ایران کے خلاف دو ملکی حربی اتحاد میں ڈھلتی امریکا و اسرائیل کی پرانی قربتوں کی ایک تاریخ رہی ہے۔ ان دونوں ممالک کے بیچ کئی مشترکہ اشتراک میں سے سب سے نمایاں مسلمانوں کے خلاف یہودی و نصرانی اختلافی نظریات کار فرما رہے ہیں۔ یہی وہ مذہبی امتزاج تھا، جس نے دونوں ممالک کو دیگر یوروپی ممالک اور اتحادی ریاستوں کی ہمراہی میں بیشتر اسلامی ممالک کے خلاف مختلف ادوار میں کشاکش کی بنیاد رکھی، جو خطرناک جنگی کشمکش کی شکل اختیار کرتی چلی گئی۔ ماضی قریب و بعید میں عراق، شام، لیبیا کو کبھی ایک اور کبھی دوسرے جواز پر براہ راست نشانہ بنایا گیا اور کبھی ایران عراق اور کویت و ایران کے درمیان معرکہ آرائی کی کوششیں کی گئیں۔ ایران کے خلاف حالیہ جنگ اور گزشتہ سال جون میں ایران پر ہونے والی اسرائیل و امریکا کی بمباری اسی دشمنی کا تسلسل دکھائی دیتی ہیں۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے اکثر خلیجی ممالک پر تسلسل کے ساتھ حملے کئے جارہے ہیں۔ تاکہ امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے شدید حملوں کا جواب خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملوں سے دیا جا سکے۔
اس جنگ میں فریقین کی طرف سے بھاری ہتھیاروں، طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کا بے محابہ استعمال ہوا ہے، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی کارپٹ بمباری نے نا صرف ایران کے انفراسٹرکچرز، اہم عمارات، اور ا سٹریٹجک تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں سینکڑوں انسانی جانوں کو بھی سخت دھچکا پہنچا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جنگ میں ہونے والے انسانی جانوں کے اتلاف کے باوجود ایران نے عزم و ہمت اور پامردی کے ساتھ اسرائیل پر بھی میزائلوں اور ڈرونز کی بارش برسائی ۔جسکی اسرائیل کو کم امید تھی۔ ایران براہ راست امریکہ کو نشانہ بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس لئے اس نے امریکی مفادات کونقصان پہنچانے کی غرض سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ اس صورتحال نے جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کو تقویت دی۔ اس سے ناصرف علاقے کا امن و امان تہ و بالا ہوا ہے بلکہ ایران کی جانب سے آبناۓ ہرمز کی بندش کے اعلان کی وجہ سے دنیا کے بیشترممالک کی معیشت، کاروبار، سرمایہ کاری پر بھی برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ چند دوسرے ممالک جن کا موجودہ تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ بھی متفکر و متوشش ہیں کیونکہ دونوں جانب سے طوالت اختیار کرتی عسکری محاذ آرائی، اور تیل کی پیداوار سے متعلق تنصیبات پر جانبین کی طرف سے ہونے وا لےحملوں سے تیل کی درآمدات اور برآمدات میں بڑھتے ہوۓ خلل کا منفی اثر دنیا کے بیشتر ممالک کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، انکی اسٹاک ایکسچینجز کی کارکردگی میں نمایاں گراوٹ آ رہی ہے جبکہ انرجی کے بحران کی وجہ سے انکی پیداواری صلاحیت اور ٹرانسپورٹ کا نظام انکے شہریوں کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ عام تاثر کے مطابق اپنے مطالبات منوانے کے حق میں ایران کے خلاف چھیڑی گئی حالیہ جنگ، جو سرعت کے ساتھ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ جنگ کئی اعتبار سے نا موزوں اور غیر ضروری قرار دی جا رہی ہے، کہ اسرائیل اور سپر پاور امریکا کے پاس انتہائی جدید حربی ٹیکنالوجی کی موجودگی، کثیر مالی وسائل اور بعض یورپی ممالک کی حمائت کے پیش نظر اکیلے ایران کے خلاف جبری جنگ کا آغاز کسی طور درست اور نا موزوں ہے۔ فریقین کا قوت و طاقت کے اعتبار سےآپس میں کوئی موازنہ نہ ہے۔ ایران کی کم مالی استعداد کو اسکی کمزوری سمجھ کر،ایران کو سزاوار ٹہرا یا جارہا ہے۔امریکا اوراسرائیل کی طرف سے ایران کو بموں، میزائلوں، طیاروں اور ڈرونز کا نشانہ بنانے کی کارروائی کا مقصد بظاہرایران کی دفاعی مزاحمت کو کمزور کرنا تھا۔ ایرانی رہبر اعلیٰ آئت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا کے بقول جان کی قربانی بھی ایران کے حوصلے پست کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ جس کا مقصد ایرانی عوام کی اپنی قیادت سے ہاتھ دھو بیٹھنے سے لوگوں میں اپنی حکومت کے خلاف جذبات پیدا ہونگے اور عوام کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائیگا۔ مگر نتیجہ توقعات کے بر عکس نکلا اور ایرانی عوام پہلے سے کہیں ذیادہ متحد و یک جان ہو گئے۔ اس سے پہلے فلسطین میں غزہ کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پراسرائیل کے ظالمانہ سلوک اور نفرت انگیزجارحیت کا بہیمانہ برتاؤ کرتا رہا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نہ غزمیں ستر ہزار سے زائد مرد، عورتیں اور بچے شہید کر دئیے گئے تھے۔ اور اسرائیل یہ سمجھتا تھا کہ اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اس غرور اور زعم نے مسلمانوں کے خلاف جنگی جنوں نے اسرائیل کو بے قابو کیا ہوا تھا۔ اسی تکبرمیں متلاء اسرائیل کی اعلیٰ قیادت، ایران کو منظر سے ہٹانے اورآسکی نیوکلئر سائٹس کو تتر بتر کرنے کی خوش گمانی کے ساتھ ایران پر چڑھ دوڑا۔
امریکا اور اسرائیل باہمی طور پرایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے جنون میں مبتلا تھے۔ گزشتہ سال جون میں بھی اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف ایران کی ایٹمی سائٹس کو تہس نہس کرنے کی کوشش کر چکا تھا۔ مگر وہ اب بھی اس خوف میں مبتلا تھے کہ ایران نے یورینیئم کی اتنی مقدارپیدا کر لی ہے جس سے وہ ایٹمی ہتھیار بنا کر ایٹمی طاقت بن سکتا ہے۔ امریکا کی بھی یہی مطالبہ تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم کر دے ورنہ نتائج بھگتنے کو تیار ہوجأۓ۔ دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ ایران میں رجیم چینج کی ضرورت ہے لہذا ان کی مذہبی قیادت آئت اللہ خمینائی کو ان کے عہدے سے دستبردار کر دیا جائے وگرنہ انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ یہ مطالبہ ہھی انتہائی نا معقول اور دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت کے مترادف تھا۔ چنانچہ امریکا نے اپنے مطالبے کو بلا تامل عملی جامہ پہنانے کے لئے شدت کے ساتھ ایران پہ چڑھائی کر دی اور پھر اپنی ضد کو پورا کرتے ہوۓ آئت اللہ خمینائی کی جان شدید بمباری کرتے ہوئے لے لی۔
ایران اگرچہ نسبتاً کمزور ملک ہے اور اسے گذشتہ چالیس پینتالیس سالوں سے اقتصادی و تجارتی مقاطعے کا سامنا تھا جس کی وجہ سے ایران مالی طور پر غیر مستحکم ملک دکھائی دے رہا تھا، مگر جب بات غیرت ملی اورحمیت کی ہو تو چیونٹی بھی ہاتھی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے لۓ تیار ہو جاتی ہے۔ چنانچہ عوامی جذبات و اتحاد نے اپنی حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ٹھامی اور ایرانی حکومت اور عوام اپنے محسن آئت اللہ خمینائی کی شہادت کے بعد بکھری نہیں بلکہ ببھر گئی اور پھر اس نے امریکہ و اسرائیل کا انتہائی جرات مندی سے مقابلہ کیا اور ان گنت شہادتوں اور تباہی کے باوجود ہار نہیں مانی۔
فی الوقت عالمی راۓ عامہ ماضی کے برعکس دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ کچھ مغربی ممالک اب بھی امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے حق میں اور مسلمانوں کے ساتھ ازلی دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جبکہ برادری کے کچھ حلقے اسرائیلی اور امریکی بہیمانہ کارروائیوں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال سے اخذ کی جانے والی راۓ کے مطابق مسلم ممالک باالخصوص مشرق وسطیٰ اورخلیجی ریاستوں کے درمیان آپس کے اختلافات پیدا کرکے خلیج کو مزید وسعت دی جائے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل و امریکا بمقابلہ ایران دونوں کو کثیر گزند پہنچ چکی ہے۔ ایک دوسری پر فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں۔ دونوں جانب سے اپنی فتح و کامیابی کے دعوے ہو رہے ہیں۔ کبھی میزائلوں اور بموں کی بارش ایران پر ہو رہی ہے اور کبھی ایران کی طرف سے اسرائیل اور امریکہ اہداف کو نشانہ بنا کر غلبے کا اعلان ہوتا ہے۔ ایران کی طرف سے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کوئت میں موجود امریکی اڈوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ کبھی ایک فریق کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے، کبھی دوسرے کا۔ متعلقہ مما لک کے فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس دوران صحیح خبروں کی تصدیق دشوار ہو رہی ہے۔ کچھ عرصے سے اسرائیل کے صدر نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبریں گردش کر رہی ہیں لیکن اسرائیل کی معمول کی مصروفیات میں ان کی تصاویر اور منظر سی غائب رہنے کی وجہ سے شکوک بڑھ رہے ہیں۔ ایران کے دوسرے رہبر مجتبیٰ کے زخمی ہونے اور روس میں انکے زیر علاج ہونے کی اطلاعات بھی خبروں کا حصہ بن رہی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سیکیوریٹی اور انتظامی امور کی اہم شخصیت علی لاریجانی کی ایک حملے میں جاں بحق ہونے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود عالمی سطح پر ایران کی نفسیاتی برتری کی بات کی جارہی ہے، جبکہ امریکی صدر کی طرف سے جنگ کی طوالت یا خاتمے کے ضمن میں بار بار بیانات کی تبدیلی پر گمان کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اگر مغلوب نہیں ہو رہے تو یہ سوچ کرپریشان ضرور ہیں کہ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں۔


