارت خانے کے ذریعے عمیر کی میت پاکستان بھجوائی دوستوں کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی وہ چار آئے تھے تین رہ گئے اپنے پیارے زندہ دل دوست کو خون میں لت پت اور مردہ حالت میں دیکھنا ان کے لئے ایک بھیانک خواب تھا یہ بہت بڑا صدمہ تھا
عمیر کا گھر ہماری لین میں ہی تھا اکلوتے بیٹے کی موت وہ بھی اس وقت جب ڈاکٹر بننے میں چند ماہ کا وقت رہ گیا تھا ماں باپ کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی بیٹے کی میت آنے تک ہادی جاپان سے واپس آچکا تھا اور جس دن میت آئی اور تدفین ہوئی وہ دن صرف اس گھر والوں پر ہی نہیں پورے محلے پر قیامت سے کم نہیں تھا
ہادی ایک دم بوڑھا لگنے لگا زندگی بھر اپنے وطن بیوی بچوں اور عزیزوں دوستوں سے دور رہا جس بیٹے کی ڈاکٹر بننے کی خواہش پوری کرنے کی خاطر چار سال مزید پردیس کاٹا دن رات محنت کرکے پیسہ کمایا وہ بڑھاپے کی لاٹھی وہ پچھلی عمر کی آس اچانک ہی ختم ہوگئی وہ دوبارہ جاپان نہیں گیا کیوں جاتا کس کے لئے جاتا ایک عرصے تک وہ گھر سے باہر نہیں نکلا منہ سر لپیٹ کر بیڈ پر لیٹا رہتا چپ چاپ گم سم
گذرتا وقت مرہم کا کام کرتا ہے ہادی بھی آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے لگا اسے یاد آیا کہ اس کی بیٹیاں بھی ہیں جن کے سب فرائض ابھی پورے کرنے ہیں بیوی ہے جس نے ساری عمر اس سے جدائی میں گذار دی اس نے بھی بیٹا کھویا تھا اسی صدمے کا وہ بھی شکار ہوئی تھی اور اپنے شوہر کی توجہ اور تسلی کی اسے بھی ضرورت تھی یہ احساس جاگا تو ہادی نے بچی کھچی ہمت اور سرمایہ جمع کیا اور کاروبار شروع کیا عائشہ کے گھر والوں نے بہت ساتھ دیا ہر طرح سے اس کی مدد اور دلجوئی کی کچھ عرصہ لگا پھر اس کا کام چل نکلا زندگی اک ڈگر پر چل تو پڑی مگر جب بھی بیٹے کی یاد آتی تو سینے میں ہوک سی اٹھتی اور کئی گھنٹے چپ لگ جاتی سب اس کی کیفیت جانتے تھے اس حالت میں اسے کوئی ڈسٹرب نہ کرتا وہ خود اندر ہی اندر اپنے غم سے لڑ کر ٹھیک ہوجاتا
یہ سچی کہانی مجھے کبھی نہیں بھولی آج یوں یاد آئی کہ جن افغانوں کو پاکستانیوں نے اپنے بھائی سمجھا وہی دھماکوں میں ان کے چیتھڑے اڑا رہے ہیں تو پھر احسان فراموشی تو ان کی سرشت میں ہے اور انسانی جان کی ان کے سامنے کوئی وقعت نہیں


