تمام ایرانی شہریوں کے رہائشی اجازت نامے منسوخ۔ گولڈن ویزے بھی۔ وہ ویزے جن کے ساتھ ننانوے سال رہائش کا وعدہ تھا۔ بغیر وضاحت۔ بغیر اطلاع۔ بغیر عدالت۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امارات نے تقریباً پانچ سو تیس ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے ضبط کر لیے۔ (خبر تہران ٹائمز، اور تسنیم کی ہے سو رقم کے حوالے سے مبالغہ آرائی کا اندیشہ ہے تاہم منسوخی بہت سے سورسز سے ثابت ہو رہی ہے)، صدارتی سفارتی مشیر انور قرقاش نے مزید مطالبہ کیا: ایران خلیجی ممالک کو جنگی تاوان ادا کرے۔
رکیں۔ یہ عدد دوبارہ پڑھیں۔ پانچ سو تیس ارب ڈالر۔ ایران کی جنگ سے پہلے کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً تین سو پچاس ارب ڈالر تھی۔ سالانہ آمدنی پینتالیس ارب۔ یعنی یہ رقم ایران کی بارہ سال کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اگر تسنیم اور تہران ٹائمز کی درست ہے تو یہ کسی ملک کے خلاف امن کے وقت کی سب سے بڑی مالیاتی ضبطی ہے۔ ہاں، اس عدد پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں نے اسے مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔ مگر وال سٹریٹ جرنل نے چھ مارچ کو بتایا تھا کہ امارات اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تین ہفتے بعد غور عمل میں بدل گیا۔
اب تفصیل سنیں۔
ستائیس مارچ سے اقدامات شروع ہوئے۔ پہلے ان ایرانیوں کے ویزے منسوخ کیے جو ملک سے باہر تھے۔ ایرانی تارکین وطن کے برقی ذرائع ابلاغ پر ہنگامہ برپا ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ ان کے زیر کفالت افراد کو “ویزا منسوخ” کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ اصل ویزا رکھنے والا ملک سے باہر تھا۔ ابوظہبی اور راس الخیمہ میں موجود بعض ایرانیوں کو چوبیس گھنٹے یا ایک ہفتے کا نوٹس دیا گیا۔ جمعے اٹھائیس مارچ سے دائرہ وسیع ہوا۔ اب ملک سے باہر موجود تمام ایرانیوں کی رہائش منسوخ کی جا رہی ہے۔ کمپنی مالکان بھی شامل ہیں۔ جائیداد رکھنے والے بھی۔ سنہری ویزے والے بھی۔
امارات حکومت نے کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا۔ نظام بظاہر معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے مگر عملاً منسوخی جاری ہے۔ یہ خلیجی ممالک کا پرانا طریقہ ہے۔ خاموش۔ بے آواز۔ دو ہزار سترہ میں قطری سفارتی بحران کے دوران بھی امارات نے قطری شہریوں کے سنہری ویزے ایسے ہی منسوخ کیے تھے۔ کوئی اعلان نہیں۔ کوئی وضاحت نہیں۔
مگر اس بار پیمانہ بالکل مختلف ہے۔
اٹھائیس فروری سے ایران نے امارات پر ہزار سے زائد ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔ امارات وزارت دفاع کے مطابق اٹھائیس مارچ تک تین سو اٹھانوے بیلسٹک میزائل، اٹھارہ سو بہتر ڈرون اور پندرہ کروز میزائل روکے گئے۔ مگر ملبہ شہروں پر گرا۔ دبئی ہوائی اڈے پر ملبہ گرا۔ پام جمیرہ اور برج العرب کے قریب نقصان ہوا۔ ابوظہبی میں ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔ ایک سو اٹھہتر زخمی ہوئے، انتیس مختلف قومیتوں سے۔ مجموعی طور پر گیارہ افراد جان سے گئے جن میں دو اماراتی فوجی شامل ہیں۔ دبئی مرینا میں ایک بلند عمارت کو نقصان پہنچا۔ سولہ مارچ کو ڈرون حملے سے تیل ٹینکر میں دھماکہ ہوا اور بھاری آگ لگی۔ ایلومینیم کے دو بڑے کارخانوں پر حملے ہوئے۔
امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا: “امارات دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکے گا۔” ایرانی حملوں کو “دہشت گردانہ حملے” قرار دیا۔ انور قرقاش نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ خلیج فارس میں طویل مدتی سلامتی کے حل کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ایسی جنگ بندی جو یہ مقصد پورا نہ کرے قابل قبول نہیں۔
اب سب سے اہم نکتہ۔
یہ اقدام صرف سزا نہیں ہے۔ حکمت عملی ہے۔ تین تہیں ہیں۔
پہلی تہہ: مالیاتی جنگ۔ ایران امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے امارات کو بطور راہداری استعمال کرتا رہا ہے۔ کاغذی کمپنیوں کے ذریعے تجارت، اثاثوں کی منتقلی، غیر ملکی کرنسی تک رسائی۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق اماراتی حکام ایرانی کاغذی کمپنیوں پر اثاثے منجمد کرنے اور مقامی ایرانی کاروباری جالوں پر وسیع مالیاتی شکنجہ کسنے کا جائزہ لے رہے تھے۔ اب جائزہ عمل بن گیا ہے۔ راستہ بند ہو گیا ہے۔
دوسری تہہ: سیاسی پیغام۔ امارات ایران کو بتا رہا ہے کہ ہماری سرزمین پر حملے کی قیمت صرف فوجی نہیں، معاشی بھی ہو گی۔ اثاثے، تاجر، شہری، سب داؤ پر ہیں۔
تیسری تہہ: قانونی نظیر۔ یہ سب سے خطرناک نکتہ ہے اور سب سے کم زیر بحث۔ سنہری ویزا دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو امارات کھینچنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ سرمایہ لگائیں، ننانوے سال رہائش لیں۔ آج اسی وعدے کو یکطرفہ طور پر توڑ دیا گیا ہے۔ بغیر وضاحت۔ بغیر عدالتی کارروائی۔ بغیر معاوضے۔ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ تاوان کے دعوے ہو سکتے ہیں مگر قومی سلامتی کے احکامات کے تحت کوئی عدالتی چیلنج کامیاب نہیں ہو گا۔
امارات نے جو بھی کیا ہے، اپنے ملکی مفادات کے حساب سے ٹھیک کیا ہے. یہ جنگ شاید امارات کو کھربوں میں پڑے کہ ان کی قومی سلامتی شدید خطرے میں ہے. جنگیں ہوں تو انسانی زندگیاں اسی طرح سے تڑختی ہیں.
ایک المناک پہلو بھی ہے۔ بہت سے ایرانی جو امارات میں رہتے ہیں تہران حکومت کے مخالف ہیں۔ ایران سے بھاگ کر آئے تھے۔ آیت اللہ کے نظام کے خلاف بولتے رہے۔ اب نکالے جا رہے ہیں۔ واپس جائیں تو کہاں جائیں؟ جس حکومت کے خلاف بولتے رہے اسی کے سامنے حاضر ہوں؟ یہ لوگ بے وطن ہو گئے ہیں۔ نہ وہاں کے رہے، نہ یہاں کے۔
ایران نے جوابی کارروائی کی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق بارہ سو اماراتی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے۔ مگر پیمانے کا موازنہ مضحکہ خیز ہے۔ امارات میں لاکھوں ایرانی رہتے ہیں۔ ایران میں اماراتی شہریوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
بڑی تصویر دیکھیں۔
یہ اقدام جنگ کی نوعیت بدل رہا ہے۔ اب تک جنگ فوجی تھی۔ میزائل، ڈرون، بمباری۔ اب جنگ معاشی ہو گئی ہے۔ اثاثے منجمد۔ ویزے منسوخ۔ تاوان کا مطالبہ۔ اگر باقی خلیجی ممالک نے بھی یہی راستہ اپنایا تو ایران کا وہ مالیاتی جال ٹوٹ جائے گا جو دہائیوں میں خلیج میں بُنا تھا۔ سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر سب پر ایرانی حملے ہوئے ہیں۔ سب نے اثاثے ضبط کیے تو ایران کی غیر ملکی کرنسی تک رسائی عملاً ختم۔
مگر ایک اور رخ بھی ہے۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے لیک ہونے والے پیغام میں امارات پر حملوں کی حمایت کی اور کہا: “متحدہ عرب امارات اور اسرائیل ایک ہی ہیں۔” علی لاریجانی نے شہادت سے پہلے اسلامی ممالک کو، خاص طور پر امارات کو سرزنش کی تھی کہ ایران کو چھوڑ کر امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تہران کا الزام ہے کہ تیرہ مارچ کو جزیرہ خارک پر امریکی حملے کا نقطہ آغاز امارات تھا۔ اسی لیے امارات کی تین بندرگاہوں سے انخلا کی ہدایت جاری ہوئی تھی۔
بات سادہ ہے۔
جب بم گرتے ہیں تو عمارتیں ٹوٹتی ہیں۔ جب ویزے منسوخ ہوتے ہیں تو زندگیاں ٹوٹتی ہیں۔ بم کا شور سنائی دیتا ہے۔ ویزے کی منسوخی خاموش ہوتی ہے۔ مگر تباہی اتنی ہی ہوتی ہے۔ بلکہ زیادہ۔ کیونکہ بم کے بعد لوگ مل کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ویزا منسوخ ہو تو آدمی اکیلا رہ جاتا ہے۔
اب شاید بہت سے لوگوں کا پاکستان کا مسئلہ سمجھ میں آئے گا کہ ہم کتنی بڑے منجدھار میں ہیں. عرب ملکوں سے اگر پاکستانیوں کو اس طرح واپس بھیجا گیا تو لاکھوں نہیں کروڑوں چولہے ٹھنڈے ہونے کا اندیشہ ہے.
محفوظ ملک صرف وہ ہے جہاں حقوق ہیں۔ جہاں قانون حفاظت کرتا ہے۔ جہاں آپ شہری ہیں، مہمان نہیں۔ باقی ہر جگہ کسی اور کی مہربانی پر زندگی ہے۔ مہربانی جب چاہے ختم ہو سکتی ہے۔ ننانوے سال کا وعدہ ایک رات میں ختم ہو سکتا ہے۔
یورپ نے دو ہزار بائیس میں روسیوں کو دکھایا۔ امارات نے آج ایرانیوں کو دکھا دیا۔ کل کسی اور کی باری ہے۔
اصل سرمایہ کاری اپنے ملک میں ہے۔ اپنی مٹی میں ہے۔ اپنے نظام میں ہے۔ باقی سب ریت ہے۔ خوبصورت ریت۔ چمکتی ریت۔ مگر ریت۔ مگر اپنے ملک کا نظام بھی ریت ہو تے فیر بندہ کتھے جاوے!


