ہمارے ملک میں “سہاگ رات کیسے منائیں” اور “مباشرت کے شرعی طریقے” کے پہلو بہ پہلو ابتدائی سائنس کے موضوعات پر فٹ پاتھ پر بکتی کتابیں پڑھ کر کوانٹم فزکس کے ایکسپرٹ بن جانے والے، اور یوٹیوب پر ڈسکوری چینل کی دو چار ارتقاء مخالف ویڈیوز دیکھ کر ماہرینِ حیاتیات بن جانے والے خود راست نابغوں کی کمی نہیں۔ سوشل میڈیا کی وساطت سے ایسے چند یوٹیوبرز کے ناموں سے آپ بھی واقف ہیں۔ ان نابغوں میں تازہ ترین اضافہ جاوید چودھری صاحب کا ہے۔ موصوف اپنے کالمز میں تاریخی واقعات کا جو حشر کرتے ہیں سو کرتے ہیں ، شنید ہے کہ اب انہوں نے سائنس کی بھی ایسی کی تیسی کرنے کا بیڑہ اُٹھا لیا ہے ۔
آپ اپنے ایک حالیہ کالم میں نظریہ ارتقاء سے کھلواڑ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“حیوانات کے ماہرین کادعویٰ ہے زمین پر ایک ایسا وقت بھی گزراتھا جب سارے شیراور چیتے بلیاں تھے‘ یہ سائز میں فٹ تک ہوتے تھے‘ منہ سے میائوں کی آوازیں نکالتے تھے‘ گھروں اور آبادیوں کے قریب رہتے تھے‘ دودھ پیتے تھے اور بھیڑیوں کی خوراک بن جاتے تھے لیکن پھر ان میں سے چند گروہوں نے چوہے کھانا بند کر دیے اور یہ بڑے جانور شکار کرنے لگے‘ اس کے ساتھ ہی ان کا سائز اور عادات تبدیل ہونے لگیں‘ یہ اس کے بعد میائوں کی جگہ دھاڑنے لگے ‘ ان کے دانت اور پنجے بڑے اور مضبوط ہوگئے اور ان کی سپیڈ بڑھ گئی ‘ یہ بے خوف بھی ہو گئے اور انہوں نے اب تمام جانور حتیٰ کہ انسانوں سے بھی گھبرانا بند کر دیا اور یہ تمام تبدیلیاں صرف ایک تبدیلی سے آئیں‘ انہوں نے چوہے کھانے بند کر دیے تھے یعنی انہوں نے اپنے اندر کی چھوٹی بلی مار دی اور اس کے ساتھ ہی ہر چیز تبدیل ہو گئی‘ بلیوں میں آخری تبدیلی آسٹریلیا میں آئی تھی‘ آسٹریلیا میں 1788ء تک بلیاں نہیں ہوتی تھیں‘ انگریز انہیں آسٹریلیا لے کر آئے‘ ان میں سے کچھ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئیں‘ یہ شریف بلیاں ہیں‘ یہ دودھ پیتی ہیں‘ کیٹ فوڈ کھاتی ہیں‘ میائوں میائوں کرتی ہیں اور گھروں کے صوفے خراب کرتی ہیں جب کہ اسی نسل (Feral Cats) کی بعض بلیاں جنگلوں میں نکل گئیں اور صرف ڈیڑھ سو سال میں ان کا سائز اور وزن بڑھ گیا‘ یہ اب پندرہ سے بیس کلو وزنی ہیں اور اپنے سے کئی گنا بڑے جانوروں کو شکار کرتی ہیں‘ ماہرین کا خیال ہے یہ اگلی چند دہائیوں میں چیتا یا شیر بن جائیں گی۔” (جاوید چوہدری)
حقیقت یہ ہے کہ حیوانات کے ماہرین نے ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی پیشگوئی جس کا موصوف نے اپنے کالم میں ذکر کیا ہے۔ نظریہ ارتقاء کی رُو سے کوئی بلّی کبھی بھی ارتقاء کرکے شیر یا چیتا نہیں بنتی اور نہ ہی حیوانات میں محض “چند دہائیوں” میں ایسی کوئی تبدیلی آتی ہے جسے ارتقاء کہا جا سکے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم اپنی مختصر سی زندگی میں ہی نظریہ ارتقاء کو عمل پذیر ہوتا ہوا دیکھ سکتے اور مخالفین کے منہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتے ۔ جاوید چودھری صاحب کے یہ دونوں بيانات سائنسی اور واقعاتی دونوں حوالوں سے غلط ہیں ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ موصوف کو کہانیاں گھڑنے کا نہ صرف شوق ہے بلکہ انہیں اس فن میں کمال بھی حاصل ہے۔ آپ تاریخ لکھتے یا بیان نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ گھڑتے ہیں اور اس کارِ خیر کی اُجرت بھی وصول کرتے ہیں ۔ تاریخی واقعات میں کالم نگاری کی حد تک موصوف کے لئے ذاتی معلومات اور تعصبات کی بنیاد پر رائے زنی کی گنجائش شاید موجود ہو لیکن سائنس میں ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا۔ سائنس کے کسی بھی موضوع پر بات کرنے یا لکھنے سے پہلے اسے سمجھنے کے لیے سائنسی کتب اور لٹریچر کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ موصوف ایک بددیانت اور کم علم آدمی ہیں ۔ خاص طور پر سائنس کے معاملے میں اُن کا علم صفر کے درجے سے بھی کچھ کم ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہاں باقی باتیں کونسا سائنس کے مطابق ہو رہی ہیں جو ہم طوطوں کے سرخ رنگ پر اعتراض کریں۔ البتہ موصوف مذکورہ کالم میں اپنی جہالت کا اشتہار دینے کی بجائے اگر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے تو شاید اُن کی کچھ عزت رہ جاتی ۔۔۔۔ شاید !!!
موصوف کے تازہ ترین کالم کا لنک پہلے کمنٹ میں۔


