تزویراتی گہرائی/ڈاکٹر اظہر وحید

مبادا اِس عنوان سے قارئین یہ سمجھیں کہ روئے سخن موجودہ عالمگیرزمینی شورش کی طرف ہے…. لیکن ایسا نہیں! قارئینِ کرام !یہاں رو¿ئے خیال ا±س زمین ِ وجود کی طرف ہے، جہاں ہمہ حال ہم حالتِ جنگ میں …. جہاں خیرو شر کی ایک عظیم کشمکش برپا ہے۔
احبابِ ذی خیال! خارج میں علامات ہوتی ہیں اور باطن میں حقائق ہوتے ہیں۔ لازم ہے کہ ہم ظاہر میں نظر آنے والی علامات کا مطالعہ کریں، نشانیوں کی تلاوت کریں اور پھر انہیں اپنے احوالِ باطن پر منطبق کریں۔اسی جستجوئے فکر کا نام تفکر ہے۔ تدبر ، تفکر کے بعد کی داستان ہے…. یہ اصلاح کی تدبیر ہے …. یعنی اصلاحِ افکار سے اصلاحِ اعمال تک پہنچنے کی ایک پ±رحکمت تدبیر!
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول ا±فقِ شعور پر طلوع ہو رہا ہے، مفہوم جس کا یوں ہے کہ ہمارے حواسِ خمسہ پر شریعت کو نافذ ہونا چاہیے۔ دین صرف مجموعہ افکار و اذکار ہی نہیں —ایک ضابطہِ حیات بھی ہے۔ ذاتی اور اجتماعی زندگی کا ہر ضابطہ اس سے ماخوذ ہونا چاہیے۔ دین اگر وجود پر نافذ نہ ہو سکے تو یہ محض ایک فلسفہ یا علم الکلام کی بحث بن جاتی ہے۔ فلسفیانہ بحثوں اور علم الکلام کی پیچیدگیوں کی کوئی حد نہیں۔ یہ مکالمے ، یہ مجادلے اور مناظرے ایک ذہنی ورزش اور ایک فکری نشے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ قرآن کریم میں جہاں بھی ایمان لانے کا حکم ہے، وہاں ساتھ ہی عملِ صالح کا بھی حکم بھی موجود ہے۔ عملِ صالح گویا ایمانِ کامل ہونے کی علامت ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ ہے کہ جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو ا±س وقت وہ حالتِ ایمان میں نہیں ہوتا۔ ایمان او رعملِ صالح کا تعلق گویا روح اور جسم کا ہے۔ اگر خیال ایمان سے آراستہ ہوگا تو وجود بھی عمل سے پیراستہ ہوگا …. لیکن یہاں ایک نکتہ قابلِ غور ہے۔ یہ کلیہ سائنسی اور حسابی کتابی نہیں۔ عین ممکن ہے، ایک بندہِ مومن کسی کمزور عمل میں مبتلا پایا جائے۔ممکن ہے، وہ ابھی بننے کے عمل میں ہو۔ انسان تمام عمر بنتا سنورتا رہتا ہے۔ دلہن بھی جب تک پوری طرح بن سنور نہ لے، ا±س کی رونمائی نہیں کی جاتی۔ یہاں ایمان اور ا±س کے متناسب عمل کا حساب اور احتساب صرف اپنے بارے میں ہے، دوسروں کے بارے میں نہیں۔ لازم ہے کہ ہم ایک مسلمان کو بنتی سنورتی دلہن کی طرح تصور کریں، کہ جب اسے لحد کی سیج پر ڈالا جائے تو اس کا بناو¿ سنگھار مکمل ہو چکا ہواور وہ فرشتوں کی اس آواز کی
منتظر ہو…. “اچھا اب تم دلہن کی طرح آرام سے سوجاو¿”۔حدیثِ مبارکہ ہے کہ جب ایک مومن انسان قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے صحیح جوابات دے دیتا ہے، تو فرشتے اس سے کہتے ہیں: “اچھا اب تم دلہن کی طرح آرام سے سوجاو¿”۔
ہمارے اس بشری وجود پر ایمان اور کفر کی جنگ جاری ہے۔ جب تک کسی ایک لشکر کو فتح حاصل نہیں ہو جاتی، یہ جنگ جاری رہتی ہے۔ کبھی ایمانی لشکر، کفر کے دستوں کو پیچھے دھکیل دیتا ہے، اور کبھی لشکرِایمان اپنے سرِ لشکر سے غافل ہو جاتا ہے اور طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں مغلوب ہو جاتا ہے۔ پھر کوئی مہدی نمودار ہوتا ہے اور اِس پاک زمین کو ناپاک اَفکار و اَعمال سے پاک کر دیتا ہے…. فتح کا جھنڈا لہرا دیتا ہے…. ہم مہدی کے منتظر ہیں۔ ہم سو بار بھی شکست کھا جائیں تو بھی اپنے مہدی کے منتظر رہتے ہیں…. اِس کی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے جو معیار درکار ہے، وہ توبہ ہے…. سچے دل سے توبہ…. اور ہم نااہل ہونے کے باوجود بہرطور توبہ کے اہل ہیں۔
ہمارا وجود ایک وقت میں دار الایمان ہوتاہے یا پھر دارالکفر۔ حکم ہے کہ دارالایمان میں قیام کیا جائے اور دارالکفر میں مستقل قیام سے اعراض کیا جائے…. اگر بااَمرِ مجبوری دارلکفر میں جانا پڑے تو وہاں سے جلد از جلد واپسی کا اہتمام کیا جائے۔ از ر±و¿ئے حدیث، مستقل قیام صرف دارالایمان میں رَوا ہے۔ ایمان کا لازمہ اطاعت و سعادت ہے ، جس کا نتیجہ عملِ صالح ہے۔ کفر …. بغاوت اور شقاوت سے عبارت ہے…. اور یہ فسق و فجور پر منتج ہوتا ہے۔ اقبالؒ کا معرکہِ روح و بدن بھی یہی ہے۔
