لوگ حق کو جمیل نہیں مانتے/مہ ناز رحمن

ہفتے کو عید تھی، موبائل اٹھایا تو واٹس،ایپ پر شہناز موسی کا،پیغام نظر آیا ” مظہر بھائی چلے گئے۔ یہ کیا مظہر بھئی، آپ کو عید والے دن ہی جانا تھا۔ آپ تو ہمیشہ سب کی خوشیوں کا خیال رکھتے تھے۔ عید والے دن سب کو رلا کر چلے گئے۔ تب سے یادوں کا طوفان امڈ رہا ہے۔ پہلی بار ستر کے عشرے میں ان سے سکھر میں ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میری پیاری دوست ممتاز کی بڑی بہن نورجہاں کے شوہر تھے۔ہم شکارپور میں رہتے تھے۔ میں اور ممتاز دونوں کراچی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور ہوسٹل میں رہتے تھے۔چھٹیوں میں ہم ٹرین میں اکٹھے اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ سکھر ذرابڑا اور شکارپور کے مقابلے میں نسبتا” ماڈرن شہر تھا۔ہم شاپنگ کرنے اوروہاں کے سینما ہاوس شالیمار میں فلم دیکھنے جایا کرتے تھے۔ ہمارے گھرانوں میں بھی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ممتاز کی بدولت ہی مظہر بھائی کے بہنوئی ڈاکٹر اعزاز نذیر جو بائیں بازو کی سیاست کا ایک اہم نام تھے، سے تعارف ہوا اورممتاز کے گھر ہی پہلی مرتبہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے ملنے آئے تھے۔ نورجہاں اور مظہر بھائی کے گھر جب بھی میں جاتی ، ان کی لائبریری میری توجہ کا مرکز بن جاتی۔ ہر دفعہ میں وہاں سے کوئی کتاب لے آتی اور پڑھنے کے بعد واپس کر دیتی۔ ستر کے عشرے کے اوائل میں ہماری فیملیز کراچی شفٹ ہو گئیں اور اتفاق سے ہم سب نے نارتھ ناظم آباد میں ہی رہائش اختیار کی۔ مظہر بھائی کے گھر ادبی تقریبات منعقد ہوتی رہتی تھیں ۔مجھے یاد ہے ایک مرتبہ آل احمد سرور پاکستان آئے ہوئے تھے اور مظہر بھائی نے اپنے گھر میں تقریب منعقد کی تھی اور میں نے اس تقریب کی رپورٹنگ کی تھی۔ مظہر بھائی پیشے کے لحاظ سے تو بینکر تھے لیکن ترقی پسند تحریک سے وابستگی کی بنا،پر انہوں نے جو ادبی اور تحقیقی کارنامے سر انجام دئیے،وہ ایک فرد،سے زیادہ ایک ادارے کا کام لگتا ہے۔1986 میں ان کی کتاب ” گفتگو” 2004 میں جدید سندھی ادب : میلانات، رحجانات، امکانات، 2005 میں انگارے سے پگھلا نیلم تک: نئے گوشے، نئے تناظر اور 2006 میں سوبھو گیان چندانی: شخصیت اورفن اور 2007 میں آشوب سندھ اور اردو فکشن شائع ہوئی۔ مظہر بھائی اسکول کے زمانے میں ہی این ایس،ایف میں شامل ہو گئے تھے۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں اور مرتے دم تک ترقی پسند نظریات سے جڑے رہے۔ آخری دنوں میں خرابی صحت کی وجہ سے باہر نکلنا کم ہو گیا تھا لیکن لکھنے پڑھنے کا کام جاری رکھا۔ مظہر بھائی اور نورجہاں باجی کی جوڑی مثالی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے بےپناہ محبت کرتے تھے۔ نورجہاں باجی بہت سلیقہ مند اور کفایت شعار خاتون ہیں۔ان کا مظہر بھائی کے ترقی پسند نظریات اور ادب سے کوئی لینا،دینا نہیں تھا لیکن وہ خوش دلی سے ان کی ادبی سرگرمیوں میں شامل رہتی تھیں اور انکے ساتھ آرٹس کونسل میں ہونے والی ادبی تقریبات میں نظر آتی تھیں۔ ہم سب انہیں مظہر جمیل کے نام سے جانتے ہیں لیکن موبائل فون کا زمانہ آنے سے پہلے ایک دفعہ ان کے بینک کسی کام سے لینڈ لائن پر فون کیا تو آپریٹر مظہر جمیل کے نام سے واقف نہیں تھا۔ “یہاں تو مظہرالحق ہوتے ہیں” ۔اس نے مجھے اطلاع دی ۔ جب مظہر بھائی لائن پر آئے تو میں نے انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ” دراصل یہ لوگ حق کو جمیل نہیں مانتے” تو یہ تھےہمارے مظہر بھائی۔ اللہ غریق رحمت کرے

اپنا تبصرہ لکھیں