فون بجا۔
بائیس مارچ دو ہزار چھبیس، اتوار کی رات۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے فون کیا۔ فنانشل ٹائمز نے آج تیئس مارچ کو یہ خبر دو ایسے ذرائع کے حوالے سے بریک کی ہے جنھیں اس گفتگو کی تفصیلات بتائی گئیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ دہرائی: پاکستان نے خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے بنیادی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز، سن یا مرر نہیں ہے، اگر وہ کچھ چھاپتا ہے تو توجہ دینی بنتی ہے.
تیئس مارچ دو ہزار چھبیس۔ یہ تاریخ یاد رکھیں کہ اس دن کا تاریخ کا حصہ بننے کا چانس ہے.
آج صبح ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بڑے حرفوں میں لکھا: “میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے جائیں۔” بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، این پی آر سب نے تصدیق کی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ “بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت” ہوئی ہے اور دونوں فریقین “معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔” کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام ایرانی فریق کی ایک “اعلیٰ شخصیت” سے گفتگو کی۔ بنیادی مطالبہ: ایران یورینیم افزودگی بند کرے۔ سی این بی سی کو بتایا: “ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔”
ٹرمپ نے ہفتے کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ آبنائے ہرمز کھولو ورنہ بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ مہلت آج شام ختم ہونی تھی۔ مگر حملے ملتوی ہو گئے۔ تیل کی قیمتیں فوری طور پر گریں۔ عالمی منڈیوں میں ابھار آیا۔
ایران نے فوراً تردید کی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کو بتایا: “گزشتہ چند دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے جن میں کہا گیا کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے۔ لیکن ایران نے جواب نہیں دیا۔ گزشتہ چوبیس دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہوئی۔” مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید سخت لہجے میں ایکس پر لکھا: “امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ یہ جھوٹی خبریں تیل اور مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری اور امریکہ اور اسرائیل کو جس دلدل میں پھنسے ہیں اس سے نکالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔”
لیکن ایرانی ترجمان کا ایک جملہ پکڑو۔ “دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے۔”
یہ “دوست ممالک” کون ہیں؟
سی این این کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اڑتالیس گھنٹوں میں درجن بھر سے زائد فون کالز کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی۔ مصری وزیر خارجہ سے بات کی۔ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بات کی۔ سعودی وزیر خارجہ سے بات کی۔ پاکستانی عہدیداروں سے بات کی۔ مصر اور ناروے کی قیادت سے بات کی۔ سی این این نے لکھا: “بات چیت سے واقف افراد کے مطابق ترکی اور مصر دونوں نے فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ہیں۔”
مگر فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ “بنیادی ثالث” پاکستان ہے۔ روایتی ثالث عمان اور قطر اس وقت کم فعال ہیں۔
اب سوال یہ ہے: پاکستان یہ کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس کی بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔
پہلی بنیاد: رسائی۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بیک وقت واشنگٹن، تہران اور ریاض تینوں تک رسائی ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک حصہ باقاعدہ طور پر ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یعنی جب ایران کو امریکہ تک کوئی پیغام پہنچانا ہو تو ایک راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کو ایک پاکستانی سینئر سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: “پاکستان روایتی ثالثوں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کر رہا۔ وہ ایک ایسے وقت میں پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جب اعتماد کا بحران شدید ہے اور رابطے کے ذرائع بکھرے ہوئے ہیں۔” اس نے مزید کہا: “پاکستان کو یہاں جو چیز متعلقہ بناتی ہے وہ رسائی ہے۔ فوجی سطح پر اور سیاسی سطح پر دونوں فریقوں تک۔”
دوسری بنیاد: عاصم منیر کا ذاتی رشتہ ٹرمپ کے ساتھ۔
جون دو ہزار پچیس۔ مئی کے پاک بھارت تصادم کے بعد ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا۔ کابینہ روم میں ظہرانہ۔ پھر اوول آفس میں ملاقات۔ ایک گھنٹے کی طے شدہ ملاقات دو گھنٹے سے تجاوز کر گئی۔ ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف تھے۔ عاصم منیر کے ساتھ صرف قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک تھے۔ کوئی سویلین وزیر نہیں۔ کوئی سفیر نہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کو سویلین قیادت کے بغیر تنہا وائٹ ہاؤس میں بلایا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: “عاصم منیر سے ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔ میں نے انھیں شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے کہ انھوں نے جنگ نہیں کی۔” پھر کہا: “وہ ایران کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ ایران کے بارے میں کچھ بھی خوش نہیں ہیں۔ اس (عاصم منیر) نے میری بات سے اتفاق کیا۔”
ڈان اخبار نے لکھا کہ ملاقات “تلاشی” نوعیت کی تھی، حتمی نہیں۔ مگر ٹرمپ کے لیے یہ حکمت عملی تھی۔ اسرائیل ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی شمولیت چاہتا تھا۔ ٹرمپ ایسا شراکت دار ڈھونڈ رہا تھا جو قریب ہو اور جس کے پاس انٹیلی جنس کی گہرائی ہو۔
تیسری بنیاد: سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ۔
ستمبر دو ہزار پچیس۔ ریاض کے الیمامہ محل میں ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ عاصم منیر ساتھ تھے۔ بنیادی شق: “کسی بھی فریق پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہو گی۔” نیٹو کی شق پانچ جیسی زبان۔ یہ معاہدہ اس لیے ہوا کیونکہ ستمبر دو ہزار پچیس میں اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے کسی رکن ملک پر پہلا حملہ تھا اور خلیجی ممالک کا امریکی حفاظتی ضمانتوں پر اعتماد ڈگمگا گیا تھا۔
اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس۔ جنگ شروع ہوئی۔ ایران نے جوابی حملوں میں سعودی عرب پر بھی میزائل داغے۔ چھ مارچ کو سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ شہزادہ سلطان ہوائی اڈے کی طرف تین بیلسٹک میزائل روکے گئے۔ سات مارچ کو سعودی عرب نے پہلی بار باہمی دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ عاصم منیر فوری طور پر ریاض پہنچے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔ شہزادہ خالد نے ایکس پر لکھا کہ دونوں نے “ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں اور انھیں معاہدے کے تحت روکنے کے اقدامات” پر بات کی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ عاصم منیر کے دورے نے پاکستان کو حرمین شریفین اور سعودی ڈھانچے کے “سلامتی ضامن” کے طور پر پیش کیا۔ حج دو ہزار چھبیس تین ماہ سے بھی کم فاصلے پر ہے اور حج کی سلامتی ایرانی میزائل حملوں سے براہ راست خطرے میں ہے۔
ایک اور تفصیل۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں پاکستانی ایف سولہ بلاک باون طیارے سعودی عرب میں کثیرالقومی فوجی مشق کے لیے موجود تھے. ۔ تجزیہ نگاروں نے بعد میں لکھا کہ یہ تعیناتی اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اسی نوعیت کی ہم آہنگی کی مشق معلوم ہوتی ہے جو حقیقی تصادم میں درکار ہوتی ہے۔
چوتھی بنیاد: ایران کے ساتھ سرحد اور تعلقات۔
پاکستان کی ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی دو ہزار پچیس میں پاک بھارت تصادم کے فوراً بعد ایران کا دورہ کیا تھا۔ صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ یہ ذاتی رشتے ابھی اہم ہیں۔
تین مارچ دو ہزار چھبیس کو پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ایسا بیان دیا جس نے ہر دارالحکومت میں ہلچل مچا دی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ذاتی طور پر تہران کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ خارج نہیں کیا۔ مذاق نہیں اڑایا۔ ضمانتیں مانگیں کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ایران نے اسے اتنا سنجیدگی سے لیا کہ سعودی عرب میں ایرانی سفیر نے باقاعدہ عوامی بیان دیا جس میں ریاض کے اس وعدے کو سراہا کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا کہ وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بریفنگ میں بتایا: “ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن امریکہ ایران کا پورا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا تھا۔” ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔
پانچویں بنیاد: اندرونی جہاد۔
جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان کے اندر طوفان اٹھا۔ پاکستان کی شیعہ آبادی مجموعی آبادی کے پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر سڑکوں پر نکل آئے۔ کراچی میں مظاہرین امریکی قونصل خانے کی طرف بڑھے۔ امریکی میرین سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کی۔ کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں جھڑپوں میں کم از کم تیئس افراد ہلاک ہوئے۔ گلگت بلتستان میں تین دن کا کرفیو لگایا گیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملہ کیا۔ بارہ افراد مارے گئے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر جلائی گئیں۔ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائی گئیں۔
الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستان کی خطرناک فرقہ وارانہ تاریخ ایک اور خطرے کی تہہ ہے۔ زینبیون بریگیڈ، جو پاکستانی نژاد شیعہ ملیشیا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی تربیت، مالی تعاون اور کمان میں کام کرتی ہے، نے گزشتہ دہائی میں ہزاروں لڑاکا بھرتی کیے ہیں۔ کرم ایجنسی جو اس بریگیڈ کا بنیادی بھرتی مرکز ہے وہاں دو ہزار چوبیس کے آخری ہفتوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک سو تیس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
بیس مارچ کو عاصم منیر نے راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملاقات کی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اور صاف الفاظ میں کہا: “پاکستان میں کسی دوسرے ملک کے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔” ترجمان پاک فوج نے اسے دہرایا: “بیرونی واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔”
اب تصویر دیکھیں.
ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں بندھا ہوا ہے۔ معاہدے کی شق فعال ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے نو دن مسلسل ایرانی حملے برداشت کیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے “سرخ لکیر” عبور کر لی ہے۔ پہلی مارچ کو امریکہ، بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور امارات کا مشترکہ بیان آیا: “ہم ان حملوں کے خلاف دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔”
دوسری طرف ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تہران سے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی بات سنجیدگی سے سنتا ہے۔
تیسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مزدور ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ الجزیرہ نے لکھا کہ معاشی طور پر خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے لیے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرتی ہیں۔
چوتھی طرف ملک کے اندر فرقہ وارانہ تناؤ ابل رہا ہے۔ پانچویں طرف افغانستان کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ پاکستانی سفیر ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے افغان تنازعے میں روسی ثالثی مانگی ہے۔
اور ان سب دباؤوں کے درمیان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے فون پر بات ہو رہی ہے۔
اب آج کے دن کی گہرائی سمجھیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے آج کینبرا میں کہا: “کوئی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں ہے اگر صورتحال اسی سمت جاتی رہی۔” انھوں نے کہا کہ نو ممالک میں چالیس سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ بحران انیس سو تہتر اور انیس سو اناسی کے مشترکہ تیل بحرانوں سے بدتر ہے جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل یومیہ کا نقصان ہوا تھا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنا “دو ہزار چھبیس کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر ناممکن ہے” سمندری مال برداری کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے زینیٹا کے ماہر پیٹر سینڈ نے سی این این کو بتایا۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل تیئسویں دن بڑھیں اور تین ڈالر چھیانوے سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئیں جو اگست دو ہزار بائیس کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔
ایران کی دفاعی کونسل نے آج دھمکی دی: اگر بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو پوری خلیج میں توانائی اور پانی کے ڈھانچے نشانہ بنائے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ “غیر متحارب” ممالک صرف ایران سے ہم آہنگی سے آبنائے سے گزر سکیں گے۔ ساحلوں یا جزائر پر حملے کی صورت میں پوری خلیج مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
ادھر اسرائیل تہران پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی وسیع پیمانے پر حملے ہوئے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا: “ہم بحرین، کویت اور سعودی عرب میں فوری طور پر مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام تعینات کر رہے ہیں۔”
بحرین میں آج شدید دھماکے اور فضائی خطرے کے سائرن سنے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی خلیج میں پہلی بار سائرن بجے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے کہا: “پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر جائیں۔”
اور اس سب کے بیچ میں یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا کہ ان کے پاس “ناقابل تردید ثبوت” ہیں کہ روس ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔
اب بتاؤ۔ اس شطرنج کی بساط پر پاکستان کہاں ہے؟
پاکستان ایک رسی پر چل رہا ہے۔ دائیں طرف سعودی عرب ہے جو کہتا ہے معاہدے پر عمل کرو۔ بائیں طرف ایران ہے جس کے ساتھ سرحد ہے اور جس کی شیعہ آبادی ملک کے اندر ہر جمعے کو سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ نیچے ایندھن کا بحران ہے جو معیشت کی ریڑھ توڑ سکتا ہے۔ اوپر ٹرمپ ہے جو ایک دن مہلت دیتا ہے دوسرے دن معاہدے کی بات کرتا ہے۔
اس سب کے درمیان عاصم منیر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تینوں فریقوں کا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ ٹرمپ اسے “اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہتا ہے۔ سعودی ولی عہد اس سے ذاتی طور پر ملتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ اس کے ملک کی بات سنتا ہے۔ یہ تینوں کانوں تک بیک وقت رسائی ہی اصل طاقت ہے۔
لیکن خطرے اتنے ہی بڑے ہیں۔
اگر خلیجی تعاون کونسل نے اجتماعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر باہمی دفاعی معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کا دباؤ آئے گا۔ سعودی عرب اور امارات نے “سرخ لکیر” کی بات کی ہے۔ تجزیہ نگار رضا رانا نے الجزیرہ کو بتایا: “ایران کا بنیادی خطرہ فضائی ہے، ڈرون اور میزائل۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان مدد کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہو گا کہ پاکستان جنگ کا فریق بن جائے۔ اور یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔”
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے: پاکستان ایران کے خلاف کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن واضح کرنا اور حقیقت میں نہ لینا دو الگ باتیں ہیں۔ جب دباؤ بڑھتا ہے تو واضح لائنیں دھندلی ہو جاتی ہیں۔
آج کا دن اہم ہے۔ چوبیس دن کی بمباری کے بعد پہلی بار ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پانچ دن کی مہلت۔ چھوٹی سی۔ مگر کھلی ہے۔
ٹرمپ نے سی این این کو بتایا: “آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔” کہا کہ وہ آبنائے پر مشترکہ امریکی ایرانی کنٹرول دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تجویز اتنی حیران کن ہے کہ کسی نے سنجیدگی سے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن ٹرمپ نے کہی ہے۔
اصل سوال یہ ہے: کیا یہ پانچ دن کافی ہیں؟
ایران کا لہجہ دیکھو تو نہیں لگتا۔ قالیباف نے واضح کر دیا ہے۔ دفاعی کونسل نے بارودی سرنگوں کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیل تہران پر بمباری بند نہیں کر رہا۔ خلیجی ممالک جنھوں نے جنگ کی مخالفت کی تھی اب کہہ رہے ہیں کہ جنگ بندی سے پہلے ایرانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ضروری ہے۔
مگر ایک فون ہے جو راولپنڈی سے واشنگٹن گیا ہے۔
اور ایک ملک ہے جو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ شنید ہے کہ امریکی نائب صدر اسلام آباد آکر مزاکرات میں شامل ہوگا.
آج دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور تل ابیب پر ہیں۔ مگر فون راولپنڈی سے آیا ہے۔ پاکستان ہیز پنچڈ وے ابو اٹس ویٹ.
پنڈی والے افغانستان والے جوئے کے بعد شاید پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیل رہے ہیں. ٹرمپ اور ایران اور عربوں کے درمیان پڑنا شیر پر سواری کے مترادف ہے. اقوام متحدہ عضو معطل بن چکی ہے. غزہ پیس بورڈ کا پلیٹ فارم استعمال ہو سکتا ہے. تاہم زرا سا توازن درہم برہم ہوا تو تو کچھ بڑوں کے سر لڑھک سکتے ہیں. اللہ کرے پاکستان اس میں سرخرو ٹھہرے.
اگلے پانچ دن بتائیں گے کہ یہ فون تاریخ بدلتا ہے یا تاریخ کا حاشیہ بن کر رہ جاتا ہے۔


