لکھنا نہیں چاہتا تھا۔۔لیکن آج کل کی ایک “کھڑکی توڑ” بحث (کسی زمانے میں فلموں کے بلاک بسٹر ہونے کے لئے کھڑکی توڑ لفظ استعمال ہوتا تھا ) کہ آدم علیہ السلام پہلے پیدا ہوئے یا حوا ( یعنی پہلے مرد یا عورت ) تو سوچا ہر چیز کے لئے تجربات ضروری نہیں، علم وحی Absolute ہے۔ سائنس ارتقائی۔۔ گو کہ ایک وقت آئے گا کہ خدا کو نہ ماننے والے بھی مردہ کو زندہ کر سکیں گے۔۔ اس حد تک اللہ کریم خلیفے طاقتور کر دیں گے۔۔ اس وقت زمینی خلیفے “دجال” ہوں گے ۔۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ انسان اپنی تحقیقاتی جستجو سے کیا کیا نیا ( جدید) ڈھونڈتا جائے گا مگر یہی ارتقاء ہے ۔۔ کیونکہ
سکُوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں۔۔۔
لیکن یہ تحریر خالصتاً ان لوگوں کے لیے ہے جو قرآنِ کریم پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ جن کے دلوں میں کوئی شک یا ابہام (الجھن) ہے، ان سے پیشگی معذرت کہ یہ علمی بحث ان کے فہم (سمجھ) سے بالاتر ہو سکتی ہے۔
آج کی جدید جینیات (Genetics) جب انسانی نسل کے آغاز کا پیچھا کرتی ہے، تو وہ ایک ایسی جڑی اکائی پر پہنچتی ہے جسے سائنسدانوں نے “Mitochondrial Eve” (مائٹو کونڈریل حوا) کا نام دیا ہے۔ یہ وہ “مشترکہ ماں” ہے جس کا ڈی این اے آج روئے زمین پر موجود ہر انسان کے خلیے میں موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم جب انسانیت کی ابتدا کا ذکر کرتا ہے، تو لفظ “نفسِ واحدہ” (اکلوتی جان) استعمال کرتا ہے، جو عربی لغت کے لحاظ سے مؤنث (عورت کے لیے استعمال ہونے والا صیغہ) ہے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ”
(اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا – سورۃ النساء: 1)۔
یہاں تک کہ لفظ “خلافت” (نائب ہونا) بھی اپنی لسانی ساخت میں تانیث (مؤنث صفت) کا حامل ہے، جس کا ذکر اللہ نے یوں فرمایا:
“إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً”
(بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں – سورۃ البقرہ: 30)۔
سائنسی تحقیقات کے مطابق، اس “جینیاتی ماں” کا ٹائم فریم (دورانیہ) تقریباً 150,000 سے 200,000 سال پہلے کا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں “جینیاتی آدم” (Y-Chromosomal Adam) کا سرا محض 60,000 سے 90,000 سال پہلے تک ملتا ہے۔ وقت کا یہ بہت بڑا فرق اور مردانہ صنف کی علامت، یعنی Y-Chromosome کا مسلسل سکڑنا اور معدومیت (ختم ہونے) کی طرف مائل ہونا، پہلی نظر میں ایسا تاثر دیتا ہے کہ شاید کائنات کا “ڈیفالٹ ڈیزائن” (بنیادی ڈھانچہ) تانیث ہی تھی اور مرد محض ایک ثانوی ضرورت کے طور پر بعد میں لایا گیا۔
لیکن کیا خالقِ کائنات کے پاس الفاظ کی کمی تھی جو اس نے صیغہ مؤنث چنا؟ ہرگز نہیں! زمین پر خلافت (انتظامِ عالم) کے لیے اللہ پاک کسی صنف (Gender) کا محتاج نہیں ہے، وہ “فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ” (جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے – سورۃ البروج: 16) ہے۔ وہ قادر ہے کہ ایک صنف سے دوسری صنف نکالے اور جب چاہے نظام کو پلٹ دے۔
اب آئیے اس بحث کے اس رخ پر، جو مبہم (غیر واضح) آیات سے نہیں بلکہ قطعی اور واضح حقائق سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ التین میں چار عظیم الشان نشانیاں بیان فرما کر انسان کی برتری کا اعلان فرمایا۔
وہ چار قسمیں یہ ہیں: التین (انجیر-حضرت عیسیٰؑ)، الزیتون (زیتون-سرزمینِ شام)، طور سینین (طورِ سینا-حضرت موسیٰؑ) اور البلد الامین (امن والا شہر مکہ-سید الانبیاءﷺ)۔ ان عظیم قسموں کے فوراً بعد فرمایا: “لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ” (بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت اور نمونے پر پیدا کیا – سورۃ التین: 4)۔
علماءِ کرام اور اکابرین (جیسے امام قسطلانیؒ نے ‘المواہب اللدنیہ’ میں بیان کیا) حدیثِ نور کی شرح میں ایک نہایت عمیق (گہری) حکمت بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز (لوح و قلم، عرش و کرسی، ملائکہ اور کائنات کا ذرہ ذرہ) اپنے محبوبﷺ کے نور سے پیدا فرمایا۔ اللہ قادرِ مطلق تھا کہ وہ ملائکہ کو الگ نور سے بناتا اور آدمؑ کو جداگانہ جوہر سے وجود بخشتا، لیکن اس کی حکمت یہ تھی کہ اگر وہ سب کو الگ الگ پیدا کرتا، تو ہر مخلوق اپنی جگہ ہمسری (برابری) کا دعویٰ کر سکتی تھی کہ “ہمیں بھی نبی کریمﷺ کی طرح جداگانہ وجود دیا گیا ہے”۔ اللہ نے ہر شے کو اپنے محبوبﷺ کے نور سے برآمد کیا تاکہ ازل سے ابد تک یہ ثابت رہے کہ آپﷺ ہی تمام کائنات کی “اصل” ہیں اور باقی سب آپﷺ کے “تابع” ہیں۔
اسی لیے، جب اس “نورِ اول” نے زمین پر خلافت اور رہنمائی کے لیے انسانی روپ دھارا، تو اللہ نے اس کے لیے مردانہ صنف (مذکر روپ) کا انتخاب فرمایا۔ یہ ایک واشگاف پیغام ہے کہ کائنات کا “مرکزی پوائنٹ” اور “سب سے کامل نقشہ” صنفِ مذکر میں ظاہر ہوا۔ یہ ناممکن ہے کہ اللہ نے مادی دنیا کی ابتدا کے لیے پہلے عورت کو “کامل” بنایا ہو اور پھر اپنے محبوبﷺ کو اس سے (معاذ اللہ) کسی کم درجے کی صنف میں پیدا کر کے بھیجا ہو۔ آقا کریمﷺ کا مردانہ روپ میں آنا اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ نے خلافت اور کمالِ انسانیت کے لیے جس صنف کو “غالب اور نمایاں” بنایا، وہی “احسنِ تقویم” ہے۔
ایک جاندار عقلی اور سائنسی حقیقت یہ بھی ہے کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اپنی (پسندیدہ) صورت پر پیدا فرمایا (صحیح بخاری: 6227)۔ اگر مائٹو کونڈریا مادی بقا (جسمانی تسلسل) کی لڑی ہے، تو “احسنِ تقویم” وہ روحانی اور جسمانی کمال ہے جو مرد (آدم) میں ظاہر ہوا۔ سائنس مٹی اور خلیوں کی تاریخ بتاتی ہے، جبکہ قرآن “مرتبہ و مقام” کا تعین کرتا ہے۔
مرد کا “قوام” (نگہبان/منیجر) ہونا یا احسنِ تقویم کا مرکز ہونا اس کی جسمانی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس “جنسِ اقدس” کی نسبت سے ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنے آخری نبیﷺ کے لیے پسند فرمایا۔ اللہ نے آدمؑ کو “اصل” (Source) بنایا اور عورت (حواؑ) کو ان کے مادی وجود کے خلیاتی نچوڑ (Abstract/Stem Cells) سے تخلیق فرمایا تاکہ مرد کی قوامیت (سربراہی) کی ابتدا ہو اور صنفِ مخالف کے درمیان وہ سکون رہے جو ایک ہی جڑ سے ہونے کی صورت میں ہوتا ہے۔
یہ ناممکن ہے کہ تخلیق کی جڑ (نفسِ واحدہ) اگر تانیث (عورت) کے کمال پر ہوتی، تو اللہ اس کے ثمر (پھل یعنی محمدﷺ) کو کسی دوسری صنف میں ظاہر کرتا۔ لہٰذا، یہ ماننا پڑے گا کہ اللہ نے جس روپ کو “احسنِ تقویم” کہا، وہی روپ روزِ اول سے خلافت کا اصل حقدار اور کائنات کا مرکز و محور تھا۔ مادی دنیا میں جینیاتی (خلیاتی) تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، لیکن اللہ کا پسندیدہ “خالقانہ شاہکار” وہی ہے جو محمدِ عربیﷺ کی صورت میں جلوہ گر ہوا۔
“بعد از خدا بزرگ توئی، قصہ مختصر”۔


