یہ ایک عجیب سا تضاد ہے۔۔۔ ایک ایسا تضاد جو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ سوچ سے محسوس ہوتا ہے۔ سڑکوں پر وہی ہجوم ہے، بازاروں میں وہی رونق ہے، ریسٹورنٹس میں وہی گہماگہمی ہے، پارکس میں بچوں کی ہنسی اب بھی گونج رہی ہے، سینما گھروں میں نئی فلموں کے پوسٹر جگمگا رہے ہیں مگر انہی شہروں میں کہیں ایک خاموشی بھی ہے۔۔۔ایک ایسی خاموشی جو سب سے زیادہ خطرناک ہے۔۔۔درسگاہوں کی خاموشی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ سینما کیوں کھلے ہیں یا پارک کیوں آباد ہیں۔۔۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ چل سکتا ہے تو صرف تعلیم ہی کیوں روکی جاتی ہے؟ کیا واقعی ہم پٹرول بچا رہے ہیں یا ہم اپنے آنے والے کل کو آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں؟ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی کمزوریوں کا شکار ہے مگر اس کے باوجود جو تھوڑی بہت روشنی باقی تھی وہ بھی ہم خود بجھا دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔ جب بھی کوئی بحران آتا ہے چاہے وہ معاشی ہو یا انتظامی۔۔۔ سب سے پہلے جس دروازے پر تالا لگتا ہے وہ سکول کا ہوتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک قوم کی ترجیحات بے نقاب ہو جاتی ہیں۔
یہاں ایک تلخ مگر سچی حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قلت اور بچت کے بہانے سکولوں کو بند کرنا نہ صرف ایک غیر منطقی فیصلہ محسوس ہوتا ہے بلکہ یہ قوم کے مستقبل کے ساتھ ایک خطرناک کھیل بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سکول بند کرنے سے کوئی خاطر خواہ پیٹرول بچتا ہے؟ طلباء اور اساتذہ کی آمدورفت سے ہونے والی کھپت قومی سطح پر نہایت معمولی ہے جبکہ اصل مسائل کہیں اور جڑے ہوئے ہیں۔۔۔ناقص پالیسیاں، اسمگلنگ، توانائی بحران اور ٹرانسپورٹ کے بگڑے ہوئے ڈھانچے۔ اس کے برعکس تعلیم وہ واحد سرمایہ ہے جو قوموں کو سنوارتا ہے۔ جب لاکھوں بچوں کی تعلیم کو وقتی فیصلوں کی نذر کر دیا جاتا ہے تو اس کا اثر صرف آج پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔ دیہی علاقوں اور غریب طبقات کے بچے تو ویسے ہی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں ایسے میں سکول بند کرنا ان کے مستقبل پر آخری ضرب ثابت ہوتا ہے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم مسئلے کی جڑ تک جانے کے بجائے آسان راستہ اختیار کر رہے ہیں اور یہ آسانی دراصل ایک بڑے نقصان کی شکل اختیار کر رہی ہے۔
سکول محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک مکمل دنیا ہوتا ہے جہاں صرف کتابیں نہیں بلکہ کردار تشکیل پاتے ہیں، رویے سنورتے ہیں اور سوچ کو سمت ملتی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں بچہ پہلی بار سماج کا حصہ بنتا ہے، جہاں وہ برداشت، نظم و ضبط اور تعلقات کی اہمیت سیکھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں رٹا سسٹم موجود ہے اور نصاب میں کئی خامیاں ہیں مگر اس کا حل یہ نہیں کہ ہم پورے نظام کو ہی بند کر دیں۔ اگر ایک عمارت کمزور ہے تو اسے مضبوط کیا جاتا ہے، نہ کہ اسے گرا دیا جاتا ہے۔ ہم نے سنجیدہ حل کے بجائے سہل راستہ اپنایا ہے۔۔۔سب روک دو، سب بند کر دو، کل پر چھوڑ دو۔
یہی رویہ رفتہ رفتہ ایک اور خطرناک رجحان کو جنم دے رہا ہے اور شاید یہی اس پورے مسئلے کا سب سے افسوسناک پہلو ہے کہ اب بچے خود بھی اس غیر سنجیدہ ماحول کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کا بچہ سکول کی بندش کو ایک مجبوری نہیں بلکہ ایک موقع سمجھنے لگا ہے۔ جیسے ہی کسی ممکنہ تعطیل کی خبر آتی ہے، سوشل میڈیا پر جعلی نوٹیفکیشنز گردش کرنے لگتے ہیں اور کچھ شرپسند عناصر جان بوجھ کر ایسی افواہیں پھیلا کر اس سوچ کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب اصل حکومتی اعلان آتا ہے کہ سکول کھلے رہیں گے، تو وہی بچے جو اس قوم کا مستقبل ہیں، خوشی کے بجائے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ رویہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوا بلکہ ہماری مسلسل ترجیحی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ جب بچے بار بار دیکھتے ہیں کہ تعلیم سب سے پہلے قربان کی جاتی ہے تو ان کے ذہن میں بھی یہی تصور بیٹھ جاتا ہے کہ یہ کوئی اہم چیز نہیں۔ گھروں میں بھی اکثر تعلیم کو بوجھ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچے علم کو شوق کے بجائے مجبوری سمجھنے لگتے ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم گورنمنٹ ہائی سکول روپوال میں پڑھتے تھے تو ہمارے استادِ محترم اور ہیڈ ماسٹر سید ابرار حسین شاہ صاحب کا ایک منفرد انداز تھا۔ جب وہ بچوں کا کام چیک کرتے اور کوئی طالب علم بہانہ بناتا کہ “استاد جی، میری کاپی گھر رہ گئی ہے”، تو وہ مسکرا کر کہتے، “ایسی بات نہیں ہے، اگر تم نے سبق لکھا ہوتا تو کاپی خود کہتی کہ مجھے بستے میں ڈال کر سکول لے چلو”۔ یہ جملہ بظاہر ایک ہلکی سی نصیحت تھی مگر درحقیقت ایک گہرا سبق اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ اگر سیکھنے کا شوق ہو تو نہ کاپی بھولتی ہے، نہ راستہ رکتا ہے اور نہ ہی سکول بوجھ لگتا ہے۔ مگر جب اندر سے دلچسپی ختم ہو جائے تو ہر چیز ایک بہانہ بن جاتی ہے۔۔۔کبھی کاپی، کبھی موسم اور آج کے دور میں پٹرول۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں ہمیں اپنی اجتماعی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بچوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ سکول جانا سزا نہیں بلکہ ایک موقع ہے، ایک ایسا موقع جو ان کی زندگی کی سمت بدل سکتا ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرے کو مل کر یہ بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا کہ تعطیل خوشی کی نہیں بلکہ نقصان کی علامت ہے اور سکول کا کھلنا کسی بوجھ کا نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی طرف قدم ہے۔
تعلیم کوئی عارضی سرگرمی نہیں کہ حالات کے مطابق اسے روکا یا چلایا جائے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر یہ سفر رُک جائے تو اس کا نقصان فوری نظر نہیں آتا مگر وقت کے ساتھ ایک پوری نسل اس کی قیمت چکاتی ہے۔ اگر واقعی ہم ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ تعلیم کوئی آپشن نہیں بلکہ بنیاد ہے اور حالات جیسے بھی ہوں، تعلیمی نظام کو جاری رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔کیا ہم واقعی پٹرول بچا رہے ہیں یا اپنی آنے والی نسلوں کے خواب جلا رہے ہیں؟یہ صرف ایک فیصلہ نہیں۔۔۔ بلکہ پوری قوم کی سوچ کا معیار کا پتہ دیتا ہے۔


