پاکستان کی سرزمین نے قیام کے فوراً بعد جس ادارے کو انسانی ہمدردی، ایثار اور خدمت کے ایک مستقل نشان کے طور پر جنم لیتے دیکھا، وہ ہلال احمر پاکستان ہے؛ ایک ایسا ادارہ جس کی بنیاد محض انتظامی ضرورت کے تحت نہیں رکھی گئی بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری کے شعور کے ساتھ رکھی گئی، جب محمد علی جناح نے 20 دسمبر 1947ء کو اس کی داغ بیل ڈال کر یہ پیغام دیا کہ ریاست کی اصل قوت اس کے کمزور ترین افراد کی حفاظت میں مضمر ہے۔ یہی ادارہ بعد ازاں عالمی انسانی تحریک یعنی International Red Cross and Red Crescent Movement کا حصہ بنا اور Geneva Conventions کے اصولوں کے تحت ایک غیر جانبدار اور آزادانہ انسانی خدمت کے نظام کی نمائندگی کرنے لگا۔ آج جب ہم اس ادارے کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ محض ایک تنظیم کی کارکردگی کا سوال نہیں رہتا بلکہ یہ اس قومی شعور کا امتحان بن جاتا ہے جس میں خدمت کو سیاست پر، اور انسانیت کو مفاد پر ترجیح دینی ہوتی ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہلال احمر پاکستان اپنی ساخت، وسعت اور رسائی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا رضاکارانہ انسانی نیٹ ورک ہے، جس کے صوبائی اور ضلعی ڈھانچے ملک کے دور افتادہ علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں، اور لاکھوں رضاکار اس کے بازو بن کر کام کرتے ہیں۔ مگر اداروں کی اصل جان ان کے ڈھانچوں میں نہیں بلکہ ان کی روح میں ہوتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ماضی کے بعض ادوار میں اس ادارے کو شدید آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انسانی خدمت کا یہ مقدس پلیٹ فارم سیاسی وابستگیوں کی نذر ہوتا دکھائی دیا، پیشہ ورانہ صلاحیت کی جگہ وفاداری کو معیار بنایا گیا، اور وہ افراد جنہیں میدانِ عمل کا تجربہ تھا، بتدریج کنارے لگا دیے گئے۔ اس طرزِ عمل نے نہ صرف ادارے کی داخلی کارکردگی کو متاثر کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر اس کے وقار اور اعتماد کو بھی مجروح کیا، یہاں تک کہ بعض مواقع پر امدادی سرگرمیاں تاخیر کا شکار ہوئیں اور وہ لوگ جو فوری مدد کے مستحق تھے، انتظار کی اذیت سے دوچار ہوئے۔
تاہم تاریخ کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ جب بھی کسی ادارے میں اصلاح کی حقیقی نیت پیدا ہوتی ہے تو اس کے آثار جلد نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جنوری 2025ء میں جب محتر مہ فرزانہ نائیک نے قومی چیئرپرسن کا منصب سنبھالا تو یہ محض ایک تقرری نہیں تھی بلکہ ایک نئے طرزِ فکر کا آغاز تھا۔ ایک ایسی قیادت جس نے پہلے بھی صوبائی سطح پر اپنی انتظامی صلاحیت، دیانت اور انسانی خدمت سے وابستگی کو ثابت کیا تھا، اب قومی سطح پر اسی وژن کو عملی شکل دینے کے لیے سامنے آئی۔ ان کی ذاتی دلچسپی، انسانی خدمات کے میدان میں گہرا تجربہ، اور ادارے کے بنیادی اصولوں سے وابستگی نے اس جمود کو توڑنا شروع کیا جو برسوں سے اس ادارے پر طاری تھا۔ پیشہ ور افراد کی واپسی، شفاف بھرتیوں کا آغاز، اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اعتماد کی بحالی جیسے اقدامات نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو بہتر کیا بلکہ اس کے عملی اثرات بھی میدان میں نظر آنے لگے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ International Federation of Red Cross and Red Crescent Societies اور International Committee of the Red Cross جیسے عالمی اداروں کے ساتھ روابط کی بحالی نے ہلال احمر پاکستان کو دوبارہ عالمی انسانی نظام کا ایک فعال اور معتبر حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترکی، قطر، ناروے اور جرمنی جیسے ممالک کی قومی سوسائٹیز کے ساتھ تعاون میں اضافہ اس امر کی علامت ہے کہ اعتماد بحال ہو رہا ہے، اور یہی اعتماد کسی بھی انسانی ادارے کے لیے سرمایۂ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس تمام تر پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موجودہ دور کے چیلنجز محض نیک نیتی سے حل نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے منظم حکمتِ عملی، واضح اختیارات، اور فوری فیصلوں کا ایک ایسا نظام درکار ہوتا ہے جو کاغذی کارروائی کے بوجھ تلے دب نہ جائے۔ خاص طور پر آفات کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں امداد کی فراہمی ایک ایسا معیار ہے جس پر پورا اترنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہلال احمر پاکستان فوری منظوری کے باقاعدہ ایمرجنسی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (Emergency SOPs) وضع کرے، جن کے تحت صوبائی اور ضلعی سطح پر محدود مالی اور انتظامی اختیارات پہلے سے تفویض ہوں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں مرکزی منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ اسی کے ساتھ ایک “ریپڈ رسپانس فنڈ” قائم کیا جائے جو 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر قابلِ استعمال ہو، اور جس کے اجراء کے لیے سادہ اور شفاف طریقہ کار مقرر ہو، تاکہ تاخیر کی وہ زنجیر ٹوٹ سکے جو اکثر بہترین نیت کو بھی غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔
اسی طرح ٹیموں کی فوری تعیناتی کے لیے ایک “پری-اپروول ڈیپلائمنٹ میکانزم” تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے تحت تربیت یافتہ عملہ اور رضاکار پہلے سے رجسٹرڈ، انشورڈ اور تیار حالت میں ہوں، اور کسی بھی آفت کی صورت میں انہیں چند گھنٹوں کے اندر میدان میں اتارا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ رضاکاروں کی تربیت کو رسمی کورسز تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مسلسل عمل بنایا جائے، جس میں عملی مشقیں، سمیولیشن ایکسرسائزز، اور مقامی سطح پر کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ پروگرامز شامل ہوں، تاکہ رضاکار محض جذبے سے نہیں بلکہ مہارت سے بھی لیس ہوں۔
اگر ہم اس تصویر کو مزید وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہلال احمر پاکستان محض روایتی طریقۂ کار پر اکتفا نہ کرے بلکہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے نظام کا حصہ بنائے۔ آج کی دنیا میں جہاں رفتار ہی مؤثریت کی اصل بنیاد بن چکی ہے، وہاں ایک مربوط ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم ناگزیر حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایسا نظام جس میں متاثرین کی بروقت رجسٹریشن، امداد کی شفاف تقسیم، اور وسائل کی ہمہ وقت نگرانی ممکن ہو، نہ صرف داخلی نظم و ضبط کو بہتر بناتا ہے بلکہ ڈونرز کے اعتماد کو بھی ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے، کیونکہ اعتماد اب محض دعووں سے نہیں بلکہ ڈیٹا اور شفافیت سے قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) کا استعمال، ڈرون کے ذریعے نقصانات کا فوری تخمینہ، اور موبائل ایپلیکیشنز کے ذریعے فیلڈ سے براہِ راست معلومات کی ترسیل وہ ذرائع ہیں جو فیصلہ سازی کو محض تیز نہیں بلکہ زیادہ درست بھی بناتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو anticipatory action کے نظام کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو پھر یہ صرف ردِعمل کا آلہ نہیں رہتے بلکہ پیشگی حکمتِ عملی کا ایک مؤثر ہتھیار بن جاتے ہیں، جہاں خطرے کے آثار ظاہر ہوتے ہی ڈیٹا خود فیصلہ سازی کو متحرک کر دیتا ہے۔
اگر ہم اس تصویر کو مزید وسیع تناظر میں دیکھیں تو موسمیاتی تبدیلی اب کوئی آئندہ کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت بن چکی ہے، اور پاکستان جیسے ملک میں اس کے اثرات شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں ہلال احمر پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو محض ردِعمل تک محدود رکھنے کے بجائے موسمیاتی موافقت (climate adaptation) اور خطرے میں کمی (risk reduction) کے میدان میں ایک فعال کردار ادا کرے۔ اس مقصد کے لیے عالمی ماحولیاتی فنڈز، جیسے کہ گرین کلائمیٹ فنڈ اور دیگر کثیرالجہتی مالیاتی ذرائع تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جا سکتا ہے، جو پروجیکٹ ڈویلپمنٹ، پروپوزل رائٹنگ، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق رپورٹنگ کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ نہ صرف ادارے کے مالی وسائل میں اضافہ کرے گا بلکہ اسے ایک جدید اور مستقبل شناس انسانی ادارے کے طور پر بھی متعارف کرائے گا۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی anticipatory action یعنی پیشگی اقدام کا تصور ہے، جسے اب عالمی انسانی نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آفت کے آنے کا انتظار کرنے کے بجائے سائنسی پیش گوئیوں، موسمیاتی ڈیٹا، اور خطرے کے اشاریوں کی بنیاد پر پہلے ہی اقدامات کر لیے جائیں، جیسے کہ نقد امداد کی پیشگی فراہمی، محفوظ مقامات کی تیاری، یا حساس آبادی کی بروقت منتقلی۔ ہلال احمر پاکستان اس میدان میں ایک قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ واضح ٹرگرز (triggers)، معیاری پروٹوکولز، اور خودکار فنڈ ریلیز میکانزم تشکیل دے، تاکہ جیسے ہی خطرے کی مخصوص سطح عبور ہو، امدادی کارروائیاں ازخود شروع ہو جائیں۔ اس کے لیے International Federation of Red Cross and Red Crescent Societies کے Forecast-based Financing ماڈلز سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، اور مقامی سطح پر محکمہ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ قریبی ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے۔
وسائل کے حوالے سے اگر سنجیدہ پیش رفت مطلوب ہے تو مقامی کارپوریٹ سیکٹر کو محض عطیہ دہندہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شامل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے “کارپوریٹ ہیومنٹیرین الائنس” جیسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جا سکتا ہے، جہاں بڑے صنعتی و مالیاتی ادارے ہلال احمر کے ساتھ طویل المدتی منصوبوں میں شریک ہوں، اور اپنی تکنیکی مہارت، لاجسٹک صلاحیت اور مالی وسائل کو ایک منظم انداز میں بروئے کار لائیں۔ مختصر مدت میں فنڈنگ کے ذریعے ایمرجنسی رسپانس کو تقویت دی جا سکتی ہے، جبکہ طویل مدت میں مشترکہ انڈومنٹ فنڈز، ہیلتھ سروسز، اور ٹریننگ اکیڈمیز قائم کر کے ایک پائیدار مالی ماڈل تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی وقت کا تقاضا ہے کہ ہلال احمر پاکستان اپنے موجودہ اثاثوں کو ازسرِنو منظم کرے۔ بلڈ بینکس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ریجنل ہیلتھ نیٹ ورک میں تبدیل کیا جائے، فرسٹ ایڈ ٹریننگ کو تعلیمی اداروں کے نصاب کا حصہ بنانے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ کاوش کی جائے، اور ایمبولینس و لاجسٹکس سسٹم کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت وسعت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، ہیٹ ویوز، اور وبائی امراض جیسے نئے خطرات کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں جو تیزی سے ردعمل دینے کے ساتھ ساتھ پیشگی تیاری اور کمیونٹی آگاہی کو بھی یقینی بنائیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہلال احمر پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ماضی کی کمزوریوں کا بوجھ ابھی مکمل طور پر اترا نہیں، مگر مستقبل کی امیدیں پوری قوت کے ساتھ ابھر رہی ہیں۔ محترمہ فرزانہ نائیک کی قیادت میں شروع ہونے والا یہ اصلاحی سفر اگر اسی دیانت، تسلسل اور حکمت کے ساتھ جاری رہا، اور اگر فوری منظوری کے نظام، تیز فنڈنگ، مؤثر ڈیپلائمنٹ، ڈیجیٹل تبدیلی، موسمیاتی حکمتِ عملی، اور anticipatory action اور کیش بیسڈ اسسٹنس جیسے جدید تصورات کو عملی شکل دی گئی، تو بعید نہیں کہ یہ ادارہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں انسانی خدمت کا ایک مثالی نمونہ بن کر ابھرے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع کو ایک عارضی بہتری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک مستقل اصلاح کی بنیاد بنایا جائے، کیونکہ ادارے جب بروقت فیصلہ کرنے لگیں، وسائل جب بروقت پہنچنے لگیں، اور حکمت جب دوراندیشی سے جڑ جائے تو پھر خدمت محض ایک ردِعمل نہیں رہتی بلکہ ایک پیشگی قوت بن جاتی ہے جو آفات کے آنے سے پہلے ہی انسانیت کی حفاظت کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔
کالم نگار سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہلال احمر پاکستان ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک اور دیگر بین الاقوامی انسانی اداروں کے ساتھ بطور مشیر کام کیا ہے۔ ان کے مضامین انسانی خدمات کے نظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی پالیسی پر مرکوز ہیں۔


