جنگ کے سائے اور پاکستان کی خاموش سفارت کاری/ماریہ بتول

خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی—کبھی کبھی یہی خاموشی سب سے طاقتور سفارت کاری بن جاتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اور عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت صف بندیاں کر رہی ہیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کی پالیسی ایک خاموش مگر گہری حکمت عملی کی عکاس نظر آتی ہے۔

پاکستان نے ماضی میں ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی بات کی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں اس نے کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے محتاط اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ بظاہر یہ خاموشی کچھ حلقوں کو کمزوری محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں یہی ایک دانشمندانہ سفارتی حکمت عملی ہے۔ کیونکہ کسی ایک فریق کی کھلی حمایت نہ صرف علاقائی تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کو ایک بڑے تنازعے میں بھی دھکیل سکتی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ “توازن” کے اصول پر قائم رہی ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات ہیں، تو دوسری جانب خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی اور سفارتی روابط بھی انتہائی اہم ہیں۔ اسی لیے پاکستان کسی محاذ کا حصہ بننے کے بجائے پسِ پردہ کردار ادا کرنے کو ترجیح دے رہا ہے—ایک ایسا کردار جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ سفارتی میزوں پر بھی ان کے فیصلے ہوتے ہیں۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے اس کا ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ کسی بھی جذباتی یا جلد بازی میں کیے گئے فیصلے کے اثرات نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

مزید برآں، پاکستان اندرونی چیلنجز—معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات—سے بھی نبرد آزما ہے، جو اسے کسی بڑے بین الاقوامی تنازعے میں براہِ راست مداخلت سے روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان “خاموش سفارت کاری” کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

یہ خاموشی دراصل ایک پیغام بھی ہے—ایک ایسا پیغام کہ پاکستان جنگ کا حصہ نہیں بلکہ امن کا داعی ہے۔ وہ خطے میں استحکام چاہتا ہے، نہ کہ مزید تباہی۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو اسے بھی پاکستان کی اس پالیسی کو سمجھنا ہوگا، جہاں شور کم اور حکمت زیادہ ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کبھی کبھی سب سے مؤثر آواز وہ ہوتی ہے جو سنائی نہیں دیتی۔ پاکستان کی خاموش سفارت کاری بھی اسی اصول کی عکاس ہے—جہاں الفاظ کم اور اثر زیادہ ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں