بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے کے لیے بعض اوقات ایک خوبصورت استعارہ پوری حکمتِ عملی کو عیاں کر دیتا ہے۔ امریکہ کی ایران کے خلاف پالیسی کو بیان کرتے ہوئے معروف امریکی تجزیہ کار فرید زکریا نے ایک ایرانی اسکالر کے جملے کا حوالہ دیا۔ موسیقی سے میری ذاتی دلچسپی کی وجہ سے مجھے یہ جملہ بہت پسند آیا، جو کہ اس وقت امریکی پالیسی سازی کا مکمل احاطہ کرتا ہے، جو بلاشبہ احمقوں کے ہاتھ میں ہے۔
“Regime change by jazz improvisation”
یہ بظاہر ایک ادبی اور دلچسپ جملہ ہے، مگر درحقیقت اس میں جدید عالمی سیاست کی ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے۔ جاز موسیقی میں امپرووائزیشن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بنیادی دھن تو موجود ہوتی ہے، لیکن موسیقار حالات کے مطابق نئے سُر شامل کرتا جاتا ہے۔ یہی طریقۂ کار بعض ناقدین کے مطابق امریکہ کی ایران کے بارے میں حکمتِ عملی میں بھی نظر آتا ہے—مقصد کہیں نہ کہیں طاقت کے توازن کو بدلنا اور ایرانی نظام کو کمزور کرنا، مگر طریقے مسلسل بدلتے رہنا۔
گزشتہ چند دہائیوں میں واشنگٹن کی ایران کے حوالے سے پالیسی میں ایک بنیادی تسلسل ضرور دکھائی دیتا ہے۔ ایران خطے میں ایک اہم طاقت ہے جس کا اثر و رسوخ خلیج سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے مختلف تنازعات تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی پالیسی ساز اسے خطے میں اپنے مفادات کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن اس چیلنج سے نمٹنے کے طریقے کبھی ایک جیسے نہیں رہے۔ کبھی اقتصادی پابندیاں، کبھی سفارتی دباؤ، کبھی خفیہ کارروائیاں اور کبھی خطے میں اتحادیوں کے ذریعے دباؤ—یہ سب اقدامات ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے ایک ہی دھن پر مختلف سُر آزمائے جا رہے ہوں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جاز کا استعارہ پوری طرح سمجھ میں آتا ہے۔ جاز موسیقی میں کوئی فنکار اچانک سیکسوفون پر نئی لائن چھیڑ دیتا ہے، پیانو بجانے والا اس کے جواب میں ایک اور نیا سُر شامل کر دیتا ہے، اور یوں موسیقی کا بہاؤ لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ عالمی سیاست میں بھی بڑی طاقتیں اکثر اسی انداز میں فیصلے کرتی ہیں۔ حالات بدلتے ہیں، ردِعمل سامنے آتا ہے اور حکمتِ عملی بھی بدل جاتی ہے۔ بظاہر یہ لچکدار حکمتِ عملی لگتی ہے، مگر بعض اوقات یہی چیز پالیسی کو غیر واضح اور متضاد بھی بنا دیتی ہے۔
امریکی پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ابتدا میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ سخت اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معیشت کمزور ہوگی اور اندرونی سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس کے بعد یہ توقع بھی ظاہر کی گئی کہ عوامی ناراضگی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن جب یہ توقعات مکمل طور پر پوری نہ ہوئیں تو بیانیہ بدلتا رہا۔ کبھی کہا گیا کہ مقصد صرف ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے، کبھی یہ اشارہ دیا گیا کہ مسئلہ دراصل خطے میں اس کے اثر و رسوخ کا ہے، اور کبھی براہِ راست حکومت کی تبدیلی کی بات بھی سامنے آ گئی۔
یہ صورتحال ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ عالمی سیاست میں اکثر ایک ہی بحران کے اندر مختلف فریقوں کے مقاصد بھی مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کی ترجیحات بعض اوقات امریکہ سے زیادہ واضح اور سخت دکھائی دیتی ہیں۔ اسرائیل کے لیے ایران ایک براہِ راست سکیورٹی چیلنج سمجھا جاتا ہے، جبکہ امریکہ کے لیے یہ مسئلہ خطے کے وسیع تر توازنِ طاقت اور عالمی سفارتی حساب کتاب سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے مقاصد کبھی ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کبھی ان میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
اس پورے معاملے کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ کسی ریاستی نظام کو کمزور کرنا یا اسے گرانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ اس کی کئی مثالیں پیش کرتی ہے۔ جب کسی مضبوط ریاستی ڈھانچے میں اچانک دراڑ پڑتی ہے تو نتیجہ اکثر سیاسی انتشار، علاقائی تقسیم اور طویل خانہ جنگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ شام، لیبیا اور عراق اس کی موجود مثالیں ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ایران جیسے بڑے اور پیچیدہ ملک میں اچانک طاقت کا خلا پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات صرف اس ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام میں دھکیل سکتے ہیں۔
ایران کی جغرافیائی وسعت، اس کی آبادی، اس کا تاریخی قومی تشخص اور خطے میں اس کے اتحادی اسے ایک معمولی ریاست نہیں بناتے۔ اس کے اندر سیاسی اختلافات اور معاشی مسائل ضرور موجود ہیں، مگر اس کے باوجود ریاستی ڈھانچہ کافی مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے باوجود فوری اور مکمل نظامی تبدیلی کا تصور حقیقت سے کچھ دور دکھائی دیتا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہوتا بھی ہے تو اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے “Regime change by jazz improvisation” کا استعارہ بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ اس میں ایک بنیادی مقصد ضرور موجود ہے، مگر اس مقصد تک پہنچنے کے راستے واضح اور متعین نہیں بلکہ مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی اقتصادی دباؤ، کبھی سفارتی محاذ آرائی، کبھی پراکسی تنازعات اور کبھی براہِ راست عسکری دھمکیاں—یہ سب مل کر ایک ایسی حکمتِ عملی بناتے ہیں جو بظاہر لچکدار تو ہوتی ہے مگر اس کے نتائج ہمیشہ قابلِ پیش گوئی نہیں ہوتے۔
عالمی سیاست میں شاید یہی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ طاقتور ریاستیں بھی مکمل یقین کے ساتھ مستقبل کی پیش گوئی نہیں کر سکتیں۔ وہ مختلف راستے آزماتی ہیں، مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کرتی ہیں اور حالات کے مطابق اپنے فیصلے بدلتی رہتی ہیں۔ جاز موسیقی کی طرح اس کھیل میں بھی دھن ایک ہی رہتی ہے مگر سُر بار بار بدلتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ جاز کے اس عالمی اسٹیج پر اگر کوئی غلط سُر لگ جائے تو اس کی گونج صرف ایک کنسرٹ ہال تک محدود نہیں رہتی بلکہ پوری دنیا کی سیاست اور معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔
اور یہی کچھ اس وقت ہو رہا ہے۔


