بقا وفلاح ہر انسان کا مقصدِ زندگی ہے۔ انسان درحقیقت لازوال بقا وفلاح کا طالب ہے، مگر اس کا حصول اس کے بس میں نہیں۔ خالق کائنات اپنی کتاب، قرآن مجید میں یہ خبر دیتا ہے کہ انسان کے لیے دائمی بقا و فلاح کا حصول ممکن ہے ۔یہ منزل اسے اس کے رب کی خوش نودی سےحاصل ہوگی، جس کے لیے اسے اپنے نفس کا تزکیہ کرنا ہوگا ۔ اس تزکیہءِ نفس کی تکمیل کے لیے خدا نے ایک ہدایت نامہ بھیجا ہے، جسے دین کہتے ہیں۔ پھرجس نے تزکیہءِ نفس سے کام نہ لیا، اپنے نفس کو آلودہ کیا، اسے ابدی خسران کا سامنا ہوگا۔
تزکیہءِنفس تین پہلوؤں سے مطلوب ہے:
تزکیہءِ اخلاق
تطہیر بدن
تزکیہءِ خورونوش
آئندہ سطور میں زیر بحث موضوع، قانون وراثت، تزکیہ ءِ اخلاق سے متعلق ہے، اس لیے تزکیہءِ نفس کے دیگر دو پہلو بحث سے خارج ہیں۔
تزکیہءِ اخلاق کا مطلب ہے کہ خدا اور بندوں کے ساتھ معاملات میں انسان اخلاقی تقاضوں کی پاس داری عدل و احسان کے مطابق کرے اور حق تلفی اور زیادتی سے اجتناب کرے۔
تزکیہءِ اخلاق سے متعلق اصولی آیت درج ذیل ہے:
إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَٰنِ وَإِيتَآيِٕ ذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِ وَٱلۡبَغۡيِۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ [النحل: 90]
“بے شک، اللہ (اِس میں) عدل اور احسان اور قرابت مندوں کو دیتے رہنے کی ہدایت کرتا ہے اور بے حیائی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔”
مالی معاملات کا تعلق عدل و احسان سے بھی ہے، اور ایتائے ذی القربی سے بھی اور منفی طور پر حق تلفی (منکر) اور زیادتی ( بغی ) سے بھی۔ یہ بنیادی طور پر بندوں سے متعلق ہیں، لیکن خدا نے ان سے وابستہ اخلاقی تقاضوں اور ان پر مبنی ضابطوں کی پابندی کا حکم دے کر انھیں خود سے بھی متعلق کر لیا ہے۔ چنانچہ ان کے بارے میں انسان خدا کو جواب دہ ہے۔ اب یہ امتحان ہے جو انسان کو درپیش ہے، جس کا نتیجہ اس کی کامیابی یا ناکامی کی دو میں سے ایک صورت میں نکلے گا۔
مال و دولت انسان کی بقا اور آسایش کا سبب ہیں۔ اس کی شدید ضرورت اس سے شدید محبت پیدا کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان اگر دوسروں کی حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے اتر آئے تو اپنے نفس کو بخل،لالچ اور ظلم سے آلودہ کر لیتا ہے۔ چنانچہ خدا نے انسان کو تنبیہ کرتے ہوئے، ازراہِ شفقت کچھ نصیحتیں کی ہیں اور کچھ حدود مقرر کیے ہیں، جن کی خلاف ورزی قابل مواخذہ اور قابل سزا جرم ٹھہرا دی ہے۔
مثلاً، ادھار کے لین دین کے معاملے کو ضبط تحریرمیں لانے اور اس کے لیے گواہ بنانےکی نصیحت کی ہے۔ گواہ بنانے میں عورت کا انتخاب کرنا پڑے تو ایک کی بجائے دو عورتوں کو منتخب کرنے کی ہدایت کی ہے کہ درپیش حالات میں ایک عورت اپنی ناتجربہ کاری کے سبب گواہی اور جرح کے موقع پر گھبرا جائے تو دوسری اس کا سہارا بن سکے۔ ان نصائح کا مقصد مسلمانوں کے درمیان تنازعات کا سد باب ہے، تاکہ ان کے دل بغض و عداوت سے آلودہ نہ ہوں۔
دوسری طرف تنبیہ کی گئی کہ دوسروں کا مال باطل طریقوں سے کھانا منع ہے۔ چنانچہ کم تولنے، رشوت دے کر دوسروں کا حق مارنے، یتیم کا مال دبا لینے، اور حق مہر دینے میں بخل سے کام لینے سے منع کیا ہے۔ جوئے اور سود کو ممنوع قرار دیا ہے۔ چوری اور ڈاکہ زنی کی سزائیں مقرر کیں ہیں اور مال غنیمت کی تقسیم اور قانون وراثت دے کر مالی تنازعات کو رفع کیا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر مثبت طور پریہ حکم دیا کہ اپنے زائد مال کا ایک حصہ لازماً ضرورت مندوں کی بہبود میں خرچ کریں، بلکہ اپنی ضرورتوں سے زائد سارا مال خدا کی خوش نودی کی خاطر اس کے ضرورت مند بندوں کی بہبود میں خرچ کر دیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے خرچ کریں تو یہ نیکی کا اعلی درجہ ہے۔
درج بالا مثالوں میں معاملات کی نوعیت، سنجیدگی اور پیچیدگی کا فرق ہے جو ایک معاملے کو نصیحت و ارشاد کے دائرے میں رکھتا ہے اوردوسرے کو قانون، گناہ اور جرم کے دائرے میں لے جاتا ہے۔ چنانچہ فرد اگر اعتماد کا ماحول پا کر ادھار کا معاملہ بغیر کتابت اور گواہوں کے کرنا چاہے، یا مالی معاملات کو سمجھنے والی، پر اعتماد اور تجربہ کار خواتین دستیاب ہو جائیں اور وہ فقط انھیں گواہ مقرر کر لے، تو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن قانون کے دائرے حدود اللہ ہیں جن میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی، چنانچہ قانون وراثت دینے سے پہلے اس کی فرضیت کو متحقق کرتے ہوئے فرمایا:
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا (النساء 4: 7)
“(تمھارے) ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں، اُس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور (تمھارے) ماں باپ اور اقربا جوکچھ چھوڑیں، اُس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک متعین حصے کے طور پر۔”
پھر قانون وراثت کے بیان کے بعد بتایا کہ یہ حدود اللہ میں سے ہے، چنانچہ جس نے اطاعت کی اسے ابدی کامیابی ملے گی اور جس نے نافرمانی کی راہ اختیار کی اسے ابدی خسران کا سامنا ہوگا:
تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ (النساء 4: 13-14)
“یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن کا لحاظ کرو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی ٹھیرائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنھیں وہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔”
خدا کے ان ارشاد و قوانین سے خدا کی رحمت و شفقت، اس کے علم و حکمت اور اس کے عدل و انصاف کا اظہار ہوتا ہے۔
جاری۔۔۔


