لبرل ورلڈ آرڈر اور امریکی بالادستی کے چھ ستون/ذیشان ہاشم

امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی بڑی جنگ میں وقتی طور پر فیصلہ کن اسٹریٹجک فتح حاصل نہیں کی۔ ویت نام جنگ، افغانستان جنگ، عراق جنگ، اور اب ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی—ان سب میں واشنگٹن عسکری برتری کے باوجود کوئی وقتی اسٹریٹجک کامیابی (جیسے ایران میں رجیم چینج ، عراق میں صدام حسین کے بعد امن اور سیاسی استحکام ) حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس، چھوٹے اہداف اور محدود مدت والی جنگوں میں اسے کامیابی ضرور ملی—جیسے 1991 کی خلیجی جنگ، جس میں امریکی افواج نے چند سو گھنٹوں میں عراق کو کویت سے نکال دیا، یا 1983 کی گریناڈا اور 1989 کی پانامہ آپریشن—مگر یہ کارروائیاں tactical نوعیت کی تھیں، اسٹریٹجک جنگیں نہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ناکامیوں نے امریکی سپرپاور اسٹیٹس کو طویل المدت نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی جنگیں عسکری مقاصد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لڑی جاتی ہیں—اور یہ سیاسی مقاصد بالآخر امریکہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ویت نام ہے۔ اگرچہ امریکہ عسکری اعتبار سے ویت نام میں بری طرح ناکام ہوا، مگر ویت نام جنگ کے سبب اتنا کمزور ہو گیا کہ اسے دوبارہ مستحکم ہونے اور چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے بالاخر امریکی بلاک میں شامل ہونا پڑا—اور یہی امریکہ کا ابتداء سے مقصد تھا۔
امریکی عالمی بالادستی دراصل چھ بڑے ستونوں پر کھڑی ہے:
لیجیٹیمیسی (legitimacy ) — دنیا کے ممالک کی ایک بڑی اکثریت امریکہ کو سپر پاور تسلیم کرتی ہے اور امریکی ورلڈ آرڈر کو قبول کرتی ہے –
ملٹری پاور — دنیا کی سب سے مضبوط، ٹیکنالوجی سے لیس اور ہمہ جہت فوجی صلاحیت۔
معاشی طاقت اور ڈالر کی بالادستی — ععالمی معیشت کے قواعد، فنانشل سسٹم، بین الاقوامی ادارے (IMF، ورلڈ بینک)، SWIFT، اور ڈالر کی عالمی حیثیت—یہ سب امریکہ کو وہ مالی قوت دیتے ہیں جو عسکری طاقت سے زیادہ فیصلہ کن ہے۔
عالمی اتحادی نظام — یورپ اور نیٹو جیسے مضبوط سیاسی و عسکری اتحاد، جو تاریخ میں کسی ایک طاقت کو کبھی میسر نہیں آئے۔
داخلی سیاسی استحکام : ملک میں جمہوریت ہے مستحکم ہے اور حکومتوں کے آنے جانے سے سیاسی نظام کو کوئی خطرہ نہیں –
نظریاتی بنیاد — “فریڈم”، “ڈیموکریسی” اور “ہیومن رائٹس” جیسے بیانیے امریکہ کے لیے عالمی سطح پر soft power اور اخلاقی جواز پیدا کرتے ہیں—اور اسی بیانیے کی وجہ سے اس کا ورلڈ آرڈر بھی جو ٹرمپ کے آنے سے پہلے موثر تھا لبرل ورلڈ آرڈر کہلاتا تھا –
افغانستان اور عراق میں ناکامی کے باوجود امریکہ کی سپرپاور حیثیت اس لیے متاثر نہیں ہوئی کہ یہ چھ ستون مضبوط رہے۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان ستونوں میں خاصی کمزوری آئی—خصوصاً اتحادی نظام اور عالمی legitimacy میں—لیکن یہ ستون ٹوٹے نہیں، اور نہ ہی ان کا اس وقت دنیا میں کوئی متبادل موجود ہے۔ چین اگرچہ معاشی طاقت بن چکا ہے، مگر فوجی، نظریاتی، اور اتحادی نظام کے معاملے میں وہ امریکہ کے مقابلے میں ابھی کہیں نہیں کھڑا، اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ظاہر کرتا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران اور وسیع تر خطے میں اپنے سیاسی اہداف کس طریقے سے حاصل کرے گا؟۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری سرد جنگ کا اختتام بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف ایران کو بھی یہ واضح اندازہ ہو چکا ہے کہ چین اور روس جیسے اتحادی اس کے لیے عملی، مالی یا عسکری سطح پر فیصلہ کن مدد فراہم نہیں کر سکتے—ان کی معاونت زیادہ تر انٹیلیجنس شئیرنگ ، سفارتی بیانیے اور محدود تکنیکی تعاون تک محدود رہے گی۔ اس کے برعکس، اقتصادی بحالی، ریاستی تعمیرِ نو، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور دفاعی صلاحیت کی دوبارہ تشکیل—یہ تمام ذمہ داریاں ایران کو اپنی محدود داخلی وسائل کے ساتھ خود ہی نبھانی ہوں گی، خاص طور پر اس وقت جب اس کا فوجی اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہو چکا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اندرونی دباؤ بھی بڑھنے کا واضح امکان ہے۔ ایرانی عوام جلد ہی دوبارہ معاشی بحالی، روزگار، مہنگائی میں کمی اور شہری حقوق کا مطالبہ کریں گے، اور یہ داخلی سیاسی پریشر ریاست کے لیے ایک نیا چیلنج بن جائے گا—خاص طور پر اس تناظر میں کہ ایک جنگ سے تباہ کن ، تھکی ہوئی معیشت اور کمزور عسکری صلاحیت داخلی بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ خلیجی ممالک—جو ایران کے لیے تجارت، بین الاقوامی پیمنٹ چینلز اور بنیادی لاجسٹک سپورٹ کے اہم راستے تھے—مسلسل حملوں کے باعث ایران کے لیے اب شاید میسر نہ رہیں ۔ دبئی، قطر اور عمان ایران کے لیے وہ سہولتیں فراہم کرتے تھے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود سانس لینے کا موقع دیتی تھیں؛ لیکن موجودہ صورتِ حال میں یہ راستے محدود ہو گئے ہیں یا مکمل طور پر بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اگر چین اور روس—اپنے اسٹریٹجک مفادات کے باوجود—ایران جو ان کا سب سے بڑا پارٹنر ہے ، کو خاطر خواہ معاشی، عسکری یا لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے سے گریز کرتے رہے، تو ایران ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں اسے عملی ضرورتوں کے تحت عالمی نظام کے اندر کسی نہ کسی صورت امریکی معاشی و جغرافیائی فریم ورک سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا—بالکل ویسے ہی جیسے ویت نام بالآخر امریکہ کے ساتھ جا کھڑا ہوا تھا؛ نظریاتی طور پر مخالف، مگر عملی تقاضوں کے تحت امریکی عالمی نظام پر انحصار کرنے والا۔ اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے امریکہ اپنی بالادستی قائم رکھتا ہے

بشکریہ فیس بک وال

اپنا تبصرہ لکھیں