اِس دَورِ مہلت میں میدانِ بدن میںبرپا معرکہ ِ خیر و شر میں ہمیں ایمانی لشکر کو بتدریج آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اعمالِ صالح پر قیام دراصل وہ چھوٹے چھوٹے معرکے ہیں جو ہمارے جسمانی تقاضوں کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ ہمارے حواسِ خمسہ کے راڈار کو درست سمت پر قائم کرتے ہیں۔ اعمالِ صالح ہمارے وجود میں برپا اِس تزویراتی کشمش میں ہمیں ایک جنگی گہرائی Strategic depth دیتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی سے ہمارے وجود پر خیر کی حکمرانی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک دانا آدمی اس جنگ میںاپنے مورچے پر مستعد رہتا ہے۔ وہ پہریداری کے فرض سے غافل نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ریاضت و عبادت کا مورچہ نہیں چھوڑتا۔ مورچہ چھوڑ دینا گویا دشمن قوتوں کو دعوت دینا ہے۔ دعوتِ گناہ کی حقیقت یہی ہے۔
شریعت ِ حقہ میں بتائے گئے فرائض و نوافل پر عمل درآمد درحقیقت ہمارے پاس اپنے وجود پر تصرف حاصل کرنے کی ایک موثر جنگی تدبیر ہے۔ پہلے تصرف حاصل ہو گا، پھر فتح…. اور پھر فتح مبین!…. جو مردِ مجاہد اِس پ±ر حکمت تدبیر پر عمل پیرا ہوتا ہے، وہ دشمن کے ہاتھوں خوار ہونے سے بچ جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر حال یہ ہوتا ہے کہ ملک ہمارا، وجود ہمارا…. اور تصرف غیروں کا….دھماچوکڑی عدوّ مّبین کی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اپنے ہی وجود پر اپنے ایمانی نظریہ حیات کا نفاذ نہیں کر سکتے…. اپنے ملک میں اپنا ہی آئین نافذ نہیں کر سکتے۔ جب یہ مملکتِ وجود اور وجودِ مملکت غیروں کے قبضے میں ہوتا ہے توبس نام مسلمانوں کا ہوتا ہے اور کام غیرمسلموں سے ہوتے ہیں …. غیر مسلموں کے ہوتے ہیں۔ گویا ملک ہمارا اور پالیسی غیروں کی!!
جہاد باالنّفس کو جہادِ اکبر کہا گیا ہے۔ یہ کوئی فقیہانہ فتویٰ یا صوفیانہ قول نہیں…. بلکہ یہ قولِ رسولِ کریم ہے۔ سب سے زیادہ سچے انسان…. انسانِ کامل کا قول…. یہ قولِ صادق ہے…. قولِ صادق الوعد الامین! جہادِ اکبر کے کسی معیار پر پورا ا±تریں تو جہادِ اصغر میں ہماراوار بھی کار گر ہو۔ بیرونِ ملک جہادِ اصغر پر نکلنے سے پہلے ہم پر ایک اور جہاد بھی فرض ہے…. از روئے حدیث افضل ترین جہاد….یعنی دَرونِ خانہ جہاد …. جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کا جہاد!! اوّل خویش بعد درویش…. گویا جدو جہد سے لے کر جہاد تک…. ایک قابلِ عمل نزولی ترتیب سامنے آگئی۔ پہلے اپنے بدن پر جہاد ہے…. پیہم عمل کے ذریعے یہاں اِس قدر تزویراتی گہرائی حاصل کر لی جائے کہ صد فیصد اپنا تصرف قائم ہو جائے….کلمہ قائم ہو جائے۔ پھر اپنے ملک میں جہادہے…. جابر سلطان کے سامنے دوٹوک حق بات کہی جائے۔ اگر یہاں کسی قسم کی کمزوری، مداہنت اور تساہل سے کام لیا جاتا ہے تو ہم اپنے ہی ملک میں غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ جو قوم اندرونِ خانہ ہی آزاد نہ ہو، وہ بیرونِ خانہ آزادی سے محروم قوموں کے حق میں کس منہ سے آواز ا±ٹھائے گی۔ اپنے مملکتِ وجود اور پھر وجودِ مملکت میں آزادی حاصل کرنے کے بعد ہی ہم اِس کرّہِ اَرض میں برپا تزویراتی کشمکش میں کوئی مثبت اور تعمیری کر دار اَدا کر سکیں گے۔ تب ہی عملی طور پر ہم مو¿ثر طریقے سے دنیا کو بتا سکیں گے کہ حق اور باطل میں کیا فرق ہے…. حق میں سچ میں راحت ہے، سرمدی مسرت ہے۔باطل جھوٹ ہے …. اَزلی دشمن، عدو م±ّبین کا ایک جھوٹا وعدہ ہے…. عارضی خوشی کے عوض ایک اَبدی سرخوشی سے محروم کرنے کی طاغوتی تدبیر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں