مال ڈنگر /یوحناجان

الفاظ کا استعمال یوں ہی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک تصور کی دلیل ہے جو ان کو کپڑے کا پہناوا دے کر کسی کو کپڑے پہنا دیتا ہے نہیں تو پھر اس کے کپڑے اتار کر عزت کو تارتار کر دیتا ہے۔ یہ سب مال ڈنگر کی مرہون منت ہی ہے اور کوئی نہیں ورنہ یہ تصور کیا ہے جس کے ہاں نہ ہو تو وہ بھی ڈنگر چاہے ہو عمر کا عادی یا مال کا مادی۔
اسی کی مرہون منت کچھ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ موجودہ زمانہ میں موضوع کے دونوں الفاظ کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ جہاں سے یہ اُترنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کبھی یہ مال کا مال لے کر ہڑپ کر جاتا ہے تو کبھی ہڑپہ کی تاریخ کو دُہرا کر اوپر سے ہی قہقہ لگاتا ہوا پاتا،نہیں تو نیچ اُتر کر موضوع کا دوسرا روپ لے کر بے عقل کہلاتا ہے۔ سُننے اور دیکھنے والے نے فوراً سوچا وہ جو سوچ مال کے متعلق نہیں تو ڈنگر۔
اب مرضی اِس کی یا اُس کی یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہ مال ڈنگر یا وہ مال ڈنگر۔ خود تو اس نے ایلفی پی ہے،کہتا ہی نہیں کہلوا کر خود کو اعلیٰ درجہ دلواتا ہے۔
کبھی یہ پارک میں گھاس چرتا ہوا پایا،نہیں تو راہ آوارہ سینگ لڑاتا دکھایا۔ رسی ٹوٹی تو کسی کی جوتی،دونوں بھاگم بھاگ ہاتھ سے راگ پھوٹی۔ آں گاں شاں اور پھر باں دونوں کی آواز باہم ایک ریل،بیل اور پھر جیل سے نکلتی ہے۔
مال کے ساتھ ڈنگر کا کردار پیدائش سے موت تک ایک ایک سرگرمی میں اہم ہے۔کبھی روٹی کپڑا اور مکان میں تو کہیں لتر پلیٹ اور شادی کی شان میں،زندگی کی کردار نگاری نہیں تو میاں،مُلا اور میان سازی۔گاوں میں تو جگہ جگہ حویلی مال ڈنگر کی صدا۔ مونچھ کا تاو دے کر رسی کھنیچ کر رنگ کالا،من کالا نہیں تو باقی سب دور سے آواز کھیتوں سے آرہی ہوتی ہے کہ کیا حال ہے تیرا اور مال ڈنگر کا لالہ۔
وہی ڈنگر کی کُھرلی کے چاروں اطراف گھوم گھوم کر آخر کر قصائی کی دُکان پر مال لے کر ڈنگر کا حساب ہو رہا ہوتا ہے۔ کھانے والے کھانے سے قبل مال دے کر ڈنگر خریدتے پاتے ہیں۔ پوچھیں تو بے حساب قہقہ لگا کر مال کے عوض ڈنگر کھاتے ہیں،یہی ڈنگر بنک کے حساب سے شروع ہو کر پارلیمان کے دسترخوان تک چلا جاتا ہے۔ جہاں وہ یہی ثابت کرتے کرتے آئین کی ترمیم،ہیرا منڈی کی شمیم،دال روٹی اور اس کے ساتھ ڈنگر کی بنی حلیم مزے مزے سے پکوان اور آئس کریم پلیٹ میں پلٹہ لیتی نظر آتی ہے۔
مال کے مال گودام،سیلاب کی نذر میں مال ڈنگر سب بہ کر چلے گئے پر ابھی تک ان کا اتا پتا نہیں کہاں سے آئے اور کہاں چلے گئے۔آنے اور جانے میں نہ جانے کیا بنا، کوئی مال دار تو کوئی مال ڈنگر کا اسیر مالک۔ دیکھنے والوں نے صرف یہی کہا کہ فلاں کے مالک ڈنگر تو کہاں کے ڈنگر۔
اِس میدان سے اُس میدان میں پڑاو کبھی مال کا تو کبھی ڈنگر ماضی سے حال اور مستقبل تک اسی حالت میں مال ڈنگر۔
مال بھرا کہیں گودام،مال کی گاڑی طویل لائن بنا کر ہارن بجھاتے جا رہی ہے۔پنجاب کے شہر لاہور کا مال روڈ ادب کا مرکز تو دوسری جانب اسمبلی کے لیے اہم راہ مال منتر کی اصلاح،انگریز دور کی یادگار کا چرچا۔مال مویشی گجر چودھری کی عزت و بقا،مال شال کا نعرہ ایک بلند آواز لگاتے بعد میں مال ڈنگر کھاتے مالا مال کہلاتے ہیں۔ مال متاع،پیکجز مال،رومال جیسی اصطلاحات مال کھانے کے بعد منہ صاف کرنے کی غرض سے جیب سے نکلتی ہے پھر اسی جیب سے مال نکال کر ہوا میں اُڑتا ہوا نظر آتا ہے بعدازاں دیکھنے والا ایک ہی لفظ میں زور سے پُکارتاکہ یہ ڈنگر ہے۔
مال سے مالا مال پھر اسی سے بے محال،عدالتوں شالتوں کے باہر بھی مال لگانے کی بات کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہاں سے ہی دیکھنے والوں اس مال کے لگانے والوں کو ڈنگر کی اصطلاح میں پُکار کر دور سے کہا رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ کچھ مال لگا کر ڈنگر کہلائے تو کہیں مال دے کر گھر میں ڈنگر لے آئے۔ دونوں جانب مال کی اصطلاح برابر ہے۔ اب جو چاہو لگا ڈر کیسا؟
مال سے ڈنگر منڈیوں میں خریدے جاتے تو جانب دوسری فروخت کابازار بھی گرم نظر آتا ہے۔کہیں بولی لگا کر تو کہیں بارٹر سسٹم کے تحت۔ دونوں کی بات نہ ہو تو ڈنگر میز پر رکھ کر پلیٹ میں پیش خدمت ہوتا ہے۔ اسی خدمت کے خواہاں خدمت کے نام پر مال ڈنگر کھاتے کھلاتے پائے جاتے ہیں۔ رنگ،انگ،دنگ،بھنگ،پاکستان کا مشہور شہر جھنگ تاریخ، تہذیب،ثقافت اور ادب سب میں اب سے بڑھ کر ایک جنگ۔ جنگوں کے میدان میں بھی تو ڈنگر کار آمد ہوتے ہیں چاہے وہ گھوڑا ہو یا اونٹ۔ مال کی رسد میں بھی تو ان کا چرچا عام ہے۔ روٹی،کپڑا اور مکان ہے،دم پُختہ، ملائی اور نان ہے۔ مجموعی طور پر سب مال کی بدولت ڈنگر کا اہتمام ہے۔ ایک طرف جنگل کا شیر تو دوسری طرف سرکس کا شیر۔ ہمہ وقت ڈنگر ہی تو ہے۔ ایک جگہ ڈنگر گراتے ہیں ثانی الذکر جگہ نچاتے ہیں۔ انھی ڈنگروں سے مال کماتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں