جنگ کسی بھی حال، کسی بھی وجہ یا کسی نظریے کے تحت اچھی نہیں ہو سکتی۔ چند طالع آزما ؤں کی بےلگام خواہشات اور حقیقی یا ورچوئل سلطنت توسیع کرنے کے عزائم کے پیچھے مرنے والے عام لوگ کھنڈر عمارات، دل کو دھچکہ لگتا ہے دیکھ کر۔ خیر حالیہ مہم جوئی پر سوشل میڈیا پر الگ منظرہی دیکھنے کو ملا۔ میزائل ٹیکنالوجی اور راکٹ سائنس کو یاروں نے سماجی اورمذہبی مباحث کی طرح کا بنا دیا ہے اس کے باوجود، کہ یہ ایک تخصیصی /سپیشلائزڈ شعبہ ہے جسے سمجھنے کے لیے بنیادی سائنسی اصطلاحات کے علاوہ تکنیکی پس منظردرکار ہے۔
پرانی جیمز بانڈ اور نئی ٹام کروز کی فلمیں دیکھنے والےانگریزی تراجم کر کے دفاعی تجزیہ نگاری کر رہےہیں، ایک کی ابھی ویڈیو دیکھی، Lockheed Martin کو head / “سر” کی طرز پر بول رہے، اکثر احباب THAAD کو تھاڈ لکھ رہے، لاک ہیڈ مارٹن کو لاکی ای ی ی ڈ کہہ لیں تو زیادہ بہتر ہے، ایسے ہی باوجود دو ‘اے’ کے، THAAD – تھاڈ نہیں تھیڈ پڑھا جاتا ہے—تھےڈ۔ یہ ایک پیچیدہ اینٹی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام ہے جس کی ایک بیٹری میں متعدد لانچر، انٹرسیپٹر میزائل، ریڈار اور فائر کنٹرول اسٹیشن شامل ہوتے ہیں۔
ایک عظیم دفاعی تجزیہ نگار نے تھیڈ کی بیٹری کو ٹام کروز کی مشن امپاسبل کی طرح کی کوئی نیوکلئر بیٹری سمجھ لیا۔۔حالانکہ یہ کوئی پرزہ یا گاڑی والی بیٹری نہیں، بلکہ ایک یونٹ کہہ لیں، یوں سمجھیے کہ ایک بیٹری میں نصف درجن لانچر، جن میں سے ہر ایک کے پاس آٹھ انٹرسپٹر میزائل ہوتے ہیں، ریڈار، فائر کنٹرول اسٹیشن اور سو کے قریب عملہ ہوتا ہے۔ ویسے عمومی معلومات کے لیے کہتا چلوں کہ تھیڈ سے ہٹ کر بھی کسی انٹی بیلسٹک نظام کے بنیادی یہی چار اجزا ہوتے ہیں؛ ۱-ریڈار جو نشاندہی ، ہدف کے حصول، ٹریکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
۲- فائر کنٹرول جو ریڈار سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کرتا ہے اور ہدف تباہ کرنے کی حکمت عملی تیار کرتا ہے۔
۳- لانچر جو انٹرسپٹر میزائل فائر کرتا ہے۔
۴-انٹر سیپٹر میزائل جن میں وار ہیڈ یا Hit-to-Kill vehicle نصب ہوتی ہے جو میزائل روک کر تباہ کرتی ہے۔
ایک حضرت نے لکھا ہوا کہ یہ انٹرسیپٹر فضا میں نیوکلئر کو بھی تباہ کر دیتے ہیں، حالانکہ تھیڈ سمیت بہت سے دیگر سسٹم بنا مہلک مواد یا وار ہیڈ کے بغیر انٹرسپٹر رکھتے ہیں، یہ Kinetic energy کا سہارا لے کرٹکراؤ سے میزائل تباہ کرتے ہیں۔
اسی طرح AN/Tpy2 کی پوسٹ دیکھی جہاں انہیں یہی سمجھ نہیں کہ AN/Tpy2 ، تھیڈ کی بیٹری کا حصہ ہے اور یہ ریڈار ہیں جن کا کام صرف انٹی بیلسٹک میزائل کی ڈیٹیکشن ہے، یہ حملہ کرنے کا نہیں بلکہ انٹی بیلسٹک میزائل سے دفاع کا نظام ہے؛ امریکی اڈے یقینا خلیجی ممالک میں موجود ہیں جن کے وہ خود ذمہ دار ہیں مگر ان کے علاوہ بھی قطر، امارات اور سعودیہ اپنے ‘ذاتی’ تھیڈ کے نظام رکھتے ہیں جن کی ڈپلائمنٹ، استعمال اور ذمہ دار وہ خود ہیں، مینٹیننس اور سوفٹ وئر سپورٹ امریکی کمپنیاں کرتی ہیں۔مگر استعمال اپنا اپنا۔
امارات کے پاس دو آپریشنل ہیں انہی میں سے ایک AN/Tpy2 ریڈار ایران کے حملہ میں شہید ہوا۔ اسی طرح جو احباب پاکستانی فوج کے سعودیہ کا “دفاع “کرنے پر لکھ رہے، پاکستانی فوج کے اپنے پاس تھیڈ جیسا کوئی نظام نہیں، ممکنات میں صرف اتنا ہو سکتا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کر دے، مگر دفاع کی حد تک تو میرے خیال سے ایسی کوئی مہارت موجود نہیں بلکہ سعودیہ کے اپنے پاس بیلسٹک میزائلوں کی حد تک پاکستان سے بہتر نظام موجود ہے۔ سعودیہ کے پاس امارات سے چار گنا زیادہ تھیڈ ہیں، جو کہ ذاتی ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل امریکی فوج کے یعنی امدادی تھیڈ استعمال کرتا ہے، سعودیہ، قطر اور امارات جبکہ خریدار ہیں۔
تصویر اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹوپی کرائی نہیں جا رہی بلکہ ٹوپی پہن کر بات ہو رہی ہے – اتفاقا یہی شعبہ و ذریعہ معاش ہے، بدقسمتی سے conflict of interest کے باعث عمومی معلومات جو کہ پبلک ڈومین میں موجود ہیں، سے ہٹ کر کچھ کہنے کا مجاز نہیں مگرایسی بنیادی اغلاط کی نشاندہی یا درستی ضروری ہے۔ دعا ہے یہ ختم ہو، نہ ہوئی تو پھر ایرانی میزائل ٹیکنالوجی اور اسرائیلی دفاعی نظام پرشاید لکھنے کی کوشش کروں۔ ویسے تو ان کی ورڈز پر پوسٹ لکھنا ہی بیکار ہے، نہ کہیں پہنچ سکتی ہیں۔


